ہفتہ ‘ 6 ربیع الاوّل 1439ھ‘25 نومبر2017ئ

ہفتہ ‘ 6 ربیع الاوّل 1439ھ‘25 نومبر2017ئ

ملاقات سے پھر انکار، نواز شریف آخری وقت پر چھوڑ گئے تھے، پی پی کو میثاق جمہوریت کا نقصان ہوا:زرداری
میاں نواز شریف جمہوریت کو بچانے کے لئے آصف زرداری سے ہاتھ ملانے کے خواہش مند ہیں جس کا وہ برملا اظہار بھی کر چکے ہیں مگر آصف زرداری ہاتھ پکڑاتے نظر نہیں آتے۔ وہ موجودہ حالات میں میاں نواز شریف کو تو خطرے سے دو چار دیکھ رہے ہیں مگر وہ جمہوریت کو خطرے سے باہر دیکھتے ہیں۔ ان کی دانست میںجب عمرانی و قادری دھرنوں کے دوران جمہوریت کو خطرے میں دیکھا تو مسلم لیگ ن کے کندھے سے کندھا ملالیا تھا۔ پی پی کے راہنما سعید غنی نے کہا ہے کہ جمہوریت کو خطرہ ہوا تو نواز شریف کی آواز کا انتظار نہیں کریں گے۔ جمہوریت کی عملداری اور مضبوطی کے لئے یہی جذبہ ہونا چائیے مگر کچھ لیڈر جمہوریت کو اپنی ذات سے وابستہ سمجھتے اور خود کو سیاست کیلئے ناگزیر گردانتے ہیں ۔ دو حریف جماعتوں کے درمیان سنگ باری ہوتی ہے توہلکی پھلکی موسیقی اتحادی جماعتوں میں رہتی ہے۔
پی پی پی ، ن لیگ دونوں ایسے مراحل سے گزر چکی ہیں کبھی دشمنی کی حد تک سیاسی اختلافات اور کبھی حکومت میں یکساں حصہ دار فرینڈلی اپوزیشن کے مظاہرے اور نظارے تو برسوں پر محیط ہیں۔ شدت اختلافات میں ہونی چائیے نہ مفاہمت میں ایسا حد سے گزر جانا کہ دو پارٹیاں یک جان ”یک قالب“ ہو جائیں۔ اعتدال اعتدال، برداشت برداشت، جس کا قومی سیاست میں فقدان ہے۔
زرداری کی جگہ نواز شریف ہوتے تو شاید وہ بھی ہاتھ ملانے میں متذبدب ہوتے ۔ عباس شریف کی تعزیت کے لئے وہ میاں نوازشریف کے پاس جانا چاہتے تھے مگر انہیں منع کر دیا گیا ۔یہ کہاں کی تہذیب کہاں کا کلچر، ایسی بھی کیا دشمنی تھی۔ بہرحال اس کے بعد زرداری صاحب ایسے ناراض ہوئے کہ وہ نواز شریف سے اپنا دامن بچا کر گزرتے ہیں جبکہ کئی لوگ زرداری صاحب سے اپنا دامن بچاتے ہیں۔ زرداری صاحب کے بار ے میں مشہور ہے کہ وہ دوستوں کے احسانات کو بھولتے ہیں نہ مخالفوں کے وار کبھی فراموش کرتے ہیں اور اپوزیشن کا تو ویسے بھی کام حکومت کی راہ میں پھول بچھانا نہیں ہوتا۔ سیاست میں تو مخالف کو تختہ دار تک پہنچانے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ زرداری صاحب نے تو تھوڑا سا جھٹکا ہی دیا ہے مگر وہ اتنے بھی سخت دل نہیں۔ فوج کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا نعرہ مستانہ بلند کیا اور اپنے عزم و ارادے سے کٹی پتنگ کی طرح زمین پر آگئے۔ میاں نواز شریف بھی اس دن کا کریں انتظار آنکھیں بند کرکے، جب زرداری صاحب کہتے ہوئے آئیں گے کہ آ میرے ہمجولی آ۔
٭....٭....٭....٭
ابھی تو میں 29 کا ہوں‘ شادی کی کیا جلدی ہے‘ انتظار کریں‘ بلاول۔
