ہفتہ‘ 29؍ ذی الحج 1435ھ‘ 25 ؍ اکتوبر 2014ء

ہفتہ‘ 29؍ ذی الحج 1435ھ‘ 25 ؍ اکتوبر 2014ء

اللہ تعالیٰ نواز شریف حکومت کا خاتمہ نہیں چاہتا: طاہر القادری! تو پھر جناب آپ سر پھٹول کیوں کرتے پھر رہے ہیں!
اب کوئی علامہ سے پوچھے کہ جناب آپ کو یہ الہام کہاں سے ہوا۔ کیا پھر کوئی بشارتی خواب آپ کو آیا جس میں اس قسم کے اول فول جملے آپ کو سنائی دئیے گئے یا پھر یہ انتشار دماغی و قلبی کے باعث آپ کے ذاتی خیالات ہیں، جو بھی ہو یہ سب ناقابل فہم ہے۔ کچھ لوگ عقیدت کے ہاتھوں اندھے اور بہرے ہو سکتے ہیں مگر پاکستانی قوم کے پڑھے لکھے طبقات جنہیں آپ سے معمولی سی بھی دلچسپی تھی وہ کیا سوچ رہے ہوں گے۔
کہاں آپ کاروانِ کربلا کے راہرو بننے کے دعویداری کرتے تھے، شہادت کو مطلوب و مقصود قرار دیتے ہیں، تخت یا تختہ آپ کا ماٹو تھا، فرعون، نمرود اور یزیدانِ وقت کا نظام اُلٹنے کا بڑے گھن گرج سے دعویٰ کرتے تھے، کہاں یہ بے چارگی کہ یک جنبش لب دھرنا ختم کرا دیا۔ گویا وہ شاخ ہی نہ رہی جس پر آشیانہ تھا۔ دھرنے کے ہزاروں شرکاء حیران گم صم تھے کہ کیا ہو گیا، انہیں کہاں لا کر دھوکہ دیا ، کچھ تو باقاعدہ رو رہے تھے۔ آخر ان جوان بہن بیٹیوں کا جو رو رہی ہیں، یوں تماشہ بنانے کا کیا جواز تھا۔ بقول شاعر …؎
لُٹی جو فصل بہاراں تو عجب تھا منظر
لپٹ کے رو دئیے تنکے بھی آشیانے سے
اب جو علامہ شہر شہر گائوں گائوں جا کر جلسوں  اور دھرنے کی نوٹنکی کرتے پھر رہے ہیں اس کا کیا فائدہ اور شرکاء کی کمی کا غصہ میڈیا پر نکال رہے ہیں، تو کیوں؟ یہ سمجھ نہیں آ رہا البتہ اس سارے کھیل میں ہم میاں نواز شریف کو ضرور داد دیں گے کہ انہوں نے کمال مہارت صبر کے ساتھ بالآخر چتوڑ گڑھ کا قلعہ فتح کر لیا اور ایک ’’عقرب کا نیش‘‘ کاٹ ڈالا۔ کوئی جادو کی چھڑی تو ضرور ہے میاں جی کے پاس کہ دنیا بھر کی دولت سے جوتا بھی نا خریدنے کا دعویٰ کرنے والا ان کا بندہ بے دام بنا نظر آتا ہے۔ بقول درویش شاعر ساغرؔ …؎
کل جنہیں چُھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
آج وہ رونقِ بازار نظر آتے ہیں
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
نارنگ منڈی میں جیتنے والے امیدوار کے حامیوں کی فائرنگ پر وزیر اعلیٰ کا سخت نوٹس!
