بدھ ‘ 11 ؍ جمادی الثانی 1431ھ‘ 26؍ مئی 2010ء

مصر میں ماہرین آثار قدیمہ نے 2800 قبل مسیح دور کے مقبرے اور حنوط شدہ لاشیں دریافت کرلیں۔
مصر والے شکر کریں کہ وہاں فرعون موجود تھے اور انہوں نے سینکڑوں برس وہاں حکومت کی‘ اگر فراعنہ مصر نہ ہوتے تو مصر کیا دریافت کرتا؟ اسی طرح اگر سعودی عرب میں حرمین شریفین نہ ہوتے تو وہاں کیا ہوتا‘ یہود و نصاریٰ کہکشائوں میں گھوم رہے ہیں اور مسلمان ماضی میں گھوم رہے ہیں۔ پاکستان میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟ ایران میں خمینی پیدا نہ ہوئے ہوتے تو وہاں کیا ہوتا؟ عراق میں صدام نہ ہوتا‘ تو کیا ہوتا۔ لیبیا میں کہنہ سال قذافی نہ ہوتے تو وہاں کیا ہوتا؟ او آئی سی نہ ہوتی تو عالم اسلام یکجا ہو گیا ہوتا‘ آج اگر مغرب اسلام اور مسلمانوں کو پامال کر رہا ہے‘ انکے ساتھ زیادتی کر رہا ہے‘ انکے پیغمبرؐ کی توہین کر رہا ہے‘ انکے ملک برباد کررہا ہے‘ تو اس کو حق حاصل ہے کیونکہ ہماری غفلتوں نااہلیوں اور عیاشیوں کا یہی انجام ہونا تھا۔ مغرب بالخصوص امریکہ جعلی سائنسی کارنامے دکھا کر اپنے اصلی کارناموں کو چھپا رہا ہے‘ تاکہ کہیں کوئی اس کا توڑ نہ کردے۔
٭…٭…٭…٭
چار سالہ چینی بچے میں مائیکل جیکسن کی روح سما گئی‘ سیان بوو کی نقل و حرکت اور ڈانس کا انداز بالکل مائیکل جیکسن جیسا ہے۔
قدرت کے کارخانے میں اس قدر تنوع ہے کہ کسی چیز کی کوئی کمی نہیں‘ ایک سے ایک بڑھ کر کرشمہ موجود ہے‘ ساری دنیا میں جب بھی کوئی بڑا آدمی مر جاتا ہے تو اسکی روح کسی نہ کسی میں گھس جاتی ہے۔ ایک ہمارا ملک ہے کہ قائداعظم کی روح کسی میں نہ سما سکی وگرنہ یہ ملک آج ڈگری سے محروم افراد کے زیر تسلط نہ ہوتا۔ لیکن ہمارے ناچنے گانے والوں کی روحیں دوسرے لوگوں میں گھس جاتی ہیں‘ جیسے نصیبو لال‘ نوراں لال‘ میں جزوی طور پر نورجہاں کی روح گھس گئی ہے۔
اسی طرح بالی جٹی کی روح نرگس میں گھس گئی ہے۔ خدا جانے ہمارے بڑے لوگوں کی روحیں کیوں کسی میں نہیں گھستیں۔ اصل بات یہ ہے کہ بڑی روحیں بڑے لوگ تلاش کرتی ہیں‘ وہ تو ملتے ہی نہیں‘ اس لئے چھوٹی روحیں مزید چھوٹی روحوں میں داخل ہو جاتی ہیں‘ یہ مسئلہ کشمیر‘ یہ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ لوڈشیڈنگ‘ امریکہ کی پذیرائی اسی کرشمے کی پیداوار ہے کہ چھوٹی روحیں مزید چھوٹی روحوں میں گھس گئی ہیں۔
٭…٭…٭…٭
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے عالمی برادری دہشتگردی کیخلاف جنگ منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے وعدے پورے کرے۔
دراصل صدر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کب تک دہشت گردی‘ دہشت گردی کھیلتے رہو گے‘ اور دنیا کو بدامنی کا اکھاڑہ بناتے رہو گے‘ اب اسے ختم بھی کر دو‘ صدر نے بڑی اچھی بات کی ہے کہ پاک چین دوستی جامع سٹریٹجک پارٹنر شپ میں تبدیل ہو چکی ہے‘ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی اور تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی ضرورت ہے۔
چین کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون بڑھانا پاکستان کی خارجہ پالیسی کے کلیدی اصول میں سے ایک ہے۔ صدر صاحب کو چاہئے کہ شاہ محمود قریشی کے کان میں بھی یہ بات زور سے کہہ دیں اور ان سے یہ بھی کہہ دیں کہ ایں راہ کہ تو می روی با امریکستان است۔ کہ یہ رستہ جو تم چل رہے ہو‘ امریکہ کو جاتا ہے۔
صدر نے جن حالات میں یہ بیان دیا ہے‘ اس سے امریکہ کے کانوں کا میل صاف ہو جائیگا۔ اچھا ہوا کہ صدر نے پاکستان کی پالیسی ظاہر کر دی ہے‘ لگتا ہے انہیں یہودیوں کی کارستانیوں کا پتہ چل چکا ہے کہ وہ نہ صرف پوری اسلامی دنیا بلکہ ساری دنیا میں اپنی حکمرانی کا سکہ بٹھانا چاہتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
خارجہ امور کے ماہر نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ کو کبھی خوش نہیں کر سکتا۔
خارجہ امور کے ماہر اور شعبہ انٹرنیشنل افیئرز کے سربراہ عبدالنواز الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ کو کبھی خوش نہیں کر سکتا اور اپنے قومی مفادات کے تحت ہمیں اپنی پالیسی بنانی چاہئے اور قبائلی علاقوں میں اپریشن شروع کرنے کا امریکی دبائو فوری طور پر مسترد کرکے بات چیت کا عمل شروع کرکے امن قائم کرنا چاہئے۔
پاکستان کے سابق سفیر علائوالدین احمد نے کہا ہے کہ امریکہ کی پالیسی پاکستان کو ترقی دینے کی نہیں بلکہ دبائو میں رکھ کر اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی ہے۔ جن امریکی اقدامات سے پاکستان کو فائدہ حاصل ہو سکتا ہے‘ اس پر امریکہ نے ایک پر بھی عمل نہیں کیا کیونکہ آر او زیڈ جو قبائلی علاقے میں تعمیر کرنے تھے‘ اور وہاں پر لگنے والی انڈسٹری کو امریکہ میں ڈیوٹی فری رسائی دینی تھی‘ اس پر امریکی سینٹ نے بل روک رکھا ہے‘ اسی طرح پاکستان کو ٹیکسٹائل کوٹہ میں بھی اضافہ اور ایکسپورٹ ڈیوٹی کم کرنے کے ایشو پر بھی لٹکایا جا رہا ہے۔ اس لئے پاکستان کو بھی اپنے مفادات مدنظر رکھنے کیلئے چین اور دیگر طاقتوں سے اپنے تعلقات مضبوط کرنے چاہئیں۔
پاکستان امریکہ کو خوش تو کیا ہُش بھی نہیں کر سکتا اس لئے ماہرین کی رائے کو اپنا لینا چاہئے‘ یہی آج کا سبق ہے اسے اچھی طرح یاد کرلیں۔