بلاول ٹھیک ہی فرما رہے ہیں کہ ابھی تو وہ صرف 29 سال کے ہیں‘ ابھی انہوں نے دیکھا ہی کیا ہے جو وقت سے پہلے ہی بیوی بچوں کے جھنجھٹ میں پڑ جائیں‘ ابھی انہوں نے سیاست کے اسرارورموز جاننے ہیں‘ پارٹی امور چلانے ہیں‘ اگر وہ گرہستی میں پڑ گئے تو باقی معاملات پیچھے رہ جائیں گے۔ ویسے بھی انکی اتنی عمر نہیں جس کے بارے میں کہا جائے ”عمریا بیتی جائے‘ کوئی رشتہ نہ آئے“۔ جب چاند چڑھے گا تو ہر کوئی دیکھ لے گا۔ فی الحال وہ بالی عمر سے گزر رہے ہیں‘ منڈا جوان ہوگا تو رشتوں کی بارش بھی ہوجائیگی خیر سے کمی اب بھی نہیں۔ جلسوں میں جس جوشیلے انداز میں وہ تقریر کرتے ہیں تو آواز و انداز میں اپنے نانا کے بجائے ان میں اپنی والدہ کی جھلک نظر آتی ہے اور عوام کے دل موہ لینے کیلئے بڑے بڑے قدآور سیاست دانوں کو نہ صرف للکارتے نظر آتے ہیں بلکہ ان سے روایتی وعدے بھی کرتے ہیں جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں ملکی سیاست کے کچھ کچھ رموز سمجھ میں آگئے ہیں۔ حالانکہ وہ ابھی سیاست کی الف ب سیکھ رہے ہیں۔ وہ اگر اسی طرح سیاست کرتے رہے تو یقیناً ایک دن اپنے والد صاحب کو بھی پیچھے چھوڑ جائینگے اور ممکن ہے یہ کہاوت ان پر صادق آجائے کہ ”بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ“۔ یہ بڑی اچھی بات ہے کہ بلاول کو ابھی شادی کی جلدی نہیں ہے‘ انہیں فی الحال اپنے اچھے مستقبل کی فکر ہے۔ انہوں نے شاید ہٹلر کا یہ قول پڑھ لیا ہو گا کہ ” خوبصورت لڑکی اچھا مستقبل نہیں دے سکتی جبکہ اچھا مستقبل کئی خوبصورت لڑکیاں دے سکتا ہے۔ “
٭....٭....٭....٭
نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 2 روپے 32 پیسے فی یونٹ کمی کی منظوری دے دی۔
پاکستان میں جہاں بجلی نایاب ہوا کرتی تھی وہیں اس کی قیمت بھی آسمان سے باتیں کرتی تھی۔ باتیں تو خیر اب بھی کر رہی ہے مگر نیپرا اپنے صارفین کو کبھی کبھی ریلیف بھی دے دیتا ہے جس سے لوڈشیڈنگ کی تکلیف عبوری طور پر کم ہو جاتی ہے۔ اب 2 روپے 32 پیسے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ایک ماہ کے لئے کم کئے گئے ہیں۔ قیمتیں جب بڑھائی جاتی ہیں تو حکومت حاتم طائی کی قبر پر یہ کہہ کر لات مارتی ہے کہ اس کا اطلاق 50 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین پر نہیں ہو گا۔ آج کے دور میں پچاس یونٹ سے کم وہی شخص استعمال کرتا ہو گا جو مہینہ بھر بجلی صرف موبائل فون چارج کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ متعلقہ محکمے نے ایسے برق رفتار میٹر متعارف کرا دیئے جو زیرو کے بلب پر بھی اپنی سپیڈ کی اوقات سے باہر ہو جاتے ہیں۔ بہرحال حکومت کی طرف دو روپے 32 پیسے کی لنگوٹی ہی سہی۔ بجلی آئے نہ آئے رعایت ہی سہی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ نومبر تک لوڈشیڈنگ ختم نہ ہوئی تو استعفیٰ دے دیں گے۔ نومبر کو شروع ہوئے بھی ”نومبر“ ہو گیا مگر لوڈشیڈنگ ہوتی ہے‘ گو پی پی پی دور کی طرح ”موسلا دھار“ نہیں ہوتی مگر اتنی ہوتی ہے جو خاقان عباسی کے استعفے کے لئے کافی ہے مگر کون ہے جو ان کو ان کا قول یاد کرائے۔
ایسے دعوے راجہ پرویز اشرف بطور وزیر کے لئے تھے پورے نہیں ہوئے تو ان کا کیا بگاڑ لیا گیا بلکہ ان کو وزیراعظم بنا دیا گیا۔ طویل بحث میں نہیں پڑتے چلو حکومت نے جتنا بھی دیا ریلیف تو دیا۔ ایسی خبریں آتی رہنی چاہئیں۔ آج ہی کی خبر ہے کہ برائلر کے گوشت میں سات روپے کمی ہو گئی۔ اس سے گوشت سے خریداروں کی تعداد تو نہیں بڑھے جو گوشت کھاتے ہیں ان کی خریداری کی مقدار ضرور بڑھ جائے گی چلو کسی کو تو فائدہ ہو گا۔