پیر‘ 8 ربیع الاوّل 1439ھ‘27 نومبر2017ئ

پیر‘ 8 ربیع الاوّل 1439ھ‘27 نومبر2017ئ

میرے بغیر ملکی حالات ٹھیک کرنے والا کوئی نہیں‘ واپس آ رہا ہوں: مشرف

واہ کیا بات ہے۔ یہ خیال کہاں سے سما گیا مشرف صاحب کے ذہن نارسا میں۔ انہیں یہ پھکی کس نے دے دی۔ اس پر تو پاکستان کی باقی ساری سیاسی پارٹیاں
کیا بات ہے ریاض تمہارے کلام کی
رنگینی¿ کلام کے قربان جائیے
کہتی پھر رہی ہوں گی۔ آپ پہلے وطن واپسی کا ارادہ تو پختہ کر لیں یہ روزانہ آ رہا ہوں‘ آنے والا ہوں کی ”تڑیاں“ ترک کر کے آ گیا ہوں والا بیان جاری کریں۔ پھر عوام کو یقین آئے گا کہ آپ ایک نڈر بہادر رہنما ہیں جو اس مشکل وقت میں قوم کی قیادت کے لئے پاکستان تشریف لے آئے ہیں۔ مگر یہ بات آپ خود بھی جانتے ہیں اور آپ کو لانے کا خواب دیکھنے والے بھی بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان واپس آنا آپ کے لئے اب اتنا آسان نہیں رہا جتنا یہاں سے جانا آسان تھا۔ اب وہی لوگ جنہوں نے آپ کو ریڈ کارپٹ بچھا کر باہر جانے دیا۔ آپ کو واپس آنے پر گرفتار کرانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ عدالتوں کی طرف سے بھی آپ کے لئے نئے وارنٹ جاری ہو چکے ہیں۔ بہت سے پولیس تھانے ”آ جا مورے بالما تیرا انتظار ہے“ والا گیت گا گا کر آپ کی واپسی کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ اگر آپ کسی خوش فہمی کے سبب واپس آ رہے ہیں تو یاد رکھیں اڑنے سے پہلے ہی آپ کے پر کترنے کے لئے قینچیاں دیواروں پر لگا دی جائیں گی۔ اسلئے فی الحال آپ اپنے کو پاکستان کا مسیحا سمجھ کر یہاں آنے کی کوشش نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔ ہمارا ملک مسیحا¶ں کے میدان میں خودکفیل ہے۔ یہاں قدم قدم پر بیمار کم اور مسیحا زیادہ ملتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
میزبانی میں پاکستانی مسلمان اپنی مثال آپ ہیں: سربراہ بھارتی وفد
پاکستان میں موجود ہندو اور سکھ برادری کے مذہبی مقدس مقامات کی حفاظت دیکھ بھال ہی نہیں ان کی یاترا کے لئے آنے والے دنیا بھر کے ہندو اور سکھ یاتری جب یہاں آتے ہیں تو یہاں سے خوشگوار یادیں لے کر واپس جاتے ہیں۔ سکھ اور ہندو یاتریوں کی خاطر مدارت‘ رہن سہن کے ساتھ انہیں پاکستانی شہروں میں خریداری اور شاپنگ کی بھرپور سہولت حاصل ہے اور انہیں اس ضمن میں ذرا بھر تنگ نہیں کیا جاتا۔ پاکستانی عوام بھی دل کھول کر اپنے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ کیونکہ ہمارا دین ہمیں سلامتی امن اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو اور سکھ یاتری پاکستان میں خود کو بالکل محفوظ سمجھتے ہیں۔ اطمینان سے مذہبی رسومات انجام دیتے ہیں اور ہنسی خوشی ڈھیر ساری شاپنگ کر کے پاکستانیوں کو دعائیں دیتے اپنے وطن واپس لوٹتے ہیں۔ اس کے برعکس بھارت میں جانے والے مسلمان زائرین سے کوئی جا کر پوچھے کہ ان کے ساتھ کیسا برتا¶ ہوتا ہے۔ جنہیں اٹاری اترتے ہی اپنی اوقات دکھا دی جاتی ہے۔ وہ کھلے عام اپنی زیارتوں پر جا نہیں سکتے‘ بازاروں میں شاپنگ نہیں کر سکتے۔ سرکاری کارندے انہیں ہر وقت گھیرے رہتے ہیں۔ خفیہ والے تنگ کرتے ہیں ہوٹل میں بازاروں میں درگاہوں پر انہیں شک کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے رکیک جملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کی راہ میں ہر ممکن رکاوٹ ڈالی جاتی ہے۔ اسلئے کوئی بھی پاکستانی بھارت یاترا سے خوش واپس نہیں آتا۔
