اتوار ‘ 7 ربیع الاوّل 1439ھ‘26 نومبر2017ئ

اتوار ‘ 7 ربیع الاوّل 1439ھ‘26 نومبر2017ئ

عدالت نے بلیک فرائی ڈے کیخلاف درخواست نمٹا دی
اول تو یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں کہ اسے عدالت میں گھسیٹا جائے۔ یورپ میں اس روز یا اصطلاح کی مناسبت سے آن لائن خریداری کی سہولت کے ساتھ جی کھول کر ضروریات زندگی کی خریداری جس کا غریب تصور بھی نہیں کرسکتے یا جو چیزیں ان کی پہنچ سے دور ہوں کم سے کم قیمت پر انہیں فروخت کی جاتی ہیں۔
ویسے بھی مغربی معیشت سرمایہ دارانہ نظام پر قائم ہے اس کی اس نیکی کے پیچھے بھی ان کا طرز زندگی اور نظام معیشت کام کرتا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں یا یوں کہہ لیں مغرب میں اقوام مغرب نیا سال شروع ہونے سے پہلے اپنی پرانی گھریلو اشیاءپھینک دیتے ہیں۔ اسی طرح دکاندار بھی ہر سال کے بچے کھچے مال کو اونے پونے داموں فروخت کرکے اپنی لاگت وصول کرلیتے ہیں۔ یوں ایک تیر سے دو شکار ہوتے ہیں۔ پرانا مال بھی نکل جاتا ہے۔ لاگت بھی وصول ہوتی ہے۔ لوگ بھی خوش ہو جاتے ہیں۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کروڑوں لوگوں کو کم قیمت پر خریداری کا موقع مل جاتا ہے۔
مغرب میں تو یہ ایک فیسٹیول کی طرح منایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں البتہ چونکہ دو یا تین سال ہوئے ہیں اس قسم کی کم قیمت خریداری کے فیسٹیول کو آئے اس لئے ہمارے ہاں ابھی تک 15یا 20 فیصد سے زیادہ رعایت کی ہمت کسی دکاندار یا تاجر کو نہیں پڑتی کہ وہ چیزیں اس سے زیادہ سستی کریں۔
مغرب میں 70 فیصد تک رعایت ملتی ہے۔ مگر ہم ابھی خدا ترسی کے اس معیار تک نہیں پہنچے۔ الٹا یہاں دن کے نام پر لڑائی جھگڑے کی نوبت آگئی ہے کہ جمعہ کو بلیک فرائی ڈے کہنا گناہ ہے۔ تو کیا اچھا ہو کہ ہم گرین یا وائٹ فرائیڈے اس کا نام رکھ لیں اور غریبوں کو 70 فیصد رعایت دے کر اسکی رونق بڑھائیں۔
٭....٭....٭....٭
نااہلی کے بعد میاں نوازشریف کا سکور بہتر ‘ مقبولیت میں اب بھی سب سے آگے ہیں: سروے رپورٹ
اس سروے رپورٹ سے تو ایک اور ہی دنیا سامنے آتی ہے۔ سیاستدانوں میں میاں نوازشریف ابھی سب سے محبوب سیاستدان کے درجہ پر فائز ہیں ان کے بعد دوسرا نمبر عمران خان کا ہے۔ گویا یہاں بھی پہلی اور دوسری پوزیشن پر حکمران مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کا ہی راج ہے۔ باقی سب بہت پیچھے ہیں۔
تیسرے نمبر پر بلاول ہیں۔ اس طرح جماعت کی مقبولیت میں بھی یہی پوزیشن نظر آرہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ 2018 میں ووٹوں کی جنگ جو لڑی جائے گی انہی دو جماعتوں کے درمیان ہوگی۔ باقی سب جماعتیں اس دوڑ میں بھی ان سے کوسوں پیچھے ہیں۔ تیسرا نمبر البتہ پیپلزپارٹی کے پاس ہے۔جو فی الحال میدان میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
