اتوا ر ‘ 20 ؍ رمضان المبارک1437ھ‘ 26 ؍ جون 2016ء

اتوا ر ‘ 20 ؍ رمضان المبارک1437ھ‘ 26 ؍ جون 2016ء

وزیراعظم سے ملاقات، شہریار پی سی بی کی چیئرمینی نہیں چھوڑیں گے۔
پی سی بی کے چیئرمین کی لندن میں وزیراعظم سے ملاقات میں وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ اب سمجھ لیں انکی چیئرمینی کو فی الحال دُور دُور تک کوئی خطرہ نہیں ہے۔ حکومت بھی اب زیادہ تکلف سے سے کام نہ لے اور ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے شہریار جی کو تاحیات پی سی بی کا چیئرمین مقرر کر ہی دے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ ان کیخلاف باتیں کرنیوالے خاموش ہو جائینگے۔ دوسرا یہ فائدہ ہوگا کہ انکی جگہ سنبھالنے کے خواب دیکھنے والے بھی بیدار ہوکر اپنے کام کاج میں مصروف ہو جائینگے۔ اب شہریار جی تو لندن میں خوب وج گج کے پی سی بی کے امور دیکھیں گے، کھلاڑیوں اور آفیشلز پر نگاہ رکھیں گے، اس عمر میں بھی انکی یہ پذیرائی واقعی قابل غور ہے۔ بقول شاعر وہ تو …؎
سمجھے نہ کوئی سرسری سا تذکرہ مجھے
بھرپور ماجرا ہوں، حوالہ نہیں ہوں میں
خدا جانے انہوں نے ایسا کون سا جادو کررکھا ہے وزارت کھیل پر اور حکمرانوں پر، کرکٹ میں جیت ہو یا ہار، ابتری ہو یا بہتری، بورڈ یا ٹیم میں اکھاڑ پچھاڑ ہو، انہیں کوئی ہاتھ نہیں لگاتا۔ اب یہی حال باقی رہا تو چیئرمینی کے باقی امیدوار توکہیں دلبرداشتہ ہوکر اپنی امیدیں ہی نہ توڑ بیٹھیں۔ ویسے انہیں اتنا دلبرداشتہ ہونے کی ضرورت بھی نہیں، شہریار کب تک شہریاری کے مزے لوٹیں گے۔ عمر کے اس حصے میں بس مرزا غالب والی بات ہی باقی رہتی ہے۔
’’رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے‘‘
خدا جانے حکمرانوں کو قائم علی شاہ اور شہریار جیسے قدیم آرٹ کے نمونوں سے اتنی دلچسپی کیوں ہوتی ہے۔
٭…٭…٭…٭
پرویز رشید کی عمران کو بلاول کا جیالا بننے پر مبارکباد۔
عمران خان کے جی دار ہونے میں تو کسی کو کوئی شک نہیں ہے۔ اس لحاظ سے وہ تو پہلے ہی جیالے ہیں۔ دھرنا، جلسہ، جلوس، تقریر اور پریس کانفرنسوں میں ان کا مقابلہ کون ہے جو کرسکتا ہے۔ آخر بھٹو اور بینظیر میں بھی تو یہی خوبیاں تھیں۔ اسی بنیاد پر ہمارے ہاں بڑے لیڈر بنتے ہیں۔ وزیر اطلاعات و نشریات نے انہیں بلاول کا جیالا کہا ہے تو الفاظ کی اس شیرینی کا خط ہی اٹھایا جا سکتا ہے۔ بلاول تو ابھی تک خود پیپلز پارٹی کا جیالا بننے کی شرائط پوری نہیں کرپا رہے۔ جیالا نام ہے لڑنے والے کا، لاٹھی گولی اور جیل بھگتنے کا۔ جیالے ویسے ہی جیالے نہیں بنتے۔ اکثر جیالے تو اتنے جیالے ہوتے ہیں کہ مارے ڈر کے انہیں خود پیپلز پارٹی کے لیڈر اور قائد پارٹی سے ہی نکال دیتے ہیں۔ کیونکہ ان کا جیالاپن لیڈروں کو ہضم نہیں ہوتا۔ تو پھر بھلا عمران خان پیپلز پارٹی کے رہنما کا جیالا کیسے بن سکتا ہے اس لئے فی الحال پرویز رشید جی خاطر جمع رکھیں۔ عمران کے بلاول کا جیالے بننے کی کوئی امید نہیں۔ البتہ پیپلز پارٹی کے بہت سے جیالے اور لیڈر عمران خان کے اردگرد ضرور جمع ہیں۔ اب اگر تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی والے مل کر عید کے بعد میدان میں آگئے تو کیا ہوگا، فی الحال وہ اسکی فکر کریں۔
