جمعۃ المبارک ،16 ؍رمضان المبارک‘1431ھ‘27 ؍ اگست 2010ء

ممتاز صحافی اور نوائے وقت کے ایڈیٹر انچیف نے کہا ہے‘ پاکستان میں خونیں انقلاب کی راہ ہموار ہو رہی ہے‘ کشمیر زور بازو سے آزاد ہو گا۔
جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو دلِ بیدار پکار اٹھتے ہیں‘ مجید نظامی کا دل ان چند دلوں میں سے ہے جن میں وطن کا درد موجود ہے اور وہ نتائج سے بے خوف اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہہ اٹھتے ہیں۔ جب محرومی اور ستم اپنی آخری حدیں پھلانگ جائے تب خونیں انقلاب کی راہیں ہموار ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ نظامی صاحب کے دیدۂ بیدار نے فی الواقع اس پراکسی وار کو دیکھ لیا جو بھارت افغانستان میں امریکہ کی آشیرباد سے پاکستان کیخلاف لڑ رہا ہے اور شپر چشم اپنی ایڑی کے پاس پڑی چیز نہیں دیکھ پارہے۔
نظامی صاحب نے جس خونیں انقلاب کی خبر دی ہے‘ وہ سیلاب کے ریلے کی طرح آرہا ہے‘ بس فرق اتنا ہے کہ اس میں بہنے والے اہل ظلم و ستم ہی کو خبر نہیں اور اگر ہو بھی تو ان کا پروگرام بھاگ جانے کا ہوگا کیونکہ ان کا تو اب یہاں صرف بریف کیس باقی رہ گیا ہے مگر یہ انقلاب شاید سرحدوں کی بھی پرواہ نہ کرے اور چار دانگ عالم میں تعاقب کرے۔ اگرچہ اس وقت خونیں انقلاب کی آواز بظاہر تنہا ہے مگر کسی کو اسکے گردرجال الغیب کا علم نہیں ہو رہا۔
٭…٭…٭…٭
سینئر وزیر راجہ ریاض نے کہا ہے کہ صوبے کا چیف ایگزیکٹو ہوتا تو سانحہ سیالکوٹ پر مستعفی ہو جاتا۔
مستعفی ہوں وزیر موصوف کے دشمن جو دراصل دشمن نہیں‘ دوست ہیں اور مل بیٹھ کر سیلاب سے نمٹنا چاہتے ہیں‘ راجہ ریاض تو اس طرح کی باتیں اس طرح سے کر رہے ہیں جیسے انہیں اندرونی کہانیوں کا پتہ ہے مگر وہ فکر نہ کریں‘ سب ٹھیک ہو جائیگا اس لئے کہ ٹھیک کرنے کے وہ بڑے ماہر ہیں اور اگر وہ استعفیٰ کو باعزت خلاصی سمجھتے ہیں تو دیر کس بات کی؟
ویسے ہمارا وزیر اعلیٰ کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ راجہ صاحب سے راجائوں جیسا کام لیں‘ اس لئے کہ وہ بڑے کام کے آدمی ہیں‘ اب ضروری ہو گیا ہے کہ وہ ان کو اعتماد میں لے کر انہیں اپنا دایاں ہاتھ بنائیں‘ کتنی ہی گتھیاں سلجھ جائیں گی اور کتنے ہی مشکل حالات میں انکے مسائل حل ہو جائیں گے کیونکہ یہ وقت دو طرح کے سیلاب لا رہا ہے‘ ایک پانی کا‘ دوسرا خون کا۔ خلق خدا پر جو آفت ٹوٹی ہے‘ وہ طاقت بن جائیگی اور باقی رہے گا نام اللہ کا۔ راجہ صاحب کے سر کا سائز اتنا بڑا ہے کہ اگر وہ زرداری کو بھی مشورہ دیں کہ اب بہت ہو چکی‘ امریکہ کو لگام دی جائے کیونکہ اسکے حکم پر پاکستان سیلاب میں بھی اسکی جنگ لڑ رہا ہے اور بھارت کو افغانستان پہنچا دیا گیا ہے۔
٭…٭…٭…٭
سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے‘ سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھ کر کالاباغ ڈیم نہ بنانے کا افسوس ہے۔ کالاباغ ڈیم بنانے کا پورا ارادہ تھا‘ سیاست کی بھینٹ چڑھ جانے کے باعث میں بے بس ہو گیا۔
