ہفتہ‘ 8؍ جمادی الاوّل 1436ھ ‘ 28؍ فروری 2015ء

ہفتہ‘ 8؍ جمادی الاوّل 1436ھ ‘ 28؍ فروری 2015ء

میرے اپنے انگوٹھے کے نشان کی تصدیق نہیں ہو رہی : چیئرمین پی ٹی اے!
اسی لئے کہتے ہیں …؎
کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے
کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے
چیئرمین پی ٹی اے اپنے سسٹم کے ناقص ہونے کا بڑے احسن انداز میں ذکر کر گئے ہیں۔ انہوں نے دبے لفظوں میں کہا کہ پریشان نہ ہوں یہ بائیو میٹرک مشینیں تو میری بھی تصدیق نہیں کر رہیں کہ میری سم ایک نمبر طریقے سے جاری ہوئی ہے یا دو نمبر سے۔ ڈاکٹر اسماعیل نے حقیقت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ کہا ہے کہ تصدیق کا دوسرا مرحلہ 14 مارچ تک ہے، مطلب یہ کہ عوام کی جیبوں میں 10 سے 50 روپے نکلوانے کا وقت ابھی ختم نہیں ہوا۔ 5 سمیں تصدیق کروائیں تو فرنچائز والے 50 روپے وصول کرتے ہیں اگر لوکل دکاندار کے ہتھے چڑھ گئے تو وہ ڈبل یعنی ایک سم کے 20 روپے لیتے ہیں۔ اسی لئے چیئرمین صاحب نے مبہم انداز میں کہا ہے کہ ابھی تجوریاں بھری نہیں ’’ھل من مزید‘‘ کی صدا آئی ہے۔ صارفین پریشان ہوں نہ ہی دو نمبر دھندہ کرنے والے بہروپیے کیونکہ ابھی چاندنی کی راتیں ختم نہیں ہوئیں، لوگوں کو مزید لوٹ لیں، معصوموں کو ماموں بنا کر رفو چکر ہو جائیں اور تخریب کار عناصر بھی مت گھبرائیں کیونکہ پی ٹی اے نے ا نہیں مزید مہلت دے دی ہے۔
پشاور سانحہ کے بعد غیر تصدیق شدہ سموں کو فی الفور بند کر کے بائیو میٹرک سسٹم کے تحت اجرا کیا جانا چاہئے تھا لیکن ہماری حکومت آئیں بائیں شائیں سے کام لے رہی ہے۔ اس سے قبل سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سم بھی تصدیق نہیں ہوئی تھی وہ بھی مشکوک ٹھہرے۔ اس سسٹم میں ایک اور خرابی ہے کہ آپ ایک کمپنی کی سم تصدیق کروائیں تو دوسری کی ہو جاتی ہے حالانکہ آپ نے وہ نمبر تصدیق نہیں کروایا ہوتا۔ اس خرابی کا بھی سدباب کیا جائے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
نادرا کا کارنامہ، بھارتی خاندان کو قومی شناختی کارڈ جاری کر دئیے!