انتخاب میں جیت پر فائرنگ کا مرض ہمارے معاشرے میں ناسُور بن چکا ہے، اس خلافِ قانون عمل کی وجہ سے کئی مرتبہ بے گناہ لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں مگر یہ قانون شکن افراد باز نہیں آتے۔ نارنگ کے حلقہ پی پی 162 کی نشست یہاں کے ایم پی اے کی وفات کے باعث خالی ہوئی تھی اور الیکشن کے روز ہی ان کا چالیسواں بھی تھا اور جیتنے والا بھی اور کوئی نہیں مرحوم ایم پی اے کا بھائی ہے اس حساب سے تو جیت کی خوشی کے باوجود مسرت کا یہ اظہار نہایت غیر مناسب معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس مسرت میں غم کا ایک پہلو بھی ہے۔
بہرحال نارنگ میں جیت کے بعد امید ہے کہ مسلم لیگ (ن) والوں کو ملتان کی شکست کی اذیت سے کچھ نجات ملے گی ورنہ ملتان کی شکست سے تو مسلم لیگیوں کو لگتا تھا لاکڑا کاکڑا ہو گیا ہے اور وہ ملنے ملانے سے بھی گریز کرنے لگے تھے۔ اب امید ہے ان کو افاقہ ہو گا۔ یہ علاقے ویسے بھی مسلم لیگ (ن) کے روایتی علاقے کہلاتے ہیں اور نوجوان چودھری حسان ریاض کی کامیابی سے اہلیان علاقہ امید کرتے ہیں کہ وہ علاقے کے مسائل کے حل میں دلچسپی لیں گے اور روایتی تھانے کچہری کی سیاست سے ہٹ کر فلاحی اور ترقیاتی کاموں پر خصوصی توجہ دے گی۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
محرم الحرام کے موقع پر اکثر شہروں میں مختلف مسالک کے علما اور ذاکرین کے داخلے اور موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی لگا دی گئی!
ہمارے ملک میں ہر بیماری کا شافی و کافی حل ’’پابندی‘‘ میں پوشیدہ ہے۔ ہنگامے ہوں، ہڑتال ہو، مظاہرے ہوں یا ٹارگٹ کلنگ، خودکش حملے ہوں یا دھماکے، ڈکیتیاں ہوں یا قتل و غارت گری سب کا ایک ہی علاج ہے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری بند کی جائے۔ گویا ’’برق گرتی ہے تو بے چارے موٹر سائیکل والوں پر‘‘ یہ غریبوں کی سواری ہی ہمیشہ غریبوں کے لئے مشکل بنا دی جاتی ہے۔ کیا سارے ڈاکو، قاتل اور جرائم پیشہ افراد ہی موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں۔
 جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 95 فیصد سفید پوش افراد کی یہ عوامی سواری ہے جو بیک وقت پریمی جوڑے سے لے کر 4 بچوں والی فیملی کی بھی آمد و رفت کا سب سے آسان ذریعہ ہوتی ہے اور ہر طرح کے موسم میں رش ہو یا سرخ بتی کا اشارہ، موٹر سائیکل نہایت اطمینان سے کٹ مار کر بڑی بڑی گاڑی والوں کو پیچھے چھوڑ کر اپنی راہ لیتا ہے۔
اب محرم الحرام کے ماہ میں فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے لئے متعدد علماء اور ذاکرین کی مختلف شہروں اور علاقوں میں آمد پر پابندی بھی ضروری پابندیوں میں شامل ہو گئی ہے کیونکہ جو کام توپ و تفنگ سے نہیں ہوتا وہ ہمارے اکثر علماء اور ذاکرین اپنی زبان سے بخوبی انجام دیتے ہیں۔ کاش یہ حضرات اپنی زبان دانی اور تقریر کا حُسن محبت، اخوت اور بھائی چارے کے لئے استعمال کریں تو نفرت کے کانٹوں سے بھری شاخ پر بھی گلاب کے پھول کِھل سکتے ہیں، لہو کی بجائے خوشبو کی بارش ہو سکتی ہے۔ ذرا عمل کر کے تو دیکھیں صحنِ وطن میں محرم کیسے یگانگت و اخوت کے ساتھ منایا جا سکتا ہے۔
٭۔٭۔٭