٭…٭…٭…٭
سموسہ کا تعلق ایران کی قدیم سلطنت سے ہے: ماہرین
سموسے کا تعلق ایران سے ہو یا ایران کا تعلق سموسے سے، اس پر بحث ماہرین کا مسئلہ ہے۔ برصغیر میں تو سموسہ یہاں کی روایات سے جڑا ہوا ہے۔ رمضان المبارک کے دوران افطاری کے موقع پر تو سموسہ من سلویٰ کی طرح کوئی آسمانی تحفہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر برا ہو ان گراں فروشوں کا جن کی وجہ سے یہ تہذیبی چیز اب کے بار دسترخوان سے غائب غائب نظر آتی ہے۔ ورنہ ہمارے ہاں تو اگر افطار میں سموسے اور پکوڑے نہ ہوں تو لگتا ہے جیسے افطار ہی نہیں ہوا۔ برصغیر میں پاکستان اور ہندوستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کی یہ دل پسند خوراک ہے۔ کہیں بھاری بھرکم بڑے سموسے اور کہیں نفیس باریک کاغذی سموسے اپنی اپنی بہار دکھا رہے ہوتے ہیں۔ ان سب میں بس ایک ہی چیز مشترک ہے اور وہ ہے آلو شریف۔ اب تو اس میںبھی نئی نئی ورائٹی آرہی ہیں۔ سموسہ شریف میں چکن اور قیمہ شریف بھی شامل کیا جانے لگا ہے۔ ورنہ پہلے قیمہ تو صرف کچوریوں میں بھرا جاتا تھا۔جتنا سموسہ برصغیر میں ایک رمضان میں کھایا جاتا ہے، اتنا تو ایران میں ہزار سال میں نہیں کھایا گیا ہوگا اس لئے سموسے کا تعلق ایران سے ہو یا نہ ہو، مگر ہمارا یہ خالص ورثہ بن چکا ہے۔ برصغیر میں کون سا گھر ہوگا جہاں رمضان المبارک میں سموسہ شریف دسترخوان پر راج کرتا نظر نہ آتا ہو۔
٭…٭…٭…٭
خیبر پی کے اسمبلی میں تنخواہوں میں اضافے کا بل اتفاق رائے سے منظور۔
خیبر اسمبلی کے ارکان کا اتحاد عوام کو مبارک ہو۔ رمضان المبارک میں ویسے ہی اچھے کاموں کا اجر و ثواب کئی گنا زیادہ ہوجاتا ہے۔ اس فارمولے کے تحت شاید خیبر پی کے کے ارکان اسمبلی نے متحد ہوکر حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے تفرقے سے نکل کر اپنے لئے تنخواہ اور الائونس میں کئی گنا اضافہ کی منظوری دیدی ہے۔ کاش یہی اتحاد اس وقت بھی یہ لوگ قائم رکھیں جب سرکاری یا غیر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اور عوام کو ریلیف دینے کا کوئی مسئلہ اسمبلی میں زیربحث آئے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ وہ سیاستدان جو حکمرانوں کو عام آدمی جیسی زندگی کا درس دیتے ہیں، وعظ کرتے ہیں، بات بات پر بزرگوں کی مثالیں دیتے ہیں، انہوں نے بھی اس تحریک کی مخالفت نہیں کی اور آرام سے دام کھرے کرلئے۔ کوئی بھی مرد دانا پوری اسمبلی میں نہیں اٹھا جو کہتا کہ ایک مزدور کی تنخواہ کے برابر ہماری تنخواہ کی جائے تاکہ دور فاروقی کا نظارہ پورے عالم کو دکھایا جاسکے۔ اب ان سے کون پوچھے قول و فعل کے اس فرق کا حالانکہ یہ سب ارکان اسمبلی کھاتے پیتے ہی نہیں کافی آسودہ حال لوگ ہیں۔ یہ تو اگر مفت بھی یہ کارخیر انجام دیں، انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مگر وہ کہتے ہیں ناں ’’مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے‘‘۔ واعظ کی خوش بیانیاں اپنی جگہ صوبائی اسمبلی کی تنخواہ اپنی جگہ۔