جمعۃ المبارک ‘9 ؍ذی الحجہ 1430 ھ‘ 27 ؍ نومبر 2009ء

پرویز مشرف نئی سیاسی جماعت بنانے کیلئے سرگرم ہیں اورملکی و غیرملکی دوستوں کی مدد سے خطیر رقم جمع کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
اس سے بڑا این آر او زدہ کون ہو گا جو وطن کے آدمی بیچ کر بیرون وطن اپنے ہم پیالہ و ہم نوالہ لوگوں کے ساتھ مل کر دولت اکٹھی کرکے ایک اپنی نئی سیاسی جماعت بنا رہا ہے۔
ہمارے ہاں آمر کتنے خوش قسمت ہوتے ہیں‘ ساری دھاندلیاں کرکے اپنے حقیقی دوستوں کے ملکوں میں جا کر عیش و نشاط کا نیا دور شروع کر دیتے ہیں۔ جس شخص نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ بلند کیا تھا‘ وہ آج سب سے پہلے اپنے لئے جی رہا ہے اور چاہتا ہے کہ وطن پر ایک اور شب خون مارے۔ یہ وطن کب جاگے گا اور یہاں کے لوگ کب اپنے غاصبوں کا احتساب کریں گے؟ یہ اب خیال است و محال است و جنوں بنتا جا رہا ہے‘ گانے بجانے اور رنگ رلیاں منانے والے نے ایک اور محفل سجانے کا تہیہ کر لیا ہے‘ اب دیکھتے ہیں کہ یہ محفل پاکستان میں کیسے سجتی ہے اور یہاں والے لوگ اسے کیسے کامیاب کریں گے؟
٭…٭…٭…٭
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے جے ایف تھنڈر طیارہ پاک فضائیہ کے حوالے کرنے پر قوم کو مبارکباد دی ہے۔
خدا کا شکر ہے کہ بدخبریوں کے ہجوم میں ایک خوشخبری بھی سننے کو ملی‘ جس نے ثابت کر دیا کہ پاک چین دوستی واقعی قلزم سے زیادہ گہری اور ہمالہ سے زیادہ اونچی ہے‘ جسے امریکہ گرانا چاہتا ہے مگر جسے اللہ رکھے‘ اسے کون چکھے۔
جے ایف تھنڈر کا تھنڈر ہمارے ہمسایہ کے سر پر بھی پتھر بن کر گرا ہو گا‘ یہ سلسلہ اگر اسی طرح جاری رہا تو پاکستان کی فضائیہ اس خطے کے شاہینوں کے ساتھ پرواز کرینگے۔ مستحکم دفاع کیلئے مضبوط فضائیہ ضروری ہے‘ اس طیارے کی تیاری قوم کا خواب تھا‘ جسے تعبیر مل گئی۔
چین سے دس جنگی طیاروں کیلئے بھی بات چیت جاری ہے‘ جو بھارت کو خطے کی سپرپاور بنانا چاہتے ہیں‘ وہ چائنہ کے رخ کو بھی دیکھ لیں۔
٭…٭…٭…٭
امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے کہا ہے کہ من موہن سنگھ کے کشمیر پر بیان کے بعد حکمرانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔
امیر جماعت اسلامی کی باتوں میں قاضی صاحب سے زیادہ کاٹ ہوتی ہے‘ من موہن سنگھ کا یہ بیان واقعی چشم کشا ہے کہ کشمیر پر کوئی بات نہیں ہو گی۔ کشمیر کی سرحدیں تبدیل نہیں ہو سکتیں‘ کشمیر کو ایک جہاد چاہئے پھر ہی یہ شہ رگ آزاد ہو گی۔
