ہفتہ‘ 28 فروری 2009 ء

گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے‘ سستی روٹی سکیم کیلئے روزانہ ایک کروڑ روپے سبسڈی دیں گے۔
گورنر راج کے انداز سے معلوم ہوتا ہے جیسے وہ بہت جلدی میں ہیں‘ اس لئے انہوں نے فی الفور صوبے میں نہ صرف اپنا رائج قائم کرالیا بلکہ شہباز شریف کی سستی روٹی سکیم کیلئے روزانہ ایک کروڑ روپے کی سبسڈی دینے کا اعلان کردیا ہے۔ کافی عرصے سے وہ جو کچھ کہتے تھے‘ اس سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ میاں شہباز شریف کی حکمرانی جانے والی ہے مگر میاں صاحبان ان باتوں کو میائوں میائوں سمجھتے رہے تھے حالانکہ اس کا مطلب تھا کہ ’’میں آئوں میں آئوں‘‘ اور آخر وہ آہی گئے۔
گورنر راج ایک طرح کا مارشل لاء ہی ہے جس گورنر کو پورے صوبے کے تمام اختیارات مل گئے ہیں‘ اس لئے اب صحیح معنوں میں قوم کو معلوم ہو جائے گا کہ گڈگورننس کسے کہتے ہیں؟ گورنر صاحب کو اب تک معلوم ہو چکا ہو گا کہ میاں صاحب کے جاتے ہی تنوروں پر روٹی دو سے بڑھ کر تین‘ چار روپے کی ہو گئی ہے‘ اس کا سائز گھٹ گیا ہے اور آٹے کا معیار بھی گر گیا ہے۔ یہ ایک کروڑ روپے کی روزانہ کی سبسڈی اچھی خاصی رقم ہے‘ اب روٹی دو روپے کی ہو جانی چاہئے اور سستی روٹی سکیم کو ہرگز سُستی روٹی سکیم نہیں بننے دینا چاہئے۔
ہم نے تو ’’فرشتوں‘‘ کی زبانی یہ بھی سنا ہے کہ روٹی پانچ روپے کی ہونے والی ہے اگر ایسا ہو گیا تو یہ روزانہ کا ایک کروڑ روپیہ کہاں جائے گا؟ چاہئے کہ یہ رقم پھر میکے چلی جانی چاہئے کیونکہ سسرال والے یہ لے کر بھی روٹی کو وہیں کا وہیں رکھیں گے۔ اسی طرح مغلپورہ میں جو بائی پاس بن رہا ہے‘ اس کو بھی نہ صرف جاری رکھا جائے بلکہ اس پر کام کی رفتار تیز کی جائے کیونکہ تقریباً سارا شمالی لاہور راستہ بند ہونے کے باعث ہر روز اذیت سے گزرتا ہے۔ امید ہے کہ اب اس نئے راج میں لوگ خوب راج کریں گے پیپلز پارٹی کے ورکرز کو بھی یہ شکایت نہیں رہے گی کہ انہیں کوئی سیکریٹریٹ میں گھسنے نہیں دیتا۔ پہلے تو گورنر صاحب گورنر ہائوس میں چین سے بیٹھ کر بیانات یا فرمانات جاری فرماتے تھے مگر اب ان کو نہ صرف ان کے حصے کا بلکہ شہباز شریف کے حصے کا بھی پوچھا جائے گا۔
صوبے میں مسائل بہت ہیں اور سائل بھی جو گھائل ہو گا‘ سیدھا گورنر ہائوس والا ٹل جا کر بجائے گا کیونکہ اب سلمان تاثیر اس عہدے کے جہانگیر تاثیر ہیں۔ لاہور میں بہار آئی ہے اس لئے وہ آٹے سے فارغ ہوتے ہی اپنے لئے نہیں‘ لوگوں کیلئے میلوں ٹھیلوں کا اہتمام کریں تاکہ لاہور کے خسرے خوب خوش ہوں۔ بسنت سر پر کھڑا ہے‘ گورنر ہائوس میں پتنگ باز سجنوں کو مفت پتنگ اور ڈور کے گولے ملنے چاہئیں‘ یہ بھی کیا یاد کریں گے کہ ایک پپلئے گورنر کا راج آیا تھا۔
