ہفتہ ‘ 20 ذی الحج 1434ھ ‘ 26 اکتوبر2013

انتخابی نتائج عالمی نیوٹرل کمشن سے چیک کرائے جائیں : طاہر القادری !
کمیشن نیوٹرل ہو یا متنازعہ سارے نتائج غلط ثابت ہوں یا پھر سبھی درست قرار پائیں لیکن علامہ صاحب کی آخری خواہش پنڈ کے کمّی کی خواہش کی طرح پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ ہمارے ہاں ہر سیاستدان کی آخری خواہش یہی ہوتی ہے کہ حضرت عزرائیلؑ کی آمد سے قبل اسکے نام کیساتھ لفظ وزیراعظم کا اضافہ ہو جائے۔ علامہ کا سرکس شو پوری طرح ناکام ہُوا تھا بلکہ مذاکراتی ٹیم نے انہیں عزت بچا کر بھاگنے کا مشورہ دیا تھا جس پر جناب والا عمل پیرا ہو کر خیمہ اسلام آباد سے نکل کر قلعہ لاہور میں آ بیٹھے تھے۔ ”سیاست نہیں ریاست“ بچاﺅکے نعرے کے بعد سبھی نے گنگنانا شروع کیا تھا ....
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جب تاج اُچھالے جائیں گے
جب تخت گرائے جائیں گے
لیکن پھر چشم فلک نے ان انقلابیوں کے ارادوں پر اوس کی بارش برسا دی اور وہ اپنا انقلابی کنٹینر بھگا کر لاہور لے آئے کیونکہ عزتِ مولویت بھی اسی طرح بچ سکتی تھی اور قافلے کو تتر بتر ہونے سے بھی بچایا جا سکتا تھا۔ علامہ صاحب اُمیدِ بہار رکھیں اور ایک کروڑ نمازی اکٹھے کر کے اذان دینے کی کوشش میں لگے رہیں انقلاب نہیں آئیگا لیکن انکا نام لازمی لیا جائیگا۔ یہ بڑا زبردست منافع بخش کاروبار ہے چند دن میڈیا پر مفت کی خوب تشہیر ہوتی ہے ایسی تشہیر تو لاکھوں روپے خرچ کر کے بھی نہیں کی جا سکتی۔ علامہ صاحب بالآخر پھر ویڈیو خطاب کا سہارا لینے پر مجبور ہو گئے ہیں کاش وہ میدان میں رہ کر حسینیت کے پرچم کو بلند کرتے رہتے چاہے سابقہ دور کی طرح حسین سے مراسم اور یزید کو بھی سلام والی پالیسی برقرار رکھتے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
شیخ رشید اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کیلئے رابطہ کریں تو بات ہو سکتی ہے : چوہدری شجاعت !
تانگہ پارٹی کے سربراہ بھی اپوزیشن لیڈر بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں تو پھر ملالہ کے بغیر پارٹی کے وزیراعظم بننے میں کیا رکاوٹ ہے، جیسے شیخ صاحب مانگ تانگ کر اپوزیشن لیڈر بنیں گے۔ ملالہ بھی ایسے ہی وزیراعظم بن جائیگی۔ چوہدری شجاعت کی طرف دیکھیں وہ دو سیٹیں لیکر کر بھی شیخ رشید کو رابطہ کی کال کر رہے ہیں۔ دو دو سیٹوں والی جماعتیں بلیک میل کر سکتی ہیں لیکن چودھراہٹ نہیں۔ وڈے چوہدری صاحب اسمبلی میں بھی اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کا پلان بنا رہے ہیں، وہ شاید بھول گئے ہیں کہ جس پارٹی کا اپوزیشن لیڈر ہے اسکے سربراہ کا نام آصف علی زرداری ہے جس نے مفاہمت کے نام پر 5 سال نکال لئے تھے اسکی پارٹی بطور اپوزیشن بھی اپنی مدت پوری کریگی۔ شیخ رشید کی انگڑائی پر زرداری صاحب نے ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں شمولیت کی دعوت دے دی ہے جس نے شیخ پُتر کے سارے منصوبوں پر پانی پھیر دیا ہے، شکوے شاعرانہ تکلف کے سوا کچھ نہیں ہوتے لیکن فرزندِ پنڈی اپنی قسمت بارے تو یہی کہہ رہے ہوں گے کہ ....