بھارت نے پاکستان کو بنجر بنانے کے سارے پروگرام بنا لئے ہیں‘ 62 ڈیم بنا کر اس نے ثابت کر دیا‘ وہ پاکستان کو بنجر کرنا چاہتا ہے۔ لاکھوں شہیدوں کا لہو ضرور رنگ لائے گا‘ اس لئے کہ کشمیر امن سے حاصل نہیں ہو گا اور نہ بنیاء اس پر راضی ہو گا۔ کشمیر پر من موہن کے تازہ بیانات تازہ دشمنی کی خبر دے رہے ہیں‘ پاکستان کو اپنی آنکھیں کھلی رکھنی چاہئیں اور اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ جہاد ہو گا تو کشمیر آزاد ہو گا۔
٭…٭…٭…٭
خبر ہے کہ ’’بلبل پنجاب‘‘ آل پاکستان بکرا نمائش میں دوسرے نمبر پر رہا‘ 258 وزنی بکرا پانچ لاکھ روپے میں فروخت ہوا۔
اتنا وزنی بکرا تو حضرت اسماعیلؑ کی جگہ آسمان سے نہیں اترا ہو گا‘ پالنے والے نے تو 258 کلو وزنی بکرا پال لیا مگر شاباش ہے ان کو جنہوں نے پانچ لاکھ میں اسے خرید لیا۔ ان پانچ لاکھ روپوں سے کتنے ہی غریب گھرانوں کو بکرے خرید کر دیئے جا سکتے تھے‘ یعنی عیدالاضحٰی مذہبی رسم کی جگہ بکرا نمائش بن گئی اور بکرا بلبل پنجاب کا مقام حاصل کر گیا۔
پاکستان میں غریب بیچنے والوں اور امیر خریدنے والوں کی بھی کمی نہیں‘ بلبل پنجاب اس کی واضح مثال ہے۔ اس برس یا تو میڈیا نے زیادہ بکروں کو کوریج نہیں دی یا پھر بکرے روپوش ہو گئے۔ متوسط طبقوں کے بکرے پروں والے ہیں‘ وہ ان سے کام چلائیں گے اور روز قیامت وہ لوگوں کو پل صراط سے اڑا کر دوسری طرف لے جائیں گے۔ اس طرح قربانی بھی ہو جائیگی اور شادمانی بھی۔ اس کو کہتے ہیں‘ ایک تیر سے دو شکار۔
٭…٭…٭…٭
ایک مقامی اخبار نے کہا ہے کہ امریکہ کے طالبان سے مذاکرات جاری ہیں اور اس سہ فریقی مذاکرات میں پاکستان بھی شامل ہے۔
اگر یہ خبر سچی ہے تو امریکہ کی شکست بھی سچی ہے‘ بہرحال کسی طرح بھی امریکہ یہاں سے رخصت ہو‘ اسی میں اس پورے علاقے کا فائدہ ہے۔ افغانستان میں بڑی تباہی ہوئی ہے‘ جس کا ذمہ دار پاکستان بھی ہے‘ اس لئے سہ فریقی مذاکرات میں پاکستان کی شمولیت ضروری ہے۔ امریکہ نے خاک و خون کا کھیل کھیل کر آخر کیا پالیا ہے‘ اس خبر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ یہ غلط بھی ہو سکتی ہے کیونکہ ابھی بظاہر ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے کہ امریکہ علاقہ چھوڑ دے اور یہاں خفیہ مذاکرات ہوں۔ ابھی تک تو یہاں مذاق رات ہو رہے ہیں‘ مذاکرات نظر نہیں آتے۔ امریکہ کے جو عزائم ہیں‘ وہ جب تک پورے نہیں ہو جاتے‘ وہ اس علاقے کو نہیں چھوڑے گا۔ وہ اس علاقے کو اپنے قبضے میں لے کر انڈیا جیسے شردھالوئوں کو یہاں کا تھانیدار بنانا چاہتا ہے اور پاکستان کی اہمیت اور قوت کو توڑنا چاہتا ہے۔ بالخصوص پاکستان کا جوہری اسلحہ اسکی نظر میں ہے۔
نام نہاد دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اس نے پاکستانی فورسز کو خوب تھکایا ہے اور ابھی اسکے مزید مذموم ارادے باقی ہیں۔ امریکہ اس خطے میں قابض کی حیثیت سے داخل ہوا ہے‘ اس لئے وہ شکست کے بعد ہی نکلے گا‘ جو زیادہ دور نہیں۔