جمعہ 26 جون 2009 ء

ایک گدھا برابر ڈھی چوں ڈھیچوں کرتا جا رہا تھا‘ کسی نے پوچھا‘ یہ کیوں مسلسل ہینگتا جا رہا ہے؟ ایک دانش مند نے جواب دیا‘ اس نے تین دن پہلے لطیفہ سنا تھا۔
پاکستان نے امریکہ سے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے‘ ڈرون حملے خودمختاری کیخلاف ہیں‘ فوراً بند کئے جائیں۔ چلو دیر آید درست آید کیمطابق ہی سہی‘ ہمارے حکمرانوں کو بالآخر یہ تو سمجھ آگئی ہے کہ ڈرون حملے ہماری خودمختاری کیخلاف ہیں اور کمال تو یہ ہے کہ ان حملوں کو ہماری قیادت نے زبانی رد کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملوں پر پاکستانی مؤقف انتہائی مضبوط اور واضح ہے مگر امریکہ ڈرون حملوں سے باز نہیں آرہا۔ پاکستان کے عام شہری مارے جا رہے ہیں‘ برطانیہ‘ امریکہ‘ بھارت اور اسرائیل تماشا کر رہے ہیں‘ اب تو وہ چلمن بھی نہیں رہی جس سے لگ کر یہ ممالک تماشائے اہل حرم کرتے تھے۔ اب جو بھی ہے‘ سامنے ہے‘ یہ چاروں ممالک پاکستان میں خون کی ہولی کو دیکھ کر بہت خوش ہیں۔
ہماری عسکری اور سویلین قیادت کو چاہئے کہ امریکہ سے دوٹوک کہہ دے کہ آئندہ اگر ڈرون طیارے پاکستان میں داخل ہوئے تو مار گرائے جائینگے۔ یقین جانیئے کچھ نہ ہو گا۔ ساری مداخلتیں ختم ہو جائینگی‘ اس لئے کہ کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کو یہ اجازت نہیں دیگا کہ وہ اسکے علاقوں پر بمباری کرکے صحیح سلامت چلا جائے۔ یہ بات کون مانے گا کہ نیٹو طالبان کو پاکستان میں داخل ہونے سے روکنے میں قاصر ہے‘ آج نیٹو فورسز اور بالخصوص امریکی فورسز افغانستان سے طالبان کو نہ آنے دیں تو پاکستان میں 24 گھنٹے کے اندر اندر امن و امان قائم ہو گا اور یہ اندرون ملک ہجرتوں کا سفر ختم ہو جائیگا۔ پاکستان کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے‘ جس کا ثبوت بھارتی رویہ ہے جو یکسر بدل گیا ہے اور بھارت ڈکٹیشن پر اتر آیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ہماری ہر شعبے کی قیادت کو اندازہ ہو گیا ہے کہ امریکہ یہاں کس پلان کے تحت آیا ہے اور وہ یہ سب کن مقاصد کیلئے کرر ہا ہے۔ مگر حکمرانوں کے اندر اپنے جائز حق کیلئے آواز بلند کرنے کی جرأت نہیں۔ ایک سیدھا سا اصول ہے جو پوری دنیا میں رائج ہے کہ اگر کوئی ملک دوسرے ملک کی فضائی خلاف ورزی کرتا ہے‘ تو اسکا طیارہ مار گرایا جاتا ہے۔
٭…٭…٭…٭
بی بی سی نے خبر دی ہے کہ جنوبی پنجاب پر مشتمل نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے‘ (ق) لیگ کے بعض پارلیمینٹیرینز‘ مسلم لیگ (ن) کے جاوید ہاشمی اور پیپلز پارٹی کے کئی ارکان سرائیکی صوبہ کے حمایتی نظر آتے ہیں۔
خدا جانے کس نے کہا تھا‘ مگر سچ ہی کہا تھا کہ اس ملک کو باہر سے نہیں‘ اندر سے خطرہ ہے۔ پاکستان کا اپنا ایک متوازن وجو دہے‘ جسے چھیڑنا خطرناک ہے اور اگر چھیڑنے کا اتنا ہی شوق ہے تو ویسے ہی کسی کو چھیڑ دیں۔ خرما بھی ملے گا اور ثواب بھی۔