٭٭٭٭٭٭
سندھ کو دس سال میں فقیر بنا دیا گیا۔ ایاز پلیجو کا سکھر میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے جلسہ سے خطاب
مگر پلیجو صاحب یہ بھی دیکھیں کتنے سندھی ان 10 سالوں میں امیر کبیر بن گئے۔ شکر ہے سندھ کی حالت کا خیال کسی کو تو آیا۔ ورنہ سندھ کے حکمران تو صوبے میں دودھ و شہد کی نہریں بہانے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے۔ جبکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ دریائے سندھ بھی آبی قلت کی وجہ سے نالے کی صورت اختیار کر چکا ہے تو اس صوبے میں دودھ اور شہد کی نہریں کہاں سے آئیں گی۔ ہاں البتہ صوبے کی حکمرانی کی وجہ سے حکمرانوں‘ صوبائی انتظامیہ اور سرکاری افسران کے گھروں میں البتہ من و سلویٰ خوب برس رہا ہے۔ جبکہ اسی سندھ کے تھر میں موت کا رقص جاری ہے۔ بچے آئے روز لقمہ اجل ہو رہے ہیں۔ غذائی قلت اور بیماریوں نے تو یہاں ڈیرہ ڈال دیا ہے۔ مگر کیا مجال جو کسی وڈیرے کا دل ان غریبوں کے لئے پسیجتا ہو۔
اب الیکشن کی آمد سے قبل سندھ کی ترقی پسند جماعتوں نے مقامی سیاسی جماعتوں اور رہنما¶ں کے ساتھ مل کر سندھ ڈیموکریٹک الائنس کا اتحاد قائم کیا ہے جو سندھی عوام کی حالت بدلنے کا دعوے دار ہے۔ یہ ایک اچھی بات ہے۔ اگر ہمارے ہاری کسان اور مزدور یکجان ہو جائیں تو صرف سماج ہی نہیں ملک میں بھی انقلاب لا سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی 10 برس سے سندھ میں سیاہ و سفید کی مالک ہے۔ اس کے باوجود سندھ میں رتی بھر بھی تبدیلی نہیں لا سکی جس کا شکوہ ایاز پلیجو نے بھی کیا ہے۔ سکھر کے ایک بڑے جلسے میں اگر یہ آواز م¶ثر ثابت ہو جائے اور سندھ کے عوام جاگ جائیں‘ اپنے حالات بدلنے کا عزم کر لیں تو شاید ہاریوں‘ مزدوروں اور کسانوں کی حالت زار میں کچھ بہتری آ جائے۔
٭٭٭٭٭٭
مولانا طاہر القادری وطن واپس پہنچ گئے
مولانا طاہر القادری آج وطن واپس پہنچ چکے ہوں گے۔ اس وقت ملک کا ماحول اور سیاسی میدان کافی گرم ہے تو ایسا ہی موسم مولانا قادری کو بھی راس ہے۔ بقول شاعر ”اس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے“ جس طرح مولانا اپنی تقاریر میں زور خطابت دکھاتے ہوئے گرجتے اور برستے ہیں۔ اس وقت ملک کے حالات بھی بالکل ویسے ہی ہیں جس کے سبب موسم سرما میں بھی پسینہ آنے لگتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مولانا طاہرالقادری میدان سیاست میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ اپنا ایک مصلح والا رول ادا کرتے ہیں یا پھر وہ بھی موجودہ حالات کو لے کر سڑکوں پر آتے ہیں۔ موجودہ حالات میں جوش و خروش کے ساتھ ساتھ صبر و تحمل کی ضرورت بھی زیادہ ہے۔ ملک و قوم کو مشکلات سے نکالنا ایک سیاستدان اور لیڈر کی اہم خوبی ہوتی ہے۔ مولانا ایک شعلہ بیاں مقرر بھی ہیں۔ ان کی باتوں میں اثر بھی ہے۔ دیکھنا ہے وہ اس موقع پر اپنی صلاحیتوں کو استعمال کر کے حالات کو بہتری کی طرف لے جانے میں کتنا کامیاب ہوتے ہیں۔ جلتی پر تیل ڈالنا بہت آسان ہے مگر حالات کو سدھارنا بہت بڑی نیکی ہے۔ ایک طرف ایم ایم اے کا احیا بھی ہونے والا ہے۔ اب مولانا اس اتحاد میں شامل ہو کر اس کی طاقت و قوت میں اضافہ کرتے ہیں یا علیحدہ وہی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کے بیٹھتے ہیں۔ یہ بھی وقت بتائے گا۔ اس وقت عملاً ایم ایم اے کی مذہبی جماعتوں میں بھی یکسوئی نظر نہیں آتی۔ کئی جماعتیں اس سے مطمئن نظر نہیں آ رہیں۔
٭٭٭٭٭٭