سابق صدر کا بیان ایسے ہے کہ جیسے قاتل مقتول کا پوسٹ مارٹم کرانا چاہتا ہو‘ ایک بااختیار صدر اور آرمی چیف کی وردی میں ملبوس صدر بھی اگر وہی بہانے بناتا ہے جو کالاباغ ڈیم نہ بنانے والے بناتے ہیں‘ تو کالاباغ ڈیم کون بناتا‘ اب جو دور آرہا ہے‘ وہ فکر نہ کریں‘ یہ پورا ملک ایک ڈیم بن جائیگا جس میں مشرف جیسے کئی ڈیم فول ڈوب جائینگے۔ مشرف اپنے بھیانک مقاصد کیلئے سیاست کا کریا کرم کر سکتے تھے‘ وہ اپنی وردی‘ اختیارات اور فوجی طاقت کو استعمال کرکے کالاباغ ڈیم نو سال کے عرصے میں نہ بنا سکے تو اب گونگلوئوں سے مٹی جھاڑ کر پھر سے کالاباغ ڈیم پرکیوں سیاست فرما رہے ہیں۔
’’تفو برتف اے چرخ گرداں تفو‘‘ پاکستان کو تباہی و بربادی کے جس دہانے پر وہ چھوڑ گئے‘ اس میں موجودہ حکمران بھی چاروں شانے چت گرے پڑے ہیں اور وہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’رحم اللہ اول بنّاش‘‘ (اللہ پہلے کفن چور پر رحم کرے) قوم کو اب بیدار ہو جانا چاہیے اور مشرف کی باتوں کو وقعت نہیں دینی چاہیے کیونکہ سعودی عرب سے فتویٰ آگیا ہے کہ ’’گداگروں اور جعلی معذوروں کو ’’فطرانہ‘‘ دینا جائز نہیں‘‘ ہمیں اب وطن کے دشمنوں کو انکے ہر روپ میں ٹھکرانا ہو گا۔ البتہ متاثرین کیلئے مشرف کی امداد کا شکریہ!لیکن یہ روپیہ پیسہ آیا کہاں سے؟ پنشن سے؟
٭…٭…٭…٭
دفتر خارجہ نے کہا ہے‘ شاہ محمود قریشی کے برکلے ہوٹل میں ایک رات کے قیام کا بل 358 ڈالر تھا۔
قریشی صاحب جب قومی خزانے میں سے 358 ڈالر فی رات ادا کرکے نرم و گداز مسہری پر محو آرام ہوئے ہونگے تو انہیں ایک دوسرے سے سر جوڑ کر سرگوشیاں کرنے کے خوشگوار لمحوں کا خواب تو ضرور نظر آیا ہو گا‘ مگر بقول بڑے چودھری صاحب مٹی ڈالو اس بات پر‘ اور مٹی ہٹائو ان باتوں سے جو وزیر خارجہ امن آشا مہم کے سیاق میں بھارتی شردھالوئوں سے کرتے رہتے ہیں۔ بھارت نے جو امداد پیش کی ہے‘ وہ اسے برکلے ہوٹل کا کرایہ ادا کرنے پر خرچ کر سکتے ہیں۔ ہوٹل تو مغرب میں بڑے بڑے سستے بھی ہیں‘ وہ چاہیں تو ان میں بھی قیام کر سکتے ہیں‘ ویسے بھی اب جبکہ ہماری خارجہ پالیسیاں فیل ہو چکی ہیں تو باقی وزراء کے ساتھ مل کر سیلاب زدگان کی امداد کرنے کی ڈیوٹی ہی سنبھال لیں تاکہ ان کو معلوم ہو کہ برکلے ہوٹل کے مزے لوٹنے کے بعد یوں بھی ہوتا ہے‘ بلکہ اب تو ان کو اپنی خاندانی روحانیت کی طرف لوٹ آنا چاہیے اور تعویز لکھ کر سیلاب کے سپرد کر دینا چاہیے تاکہ ان کا خارجی کردار رنگ نہیں لا سکا‘ تو روحانی کردار ہی رنگ لائے اور وہ یہ شعر پڑھ کر مست ہو جائیں…؎
قلندر بو علی ہستم کہ یار شیخ منصورم
ملامت مے کند خلقے و من بردار مے رقصم
(میں قلندر بوعلی ہوں اور شیخ منصور کا یار ہوں‘ اسی لئے لوگ مجھے ملامت کرتے ہیں اور میں تختۂ دار پر رقص کر رہا ہوں)