اگر سرائیکی صوبہ قائم کیا جاتا ہے اور پنجاب کو تین حصوں میں بانٹ دیا جاتا ہے تو کل دوسرے تینوں صوبوں میں سے بھی آواز آئیگی ’’میں بھی تو ہوں‘ اس طرح سرحد میں پختون اور ہندکو یا ہزارہ وال کے دو صوبے بلوچستان میں بلوچ اور پشتون آبادی کے دو صوبے بنیں گے۔ کراچی پہلے ہی روز جناح پور بن جائیگا جبکہ اندرون سندھ بھی یدھ مچے گا۔ ہر ڈویژن صوبہ بننے کا خواہش مند نظر آئیگا اور اس طرح محض تعصب کو ہوا ملے گی۔ لسانی بنیادوں پر تقسیم پاکستان کی بقاء کیلئے دیمک ہے۔ پاکستان کی تقسیم مستحکم تقسیم ہے‘ اگر زبان ہی کو بنیاد بنانا ہے تو پنجاب میں قصور کی زبان اور ہے‘ لاہور کی زبان اور‘ کیا ان دونوں شہروں کو بھی الگ الگ صوبہ بنایا جائیگا؟ کیونکہ دونوں کا پنجابی لہجہ الگ الگ ہے‘ جس طرح اسلام نے چار شادیوں کی اجازت دی ہے بشرطیکہ چار بیویاں رکھنے کی استطاعت ہو‘ اسی طرح پاکستان کے چاروں صوبے اپنی جگہ قائم ہیں اور وفاق انکو رکھنے کی استطاعت رکھتا ہے۔ اگر چار کی جگہ پندرہ سولہ صوبے قائم ہو گئے تو یہ ملکی شریعت کی خلاف ورزی ہے‘ آج اگر اسکی اجازت دی گئی تو کل سرحد‘ بلوچستان‘ سندھ بھی مطالبہ کرینگے۔
اس وقت ملک میں اقتدار اعلیٰ جنوبی پنجاب کا ہے‘ وزیراعظم گیلانی‘ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دونوں سرائیکی ہیں‘ مشیر خزانہ اور وزیر مملکت برائے خزانہ بھی جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں اور ماضی میں کئی گیلانی‘ قریشی‘ عباسی‘ لغاری‘ کھر‘ اسی پنجاب اور مرکز پر حکمرانی کر چکے ہیں۔ حیرانی اس امر پر ہے کہ جاوید ہاشمی بھی پنجاب کے ٹکڑے کرنے کے حمایتی ہیں اور انکے ساتھ پیپلز پارٹی کے کئی ارکان بھی سرائیکی صوبہ بنانے کی تائید کرتے نظر آتے ہیں۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے بجا طور پر کہا ہے‘ جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کا مطالبہ کرنیوالے سازش کر رہے ہیں۔ صوبوں کے ٹکڑے کرنیوالوں نے یہ بھی سوچا ہے کہ ملک میں مزید صوبے بنانے سے خزانے پر کتنا بوجھ پڑیگا۔ اس تقسیم سے ملک کی ساکھ خراب ہو گی‘ محض لسانی بنیادوں پر تقسیم سے یہ ملک کوئی بڑا نقصان اٹھا سکتا ہے۔
٭…٭…٭…٭
سندھ کے وزیر جیل خانہ جات نے کہا ہے‘ ہم نے جیل اصلاحات کی ہیں‘ پیپلز پارٹی روٹی کپڑا مکان دینے کے وعدے پر قائم ہے‘ جسے ضرورت ہو‘ وہ جیل آجائے۔
گویا پیپلز پارٹی خدانخواستہ مجرموں کی پارٹی ہے کہ اگر کسی کو روٹی کپڑا مکان چاہئے ہو‘ وہ کوئی جرم کرے اور سیدھا جیل چلا جائے‘ وہاں اسے رہنے کیلئے جگہ‘ پہننے کو کپڑا اور کھانے کو روٹی مل جائے گی۔ زرداری صاحب بڑے دانشمند آدمی ہیں‘ ذرا اپنے سندھ کی حکومت کے وزیر جیل خانہ جات سے پوچھیں تو سہی کہ وہ کیوں اپنی پارٹی کا لوگوں میں توا لگانا چاہتے ہیں۔ یعنی روٹی کپڑا مکان کیلئے جیل جانا ہو گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کیسے کیسے ہیرے جمع کر رکھے ہیں کہ انہیں یہ بھی خبر نہیں کہ اس طرح کے مہمل بیانات سے پارٹی کو کتنا نقصان پہنچتا ہے۔ وزیر موصوف اگر اسی طرح اصلاحات جیل کرتے رہے تو جو بھی روٹی کپڑا مکان چاہے گا‘ اس سے کوئی جرم کراکے جیل میں گھسیڑ دیا جائے۔