بدھ ‘ 24 ؍ جمادی اوّل 1435ھ‘ 26؍ مارچ 2014ء

بدھ ‘ 24 ؍ جمادی اوّل 1435ھ‘ 26؍ مارچ 2014ء

 فاٹا قبائلی علاقوں میں 550 سکول دہشت گردی کی نذر ہوگئے۔اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ یہ تو کارخیر تھا جو طالبان کی مہربانیوں سے انجام دیاگیا یہ الگ بات ہے کہ اس میں وہ تنظیمیں اورجماعتیں بھی شامل ہیں جو جدید تعلیم کے مراکز یعنی سکولوں کو فرنگی نظام تعلیم کہہ کر ان کو بند کرانے کے درپے ہیں تاکہ ملک میں اور نوعمر بچوں میں جدید علوم رائج نہ ہوں اور یہ اپنے اپنے مدرسوں اور جامعات کے صدقے حکومت اور مخیر حضرات کی امداد پر پلتے رہیں اور انکی عالمانہ و خسروانہ شان و شوکت برقرار ہے۔
کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ یہ جدید علوم انسان کو باشعور بناتے ہیں وہ دنیا اور کائنات کے سربستہ راز جان لیتا ہے اور بقول اقبالؔ ’’بے چارے دو رکعت کے امام ‘‘ ہمارے ذہنوں اور قلوب کو اپنے پنجہ استبداد سے نکلنے کا کوئی موقع نہیں دیتے وہ بھلا اسرار کائنات اور رموز سلطنت کسی اور کو سیکھنے کہاں دینگے کیونکہ ایسا کرنے سے انکی اپنی علمی قابلیت کا پول بھی کھل جاتا ہے۔ اس وقت خیبر پی کے میں علم دوست جماعت اسلامی اور ترقی پسند تحریک انصاف کی حکومت خوش اسلوبی سے کام چلا رہی ہے وہ اب ذرا روشنی پھیلانے والے ان مراکز پر بھی توجہ دیں اور ان دہشتگردی کا شکار سکولوں کو بھی صرف بحال ہی نہیں فعال بھی کریں تاکہ یہاں کے بچے بھی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے علاقے کی ترقی اور تعمیر میں اپنا حصہ ڈال سکیں اور یہاں بھی علم و ہنر کا نور پھیلے۔ یہاں کے بچے بھی ملک و قوم کا نام روشن کریں۔
٭…٭…٭…٭
 فیول ایڈجسٹمنٹ ،بجلی کی قیمت میں 25پیسے فی یونٹ کمی کا امکان
 لیجئے جناب حکومت نے حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر اتنا بڑا اہم فیصلہ کیا ہے۔حالانکہ ابھی حکومت کی جانب سے مہنگائی کے جن کو ہلاشیری دینے کے اعلان کو زمین میں دبے صرف ایک دن ہوا ہے۔جب اس نے بجلی کی قیمت میں اڑھائی روپے فی یونٹ اضافے کا فرعونی اعلان کیا۔ مقام حیرت ہے حکومت اضافہ تو روپوں میں کرتی ہے اور کمی صرف پیسوں میں شاید یہ حکومت کے کرتا دھرتائوں کے نزدیک پیسے کی قدروقیمت اور اہمیت زیادہ ہے اورکاغذی روپے کی کم ،اسلئے وہ عوام کو رعایت پیسوں میں اور عذاب روپوں میں دیتے ہیں۔ خدا جانے وہ ہزاروں یونٹ بجلی کی پیداوار میں اضافے کی خوشخبریاں۔ لوڈشیڈنگ کم کرنے کے حسین دعوے کہاں رہ گئے جس کی خاطر آنکھیں بند کرکے لوگوں نے ’’ تیر ‘‘ سے جان بچا کر اپنے آپ کو ’’ شیر‘‘ کے آگے ڈال دیا اور نتیجے میں بجلی، گیس اور پٹرول کا روپ دھار کر یہ بھوکا شیر بار بار حملہ آور ہوکر غریبوں کی رہی سہی بوٹیاں بھی نوچ رہا ہے۔ عوام کا یہی قصور ہے کہ اس نے تبدیلی اور آسودگی کے خواب دیکھے مگر اسکی تعبیر ابھی تک مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کی شکل میں مل رہی ہے۔اب ڈالر نیچے بھی آیا تو کیا ہوا۔ خزانہ تو حکومت کا بھرا ہے جسے اب حکمران ٹولہ جی بھر کر لوٹے گا اور اپنے خزانے بھرے گا۔ عوام پہلے کی طرح مہنگائی کی چکی میں پستے رہیں گے ۔کہیں سے بھی انہیں ریلیف ملتا نظر نہیں آرہا۔
 امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی میری ای میل بھی مانیٹر کر رہی ہے :جمی کارٹر۔ اور پھر فرماتے ہیں جب میں صدر تھا تو سی آئی اے میرا فون بھی ٹیپ کرتا تھا۔ چنانچہ میں کوئی اہم بات فون پر نہیں کرتا تھا۔
 یہ امریکہ کے سابق صدر کی دکھ بھری بپتا ہے کسی عام پاکستانی کا نوحہ نہیں‘ جب امریکہ بہادر اپنے سابق صدور کو نہیں بخشتا اور اپنی سلامتی کیلئے انکے فون اور ای میلز پر بھی نظر رکھتا ہے تو پھر ہم فدویان امریکہ کس کھاتے میں ہیں، ہمیں تو ایسی کرم گستری، بندہ پروری اور نگاہ داری پر انکا شکر گزار ہوناچاہئے۔ایسے محبت کرنیوالے نظر رکھنے والے محبوب کا جو ہماری ہر ادا کا دیوانہ ہے ہمیں ہر طرف سے اپنی نظروں میں رکھتا ہے اور…؎
 تم سامنے بیٹھے رہوپلکیں میری جم جائیں
 حسرت ہے کہ یہ گھڑیاں صدیوں میں بدل جائیں
 والی کیفیت اس پر طاری رہتی ہے۔ہمیں کہیں اور ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا یہی وجہ ہے اس سے ہزاروں میں دور بیٹھے بھی ہمیں اگر چھینک آجائے تو اسے علم ہوجاتا ہے اور ذرا سی بد ہضمی یا متلی کی کیفیت میں تو اسکی طرف سے اڑنے والے ’’ڈرون‘‘ چٹکی بجاتے ہی ہماری طبیعت صاف کرنے کیلئے حاضر ہوجاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اب ہمارے روایتی حاسد پڑوسی نے ہمارے اس محبوب شررفشاں کو اپنے دام میں پھنسانے کی کوشش کامیابی سے شروع کی ہے۔اب یہ دیکھنا ہے کہ ہماری طرح اب اسے بھی ’’ یہ ’’ یار مار‘‘ امریکہ کب نظروں میں لاتا ہے اور اپنی شرائط منوانے کیلئے پیار سے ’’ ڈرونز‘‘ کے ذریعے چمکارتا اور پچکارتا ہے۔
٭…٭…٭…٭
 جعلی پیر کے حکم پر اولاد کی خاطر ہمسائے کی 5 سالہ بچی کو ذبح کرنے والا گرفتار
 تف ہے ایسی جہالت پر کہ انسان اشرف المخلوقات کے ہوتے ہوئے ایسا گھنائونا جرم کرجاتا ہے۔یہ سب توہمات اور جہالتوں سے گھرے اس معاشرے میں ہورہا ہے جہاں تعلیمی اداروں کو بموں سے اڑایا جاتا ہے اور ایسا کرنے والے اپنے کو دین متین اور علم و شعور کا امام گردانتے ہیں ۔یہ سب اسی جہالت کا کرشمہ ہے کیونکہ جب علم کے مرکز بند ہونگے لوگ جہالت کے اندھیروں میں پڑے رہیں گے تو پھر اسی طرح بہروپئے پیر بن کر امام بن کر بچوں کو ذبح کراتے رہیں گے۔خلق خدا میں مذہب کے نام پر فساد ڈلواتے اور اسکی آڑ میں اپنے شکم کے اور مال و زر کے انبار کو بڑھاتے رہیں گے۔ امام اور پیر تو وہ ہوتے ہیں جو عوام کے ساتھ رہتے ہیں انکی طرح کی زندگی بسر کرتے ہیں ان کو ہدایت اور سلامتی کی راہ پر لے جاتے ہیں ان کو دیتے ہیں ان میں بانٹتے ہیں۔ یہ عجب دور آیا ہے کہ عوام سے لینے والے ان کو لوٹنے والے اب ان کے بچوں کو کبھی مذہب کے نام پر کبھی اپنی کمائی کی خاطر بے وقوف بنا کر حکومت، دولت، عورت اور اولاد کے حصول کی خاطر ذبح کروا رہے ہیں۔ ایسے جاہل اور نمائشی چوغہ پہننے والے پیروں فقیروں کو پہلی فرصت میں کیفر کردار تک پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے جنہیں ’’شہباز‘‘ کی آنکھ سے بچ کر نہیں جانا چاہیے۔ وہ ایسے تمام جہالت اور گمراہی پھیلانے والے اڈوں کیخلاف کریک ڈائون کراکے انہیں ہمیشہ کیلئے ختم کردیں۔