نادرا کا تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، بڑی مشکل سے ایک ادارہ سامنے آیا تھا جس کی باہر کی دنیا میں بھی گونج سنائی دی تھی۔ بنگلہ دیش نے نادرا کے سسٹم سے متاثر ہو کر اس نظام کو اپنے ہاں بھی لاگو کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن اس میں بھی سیاست آ گئی اور ایک کے بعد دوسرے سربراہ کو کھینچ باہر نکال دیا گیا تو پھر ادارے کا یہی حال ہونا تھا۔ اصل میں ہمارے حکمرانوں کو چیئرمین نادرا سے شکوہ تھا کہ وہ بک رہے تھے نہ ہی جھکتے تھے اور پھر حکمرانوں کو یہی ایک بات گراں گزری …؎
حکمرانوں کو یہی بات گراں گزری ہے
کیوں خریدے نہ گئے طاقتِ زر سے ہم لوگ
حکمران جب انہیں خرید نہ سکے پھر ریفرنس کے ذریعے نکالنا تو ضد بن جاتا ہے اور حکمران سیاسی انگلی سے گھی نکالتے ہیں۔ اگر اس میں کامیاب نہ ہوں تو پھر ٹیڑھی انگلی سے نکال کر اسے باہر پھینکتے ہیں۔ نادرا کے چیئرمین کے ساتھ بھی یوں ہی ہوا تھا اب اس کے بعد تو 2 نمبر طریقے سے جیسے مرضی کارڈ بنوا لیں۔
بھارتی خاندان کے کارڈ کا کیس تو سامنے آ گیا ہے لیکن کراچی میں بنگالی اور افغانی ایسے ہزاروں افراد ہیں جن کی چور بازاری ابھی سامنے نہیں آئی، جس وقت تک کسی ادارے سے سیاسی دخل اندازی ختم نہیں ہو گی تب تک چور بازاری پر قابو پانا مشکل ہے۔ حقیقت یہی ہے …ع
جو چپ رہے گی زبان خنجر‘ لہو پکارے گا آستین کا
اور نادرا کے حالات اس بات کی چغلی کھا رہے ہیں کہ معاملات کافی حد تک بگڑ چکے ہیں۔ 50 ہزار سے لیکر 5 لاکھ روپے تک میں شناختی کارڈ بنوانے کی ابھی بھی بولیاں لگتی ہیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافے کی منظوری!
غریب لوگوں کے گھروں میں اب دھمالیں ڈالی جائیں گی۔ واہ غریب لوگو واہ۔ آپ کو 100 فیصد تنخواہ پر سو فیصد مبارک ہو۔ پنجاب اسمبلی کے 371 غریب غربا کے گھروں میں اب دیسی گھی سے دئیے جلیں گے۔ سو فیصد تنخواہ میں اضافہ کمال کی بات ہے۔ ڈپٹی سپیکر اسمبلی پنجاب اسمبلی نے رولنگ دیکر کمال کر دیا ہے۔ ویسے جب سپیشل 6 رکنی کمیٹی بنی تھی تب ہی پتہ چل گیا تھا کہ …ع
سچی گل محمد بخشا اندروں گئی اے مُک
ارکان نے کمیٹی میں سازباز کر کے اپنے پیٹ مزید بڑھا لئے ہیں۔ پنجاب کے دیگر غریب غربا جائیں بھاڑ میں، پہلے اپنا پیٹ بھرا ہو گا تو وہ دوسروں کے بارے میں بات نکلے گی۔ اگر آدمی خود ہی بھوکا ہو گا تو دوسروں کے حقوق کی بات کیسے کر سکے گا۔ اس لئے سب سے پہلے ہر کسی نے اپنے گھر دیا روشن کرنے کی بات کی ہے۔ خیبر پی کے اسمبلی میں تنخواہیں بڑھی تھیں تو ہمارے وزیر اطلاعات پرویز رشید نے ’’پَر‘‘ پھڑپھڑائے تھے اور اس پر کافی واویلا بھی کیا گیا۔ خود (ن) لیگی ایم این ایز اور ایم پی ایز نے بھی اس پر طرح طرح کی باتیں کیں، تحریک انصاف کی تبدیلی کے خوب لتے لئے تھے لیکن اب سب نے منہ میں گھنگنیاں ڈال لی ہیں، کوئی ایک بھی نہیں بولا۔ پرویز رشید بھی خاموش ہیں، شاید انہیں نئی ڈیوٹی سے فرصت نہ ملی ہو۔ اس پر انہوں نے کہنا تھا 371 ارکان اسمبلی کے ساتھ بھی پیٹ لگے ہوئے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی سو فیصد اضافے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے تو ان کے ساتھ بھی پیٹ لگا ہے۔ حکومت وہاں کیوں نہیں دیکھتی۔ گزشتہ بجٹ میں اسحاق ڈار صاحب نے رو رو کر دس فیصد تنخواہ میں اضافہ کیا تھا، پنجاب نے بھی اس پر عملدرآمد کیا۔ اب صوبائی وزیر خزانہ کیوں نہیں بولے، اس لئے کہ میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا تھو تھو میں ان کا بھی حصہ ہے۔