پیپلز پارٹی کے رہنماء راجا ریاض نے کہا ہے‘ نواز شریف صدر کیخلاف ریمارکس پر معافی مانگیں۔
راجا صاحب کو اپنے بیان میں معافی مانگیں کے الفاظ کے بعد ’’ورنہ‘‘ بھی کہنا چاہئے تھا مگر وہ بہت مہذب انسان ہیں‘ ورنہ انہوں نے گورنر صاحب کے لہجے میں بات کی ہوتی۔
آجکل کوئی بابائے قوم کے خلاف ریمارکس دینے پر معافی نہیں مانگتا‘ نواز شریف صدر آصف علی زرداری سے معافی کیسے مانگیں گے؟ پچھلی کئی حکومتوں کا تو یہ دستور تھا کہ اگر کسی سے معافی منگوانی ہوتی تو اسے پہلے اس کی اچھی طرح ریہرسل کرائی جاتی مگر راجا صاحب صرف معافی کا لفظ کہنے کو ہی کافی جان لیں گے۔
راجا صاحب دل ہی دل میں سوچتے تو ہوں گے کہ اچھی بھلی حکومت چل رہی تھی اور اس کی کامیابی کے اثرات مرکز پر پڑتے تھے اور وہ خود کابینہ میں سینئر وزیر بھی تھے‘ یہ اچانک اتنا بھیانک فیصلہ جو سامنے آگیا تو سب کچھ تلپٹ ہوگیا‘ اور یہ امکان تھا کہ پنجاب حکومت کو نہ چھیڑ کر پی پی پی اگلے انتخابات میں زیادہ بڑی اکثریت حاصل کرلیتی۔ صدر آصف علی زرداری کے مشیر غلط مشورہ دینے کے شیر ہیں‘ خواہ مخواہ ایک مستحکم حکومت کے قائم رہنے کے امکانات میں اضافہ ہوتا‘ہم تواب بھی میاں صاحب کی جانب سے راجا صاحب سے کہیں گے کہ…؎
لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم
میں نہ لگائوں گی ہاتھ رے
کیونکہ اسی طرح ملک مضبوط اور ملک مستحکم رہے گا۔ اگر میاں صاحب شہباز تھے‘ تو راجا صاحب باز تھے‘ اب بھی اگر سب اجتماعی طور پر باز آجائیں تو پرانا سیٹ اپ بحال ہو سکتا ہے۔
زرداری صاحب رحمان ملک کے بجائے وزیراعظم سے مشورہ کرتے تووہ انہیں وہ نہ کرنے دیتے جو ہوچکا ہے‘ سابق پنجاب حکومت‘ کیا اب موجودہ فیصلے سے اپنی ساکھ کھو بیٹھے گی؟ رہ گئی بات معافی کی تو ممکن ہے پیپلز پارٹی شیخوپورہ میں جلسہ کرتی تو وہ بھی ایسی ہی سخت زبان استعمال کرتی۔
ایک امریکی اخبار نے لکھا ہے کہ زرداری کا وزراء کیساتھ رویہ انتہائی غیر مہذب ہے‘ لیکن کوئی نہیں کہتا کہ زرداری وزراء سے معافی مانگیں‘ کتنی خوشی کی بات تھی کہ دو بڑی پارٹیاں تعاون کے راستے پرچلتی رہتیں اوراگلے انتخاب میں کسی ایک پارٹی کو واضح اکثریت مل جاتی‘ راجا ریاض سمجھدار سیاستدان ہیں انہیں صدر کو ایسا مشورہ دینا چاہئے جو اسے مقبول بنائے رکھے۔ لیکن ہمت کرکے یہ بھی کہہ دیں خاکسار کو رحمٰن بنا دیں اور رحمٰن کو گورنر پنجاب کا مشیر اعلیٰ‘ خوب گزرے گی جو!
آج کے حالات میں اگر شاوا شاوا ہو رہی ہے تو مسلم لیگ (ن) کی ہے‘ اور یہ تحفہ پیپلزپارٹی نے انہیںخود عطا کیا ہے۔