جمعة المبارک ‘ 23 صفر المظفر 1435ھ ‘27 دسمبر 2013ئ

اپنی زندگی میں مسیحی وزیراعظم دیکھنا چاہتا ہوں : بلاول زرداری !
یادش بخیر! اس سے قبل بلاول نے ملالہ کے حوالے سے بھی ایسی ہی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ اگر موسموں کی طرح بلاول پاکستان کے وزرائے اعظم بدلتے رہے تو پھر شاید انکی باری کبھی نہیں آئے گی کیونکہ کیا معلوم اگلی بار وہ کسی پارسی اور اس کے بعد کسی سکھ کیلئے محبت بھری ایسی ہی خواہش کا اظہار کر بیٹھیں مگر اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہی تو ہے کہ بلاول ایک سیاسی گھرانے کے فرزند ہیں اور عوام کے جذبات سے فائدہ اٹھانا انکی ہمدردی حاصل کرنا انہیں ورثے میں ملا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں بقول ساحر لدھیانوی ....
میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوں
وہ تبسم و تکلم تیری عادت تو نہیں
عوام اب خاصے سمجھ دار ہو چکے ہیں چکنی چپڑی باتوں سے انہیں بہلایا نہیں جا سکتا۔ عوام کا دل جیتنا ہے تو کام کرنا پڑے گا، ان کے مسائل حل کرنا پڑیں گے ورنہ صرف وزیراعظم بنانے کے اعلان سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ویسے بھی ہمارے ملک میں وزیراعظم بننے کی دعا بھی کوئی بددعا ہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس معاملے میں ہمارا ریکارڈ اچھا نہیں، ہمارے وزرائے اعظم قتل ہوئے، پھانسی چڑھے، جلاوطن ہوئے، برطرف ہوئے، اب ایسی خطرناک کرسی پر بیٹھنا کون پسند کرے گا اس لئے شاید خود بلاول زرداری اپنا نام بطور وزیراعظم دینا نہیں چاہتے کیونکہ پیپلز پارٹی کی قیادت کرتے ہوئے ان کی ماں اور نانا کے ساتھ ان کے دونوں ماموں بھی جان گنوا چکے ہیں۔
ہماری دعا ہے خدا بلاول اور اس کی بہنوں کی حفاظت کرے، چاہے وہ وزیراعظم بنیں یا نہ بنیں اور اگر بن جائیں تو کہیں یہ نہ کہہ دیں کہ میں غیرمسلم ہوں اور اس طرح ان کا یہ دعویٰ پورا ہو جائے کہ وہ غیرمسلم کو وزیراعظم دیکھا چاہتے ہیں۔ آئین اسکی اجازت دے نہ دے‘ جیسا کہ اعتزاز احسن نے کہا ہے۔
ویسے کہیں بلاول ”دکھاﺅ کھبی اور مارو سجی“ والی پالیسی پر تو نہیں چل رہے کیونکہ اطلاعات تو یہ ہیں کہ سندھ سے ایک اسمبلی ممبر کو استعفیٰ دلوا کر بلاول کو الیکشن لڑا کر اسمبلی میں لایا جا رہا ہو، یوں ان کو سیاسی پارلیمنٹرین تربیت دی جائے گی اور ان کی وزارتِ عظمیٰ کی راہ ہموار کی جا رہی ہے اور بلاول کتنی معصومیت سے اپنے اصل عزائم پر پردہ ڈال کر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
وینا ملک نے دبئی میں بزنس مین سے شادی کر لی!
یہ دوہری خوشی کی خبر ہے ایک تو شادی کی اور دوسری یہ کہ وینا ملک کے شوہر نامدار اسد بشیر خٹک گلوکاری کا شوق بھی رکھتے ہیں اور انکی ایک البم ریلیز بھی ہو چکی ہے یوں اب اداکاری اور گلوکاری کا یہ ملاپ اب کیا گل کھلاتا ہے وہ سب دیکھیں گے۔ ہماری دعا ہے کہ جوڑی خوشگوار زندگی بسر کرے۔ اب معلوم نہیں ریشم‘ لیلیٰ اور مِیرا پر اس شادی کا کیا اثر ہو گا، ہمارے شوبز کی یہ پختہ کار غیر شادی خواتین تو اب تک....
سکھیوں کی شادی بھی ہو گئی اور میں رہی کنواری
نجانے کس دن آئے گی اے دل تیری باری
گا رہی ہیں‘اب انہیں بھی چاہئے کہ وہ وینا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جلد از جلد گھر بسا لیں ورنہ وینا کے بچے انہیں نانی جان کہہ کر بُلایا کریں گے۔ فائدے میں تو اسد بشیر بھی رہے ہیں اب ان کو اپنے البم میں کسی ماڈل کی ضرورت نہیں رہے گی وینا خود بھی ماڈل اور اداکارہ ہیں اور وہ اپنی بہتر ماڈلنگ سے اپنے میاں کے گیتوں کے البم میں چار چاند لگا دیں گی اور پبلسٹی بھی مفت ملے گی پاکستان کے ساتھ ہندوستان بھر میں کیونکہ وینا کو وہاں سب جانتے ہیں، اسے کہتے ہیں ”ایک پنتھ دو کاج“
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
خیبر پی کے میں تحریک انصاف نے اپنے گیارہ وزراءکےخلاف کرپشن الزامات کی تحقیقات روک لیں !
اب معلوم نہیں ان وزراءنے کرپشن سے توبہ کر لی ہے یا سابقہ کرپشن پر معافی مانگ لی ہے البتہ عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ قومی وطن پارٹی کے جن وزراءکو انہی الزامات کے تحت برطرف کیا گیا تھا کیا وہ سب ڈرامہ قومی وطن پارٹی سے اتحاد توڑنے کیلئے رچایا گیا تھا۔ اپنوں سے رعایت کیوں؟ کم از کم تحریک انصاف اپنے نام کی ہی لاج رکھ لے اور ایسا انصاف کرے کہ غیروں کے ساتھ اپنوں سے بھی کوئی رعایت نہ برتی جائے ورنہ لوگ کیا کہیں گے۔ بلوچستان کے ممتاز شاعر عطا شاد مرحوم نے کیا خوب کہا تھا ....
سنگساری میں تو وہ ہاتھ بھی اُٹھا تھا عطا
جس نے معصوم کہا، جس نے گہنگار کیا
مولانا فضل الرحمن تو ویسے ہی آجکل صوبہ خیبر پی کے میں حکومت کے خلاف مورچہ لگا رہے ہیں اب اگر قومی وطن پارٹی بھی پی پی پی اور اے این پی کے ساتھ مل کر اس مورچے میں شامل ہو گئی تو پھر ”سونامی“ کو پلٹنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ جے یو آئی اور اے این پی کو ویسے بھی مورچہ لگانے میں مہارت حاصل ہے۔ ریلیاں نکالنے اور دھرنے کی راہ خود تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے ان کو دکھا دی ہے اب اس سے یہ فائدہ کس طرح اٹھائیں گے بہت جلد یہ سب کچھ پشاور میں سامنے آنے والا ہے۔ اب عمران خان کو دوسرے صوبوں کی بجائے اپنے گھر کی خبر لینا ہو گی ورنہ جب جتوئی صاحب سندھ میں ہارے تھے اپنی جماعت سے الگ ہو کر تو کسی نے کہا تھا ”گھروں جوتُیاں باہروں جتوئی“ اب یہی کہیں عمران کے ساتھ بھی نہ ہو جائے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