پیر ‘ 24 رجب المرجب1432 ھ‘ 27 جون 2011ئ

اسرائیلی وزیراعظم کے بیٹے نے کہا ہے اسلام دہشت گردی کا مذہب ہے پورا یقین ہے، فلسطینی ریاست کبھی نہیں بنے گی۔
جب کوئی بندہ خدا جیسی باتیں کرنے لگے تو سمجھ لیں کہ اسے بندہ بنانے کا وقت آگیا ہے،اسرائیلی وزیراعظم کے بیٹے نے کچھ غلط بھی نہیں کہا کیونکہ باطل نے اتفاقِ رائے سے جہاد کو دہشت گردی کا نام دے دیا ہے، اسی لئے وہ ہمارے ہی حق میں غیر ارادی طورپر بات کر رہے ہیں،اس لئے چنداں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، باقی اسرائیلی وزیراعظم کے بیٹے نے جو کچھ کہا ہے تو آپ ہی بتائیں پسر نوحؑ اور کیا کہے گا۔فلسطینی ریاست کبھی نہیں بنے گی کا جملہ بھی موصوف الٹا کہہ گئے ہیں، ورنہ وہ یہ کہتے اسرائیل فلسطینی زمینوں پر کب تک اسرائیلی ریاست قائم رکھ سکے گا، یہ دنیا ایک روز مقبوضات سے پاک ہوکے رہے گی، کیونکہ قبضہ کبھی ملکیت نہیں بن سکتا، اور تو اور جس نے اسرائیل کو دردِزہ میں مبتلا ہوکر جنم دیا وہ بھی تو مقبوضہ امریکہ کا غاصب ہے، ظاہر ہے غاصب کی اولاد غاصب ہی بنے گی، یہ کہنا درحقیقت فلسطینی ریاست کی بنیاد رکھنا ہے کہ فلسطینی ریاست کبھی نہیں بنے گی کیونکہ اس سے امکان جنم لیتا ہے جسے یقین بننے میں دیر نہیں لگے گی، پوری اسلامی دنیا کو پردہ¿ غیب سے وصیت کی جاتی ہے کہ وہ جہاد پر تان توڑیں وہی جہاد جسے باطل نے دہشت گردی کا نام دے رکھا ہے۔ یہی راستہ ہے اب مسلم اُمہ کے پاس اور یہ سیدھا،دشمن کے دل سے جگر تک کو چھلنی کرجائے گا، ہماری بد حالی کا سبب ہی اسلام کے اس رکن سے گریز ہے جسے ہم جہاد اور باطل دہشت گردی کہتا ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭
اَپر کلاس خواتین میں منشیات کا استعمال فیشن بن رہا ہے۔ کالا باغ ڈیم پر تو اتفاق نہیں ہورہا، مگر ایلیٹ کلاس کے مردوزن میں یہ اتفاق رائے ہوگیا ہے کہ جس کا جو جی چاہے کرلے بس ایک دوسرے کی حرکات و سکنات میں مداخلت نہ کریں، دولت کی فراوانی اور وہ بھی کرپشن کی دولت اُس کا نتیجہ نشہ آور ہی ثابت ہوگا، بڑے بڑے ہوٹلوں میں باقاعدہ ایسے کیبن بنائے گئے ہیں جہاں زنانِ اشرافیہ بن سنور کر شیشہ نوشی میں مست الست رہتی ہیں اور خوب لطف اٹھاتی ہیں،نوشی پہلے تو ایک تھی یعنی سگریٹ نوشی اب دو ہوگئی ہیں اور یہ دوسری نوشی شیشہ نوشی ہے۔ عربی زبان میں حقے کو شیشہ کہتے ہیں اور یہ آج کا حقہ بڑا نفیس ہوتا ہے جب حسینائیں اس کی نَے کو نازک ہاتھوں میں تھامے رنگین ہونٹوں سے لگاتی ہیں تو ناسخ اپنے مرقد سے پکار اُٹھتا ہے....