تُجھ سے شکوہ تو نہیں کاتبِ تقدیر مگر
رو پڑے تُو بھی، اگر میرا مقدر دیکھے
ایک ایک سیٹ لیکر تانگہ پارٹیوں کو دو دو فٹ کی الگ الگ مسجدیں بنانے کی بجائے اپنی طاقت کو یکجا کرکے حکومت کو ٹف ٹائم دینا چاہئے تاکہ عوام کی بھی بھلائی ہو سکے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
فلور مل مالکان کا ایک گروپ 2 روز میں آٹے کا تھیلا 20 روپے مہنگا کرنے کا اعلان کرے گا !
احسان اللہ ثاقب مرحوم نے کہا تھا ....
برف پگھلی نہیں پہاڑ وںپر
پھر یہ دریا کہاں سے آیا ہے
ابھی گندم کا قحط پڑا نہیں اور بیوپاری شکاری بن کر میدان میں اتر آئے ہیں۔ ہم گھروں اور دفتروں میں بیٹھ کر حکومت پر مہنگائی کے بارے تبرا کرتے رہتے ہیں لیکن ووٹ کے وقت اپنی چارپائی پر لیٹ کر خراٹے مارتے ہیں ہمیں اس وقت اپنی چارپائی کے نیچے ڈانگ پھیرنی چاہئے اور سوئے ہوئے ضمیر کو جگانا چاہئے کیونکہ انسان کو کوشش کیمطابق ہی ملتا ہے لیکن ہم تھور کاشت کر کے گلاب کے پھولوں کی فصل کا انتظار کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے اور روٹی مہنگی، دال مہنگی، سبزی پہنچ سے دور، فروٹ خواب میں کھانے جیسے وقت کیلئے اپنے آپ کو تیار رکھنا چاہئے اور دلِ بیقرار سے کہنا چاہئے کہ .... ع
مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ
کیونکہ قومیں ترقی کرتی ہیں جبکہ ہم نے ریورس گیئر لگا رکھا ہے۔ ہم روشنیوں کو چھونے کے بعد دوبارہ دِیا بتی پر آ رہے ہیں جبکہ دنیا آسمان پر پہنچ چکی ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
29 ہزار اساتذہ کی بھرتی آئندہ سال تک ملتوی !
سکولز میں طلبہ زیادہ ہیں لیکن اساتذہ کم ہیں۔ پہلے اساتذہ زیادہ ہوتے تھے اور طلبہ کم لیکن زمانہ بدلنے کیساتھ ساتھ والدین کی ترجیحات تبدیل ہو رہی ہیں۔ آرٹس کے اساتذہ کی سیٹیں تو کافی عرصے سے خالی پڑی ہیں، نوجوانوں کی عمریں 35 سال کی حد کو عبور کر رہی ہیں لیکن حکومت نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ انہیں بھرتی نہیں کرنا۔ گورنر پنجاب نے آتے ہی تعلیمی ایمرجنسی لگانے کا اعلان کیا تھا اب انرولمنٹ ایمرجنسی مہم کے تحت 10 لاکھ بچے سکولوں میں داخل ہونگے لیکن انہیں بٹھانے کیلئے کلاس روم ہونگے نہ ہی پڑھانے کیلئے اساتذہ، لازمی بات ہے پھر بچے سکول میں سارا دن ”گُلی ڈنڈا“ ہی کھیلیں گے۔ حکومت اگر ابھی سے بھرتی کا عمل شروع کرے تو آئندہ سال تک بھرتی کا عمل مکمل ہو سکے گا لہٰذا حکومت تعلیم سب کیلئے عام کرنے کیساتھ ساتھ اساتذہ بھی سب کیلئے عام کرے تاکہ سکولوں میں بچوں کو مصروف رکھا جائے۔ جس انداز سے آبادی بڑھ رہی ہے اسی انداز سے سکولز کالجز اور اساتذہ کی تعداد بھی بڑھانی چاہئے تاکہ ہر کچے اور پکے گھر میں تعلیم کا چراغ روشن ہو سکے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