نوازشریف کی نااہلی اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔مگر ہمارے عوام جس طرح مظلوموں سے پیار کرتے ہیں ان کی دلجوئی کے لئے بے قرار رہتے ہیں۔ اس فلسفے کی رو سے لگتا ہے میاں نوازشریف کی حمایت میں اسی کے سبب زیادہ کمی دیکھنے میں نہیں آرہی۔
سچ کہیں تو لگتا ہے کہیں کہیں عوام نے عمران خان کو بھی ظالموں کی صف میں شامل کردیا ہے۔ جس کا فائدہ میاں صاحب اٹھا رہے ہیں اور آئندہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔ اب یہ بات باقی سیاسی جماعتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے جو میاں صاحب کے نااہل قرار پانے کے بعد خوشی کے شادیانے بجا رہے تھے۔
اب کہیں یہ سروے رپورٹ دیکھنے کے بعد بغلیں نہ جھانکنے لگیں۔ ویسے بھی میاں صاحب کی ایک تو صورت ہی ظالم بڑی بھولی بھالی ہے۔ اوپر سے مظلومیت کا رنگ انہیں مزید دو آشتہ بنا رہا ہے۔ خاص طور پر جب وہ جلسے میں معصوم صورت بناکر عوام سے پوچھتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا تو پورا مجمع انکی تقریر پرتاثیر پر فدا ہو جاتا ہے۔
٭....٭....٭....٭
کرپشن بے نقاب کرنے سے روکنے اور رانا تنویر کو وزارت سائنس کا اضافی چارج دینے پر وزیر مملکت دوستین ڈومکی مستعفی
کوئی بھی شخص اپنے دائرہ کار میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرسکتا۔ تو بھلا دوستین ڈومکی کیسے یہ مداخلت فی الوزارت برداشت کرپاتے۔ ایک تو پہلے ہی وہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر مملکت تھے۔ اب یہ سب کو معلوم ہے کہ وزیرمملکت سے کیا مراد ہے اور وزیر کسے کہتے ہیں۔
ڈومکی صاحب کو شکایت یہ ہے کہ جیسے ہی انہوں نے کامسیٹس میں ایک بڑی کرپشن کا سراغ لگایا اور اس کا کھوج لگانے کے بعد اس میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی کے لئے کمر کس لی۔ ان کے اوپر ایک اور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی لاکر بٹھا دیا گیا۔ جس کے بوجھ تلے دب کر وہ اس کرپشن کیس میں کسی قسم کی کارروائی سے بے بس ہوگئے۔ اب تو حکومت وقت ہی بتا سکتی ہے کہ انہوں نے اپنے وزیر دفاعی پیداوار کو ایک اور محکمے کا اضافی چارج کیوں دے دیا۔
شاید رانا تنویر کی کارکردگی حکومت کے نزدیک زیادہ بہتر ہے اس لئے یہ فیصلہ کیا گیا۔ اب ایسی باتوں سے ظاہر ہے پہلے سے موجود وزیر مملکت نے تو زچ ہونا ہی تھا۔ وہ بھی اس مرحلے میں جب وہ کامسیٹس میں این ٹی ایس کے حوالے سے اربوں روپے کے گھپلے پکڑ کر 10 روز میں اسکی رپورٹ طلب کررہے تھے۔
لگتا ہے اربوں کی اس کرپشن میں جو گردنیں پھندے میں آنے والی تھیں ان کے سر پرستوں نے انہیں بچانے کے لئے وزیر مملکت کے اوپر وزیر لاکر بٹھا دیا تاکہ وزیر مملکت کچھ نہ کرسکیں۔ حکمران بخوبی جانتے ہیں کہ ایک جنگل میں دو شیر یا ایک نیام میں دو تلوار نہیں رہ سکتیں تو پھر یہ ایک وزارت میں دو وزیر لاکر بٹھانے کا کیا مقصد ہے۔ ایسے فیصلے کا مقصد صاف پتہ چلتا ہے۔ ڈومکی صاحب کو کام نہ کرنے دینا ہے۔ ویسے ڈومکی صاحب کو کہا کس نے تھا کہ شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالنے کو۔
٭....٭....٭....٭