حقہ جو ہے حضورِ معلی کے ہاتھ میں
گویا کہ کہکشاں ہے ثریا کے ہاتھ میں
یہ بد مست ایلیٹ ثریائیں وہ ملکائیں ہیں جو خاوندوں کے جیتے جی بیوائیں ہوچکی ہیں اور ان کی اولاد نے بھی اپنے شیشے کے کیبن بنالئے ہیں، یہ تو اچھا ہے کہ ان کے پاس اتنی دولت ہے کہ ان کی بد مستی عام معاشرے تک نہیں پہنچتی، اَپر کلاس اب ریلوے سے مٹتی جارہی ہے اور زنانِ مصر میں عام ہوتی جارہی ہے چلو کہیں تو ترقی ہورہی ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭
آزاد کشمیر کے الیکشن کا متحدہ نے بائیکاٹ کردیااور کراچی میں مظاہرے کئے جارہے ہیں۔
متحدہ اپنے وجود کی حد تک متحد ہے، مگر آزاد کشمیر میں اُس کاووٹ بینک ایسا ہے کہ چیک بھیجو تو باﺅنس ہوجائے، چاہئے تو تھا کہ خاموش ہی رہا جاتا مگر متحدہ نے اپنے پندار سے دستبردار ہونے کو توہین سمجھا اور بائیکاٹ کردیا یہ بھی اچھا فیصلہ ہے، شرفاءایسے مواقع پر ایسا ہی کرتے ہیں، تاکہ پردہ پوشی بھی قائم رہے اور بھرم بھی ، ایم کیو ایم ایک اچھی سیاسی جماعت ہے، اُس میں پڑھے لکھے لوگوں کے علاوہ بھی کافی لوگ ہیں،اسی لئے وہ طاقتور بھی ہے، کراچی اُس کا دارالخلافہ ہے، امیر المو¿مینن لندن میں ہیں اور ٹیلیفون ذریعہ رابطہ ہے، وہ کیوں اپنی جماعت سے دور لندن میں ہیں اس میں ضرور کوئی حکمت ہوگی جو ہیچمدان لوگ کیاجانیں، بہر حال متحدہ نے آزاد کشمیر انتخابات کا بائیکاٹ کرکے، سنہری فیصلہ کیا ہے، اب ضرورت یہ ہے کہ یہ ملک کی فعال سیاسی جماعت آزاد کشمیر میں کام کرے تاکہ ایسے بائیکاٹ کی نوبت پھر نہ آئے اور بھائی الطاف حسین سے چلتے چلتے عرض ہے حکمران تو ہماری مانتے نہیں، وہ ان ڈرون حملوں سے ہماری جان چھڑائیں اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو اپنا مشن بنالیں بخدا وہ قوم کے دل جیت لیں گے۔
٭....٭....٭....٭....٭
اداکارہ نور نے کہا ہے:عون چودھری کی شکل میں اچھا ہمسفر مل گیا۔
گویا نور نے فرا خدلی سے یہ مان لیا ہے کہ وہ شکلوں سے شادی کرتی ہے اور اس لحاظ سے عون چودھری کی شکل پہلے والی دو شکلوں سے بہتر ہے، پہلی شکل جس نے اُس کی شکل کو سنوارا وہ ایک ہندو تھا، اور یوں نور و ظلمت زیادہ دیر ساتھ ساتھ نہ چل سکے، مگر نور نے یہ بھی پہلی شادی سے ثابت کردیا کہ وہ دین مذہب نہیں دیکھتی شکل دیکھتی ہے، چاہے وہ بت پرست ہی کی کیوں نہ ہو، دوسری شادی کی، شکل بدل گئی، لیکن ہوس کم نہ ہوئی اور اب تیسری شکل سے نکاح کرلیا دیکھتے ہیں اس تیسری کی زندگی کتنی ہے، ہمیں نور کی منزل کا تو پتہ نہیں کہ اب دیکھئے راہوار ہوس ٹھہرتا ہے جاکر کہاں؟ مگر یہ خطرہ ضرور ہے کہ وہ دن نہ آجائے کہ آخری شکل بے راہ کو راہ میں چھوڑ جائے اور پھر نور کے اعضاءسے رقص کی جگہ یہ آواز اُٹھے....
کرکے ہکلی ٹھر گیا ماہی تے پاگیا وچ فکراں
پاٹی لیر پرانی وانگوں ٹنگ گیا وچ ککراں
ہم تیسری بار مبارکباد پیش کرتے ہیں، مگر یہ نہ ہو کہ ہماری مبارکباد یں بھی راستے میں دم توڑ جائیں، نور نے جب ہندو سے شادی کی تھی تو ہم نے تب ہی یقین کرلیا تھا کہ وہ شادی بیاہ کے معاملے میں سیکولر ہیں، بہرحال وہ شادیوںکا شوق اسی طرح پورا کرتی رہیں، سانوں کی، لیکن یہ تب تک ہے جب تک چہرے پر ظلمتِ نور نما موجود ہے، مگر جب وہ نور نامہ بن جائیں گی تو انہیں طاق میں سجادیاجائے گا۔