ہفتہ ‘ 14 رجب المرجب 1434ھ ‘ 25 مئی 2013 ئ

ہفتہ ‘ 14 رجب المرجب 1434ھ ‘ 25 مئی 2013 ئ

جھنگ حلقہ پی پی 78 منتخب ایم پی اے راشدہ یعقوب نے الیکشن پر 50 لاکھ سے زائد رقم خرچ کی : الیکشن کمیشن
50 لاکھ روپے سے ووٹ خریدے گئے ہیں یا ویسے ہی عوام پر لُٹا دئیے گئے ہر دو صورت میں انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ ایم پی اے کیلئے 10لاکھ روپے خرچ کرنے کی حد مقرر تھی لیکن راشدہ یعقوب نے 50 لاکھ بہا دئیے۔ فخرو بھائی اب تو آپ حرکت میں آئیں، ایک شخص آسمان کیطرف منہ کر کے ببانگِ دہل اقرار کر رہا ہے اور آپ کا گُرز حرکت میں نہیں آرہا۔ 50 لاکھ تو وہ ہیں جو انتخابی گوشوارے میں تحریر ہیں نہ جانے اسکے علاوہ خفیہ طور پر کیا کچھ ہو گا۔ دھاندلی کی آواز تو الیکشن کمیشن کے کانوں تک نہیں پہنچ رہی جو اقرارِ جرم کر رہے ہیں اس پر تو فردِ جرم عائد کرنی چاہئے۔ روایت تو یہی ہے کہ الیکشن کمیشن سے انصاف حاصل کرنیوالے اقتدار کی راہداریوں میں بیٹھے حضرات کے انتقام کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ راشدہ یعقوب کے اقبالِ جرم پر نااہلی کی فردِ جرم عائد کر دینی چاہئے تاکہ الیکشن کمیشن کی ساکھ برقرار رہے اور مصلحت کے خنجر سے جمہوریت کا قتلِ عام بند ہو جائے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
سینٹ قرارداد کے باوجود پی پی پی نے ایوان صدر سے مشرف کی تصویر نہیں ہٹائی۔
پیپلز پارٹی ایوان صدر سے سابق صدر ضیا¿الحق کی تصویر نہیں ہٹوا سکی مشرف کی کیسے اتروائے گی۔ موجودہ سینٹ میں درجن بھر ایسے سینٹر ہیں جو مشرف کے حکم پر سانس لیتے تھے، اسکی تصویروں کو بطور تفاخر سینے پر چسپاں کرتے تھے اور صحرا کی ریت کی طرح چُبھنے والی اُنکی مسکراہٹ کا جواب بھی تبسم میں دیتے تھے۔ سینٹر چوہدری شجاعت حسین نے وزارتِ عظمیٰ کا حلف انہیں سے اٹھایا تھا اور چوہدری پرویز الٰہی انہیں وردی میں 10 مرتبہ صدر منتخب کرانے کے نعرے لگاتے تھے آج ذرا سی دیر میں انہوں نے آنکھیں پیشانی پر رکھ لی ہیں، مزہ تو تب ہے کہ آمر کو کندھوں پر بٹھانے، ریفرنڈم کروا کر انہیں صدر منتخب کروانیوالے اور آمر سے حلف لیکر وزارتوں کے مزے اُڑانے والوں کو بھی بطور سزا کے سیاست سے آﺅٹ کر دیں۔ ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر سینٹ میں قرارداد پاس کروانے میں بڑے متحرک تھے، قرارداد پاس ہونے کے بعد انکی پُھرتی پانی کے بُلبُلے کی طرح خود بخود ختم ہو گئی ہے۔ وہ ایوان صدر کے دوسرے مکینِ خاص ہیں انہیں قرارداد پاس کروانے یا شور شرابہ کرنے کی چنداں ضرورت نہ تھی بلکہ رات کے اندھیرے میں خود ہی تصویر اتار دیتے ‘انہیں کس نے پوچھنا تھا ویسے بھی مشرف کی تصویر اترنے پر کسی نے کیا احتجاج کرنا تھا ۔کچھ لوگ ذاتی مشہوری کیلئے قراردادیں لیکر نمبر بنانا شروع کر دیتے ہیں لیکن بقول ضیاالحق سرحدی ....
جو گرجتے ہوں وہ برستے ہوں کبھی ایسا ہم نے سُنا نہیں
یہاں بوتا کوئی اور ہے یہاں کاٹتا کوئی اور ہے
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
پیپلز پارٹی سکھر میں کتے کو بھی کھڑا کر دے تو اسے بھی ووٹ مل جاتے ہیں : خورشید شاہ
کتے کو کھڑا کر دیں تو اسے بھی ووٹ پڑ جاتے لیکن پی پی کو نہیں پڑے تو اس سے کیا پتہ چلتا ہے خود فیصلہ کریں۔ خورشید شاہ بڑے زیرک سیاستدان ہیں وہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما بھی ہیں لیکن وہ بڑا بول بول گئے۔ بھٹو کے دور میں مشہور تھا کہ وہ کھمبے کو بھی کھڑا کر دیں تو وہ جیت جائے گا لیکن خورشید شاہ کی کتے کی اصطلاح پر ہم بھی چونک اُٹھے ہیں۔ جناب سکھر میں اگر آپ کو اپنی مقبولیت کا اتنا ہی زعم ہے تو کتے کو ٹکٹ دے دینی تھی وہاں کے عوام نے تو آپ کے امیدوار کو بھی مسترد کر دیا کتے کو وہ کیسے خَیرڈالتے۔ ویسے کتے کو اگر ”خَیر“ ڈال دیں تو وہ پھر بھی وفاداری کرتا ہے لیکن سکھر کے عوام کے ساتھ تو انکے سابق ممبران نے اچھا سلوک نہیں کیا اس بنا پر انہوں نے پیپلز پارٹی کا وہاں سے جنازہ نکال دیا ہے۔ اصحابِ کہف کے کتے نے غار کی چوکھٹ پر جان دے دی لیکن جن کا کھایا تھا ان سے بیوفائی نہیں کی۔ خورشید شاہ کو کتے کی وفاداری کی جانب دیکھنا چاہئے تھا لیکن انکی گفتگو سے لگتا ہے کہ وہ پارٹی شکست سے حواس باختہ ہو چکے ہیں، انہیں صبر و تحمل کے پہلو کو ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے تھا کیونکہ اس سے انکی اپنی ہی تضحیک اور جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
طالبان سے مذاکرات : مسلم لیگ (ن) کا فضل الرحمن کی مدد لینے پر غور !
(ن) لیگ اگر مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات کیلئے مدد لے گی تو پھر اسکا کوئی اچھا نتیجہ آنے کی امید نہیں کیونکہ مولانا فضل الرحمن جب امریکی سفیر یا انکے نمائندوں سے ملتے ہیں تو طالبان کے دلوں میں غصے کے ایسے اُبال آتے ہیں جیسے آجکل گرمی کے باعث جوہڑوں اور تالابوں میں کھڑے پانی میں آ رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے مذاکرات کے بدلے میں ایک ”پیکیج“ (ن) لیگ کے حوالے کر دیا ہے لیکن مذاکرات کرنے کے بعد بہتر ہو گا کہ انکی کامیابی کیلئے مولانا کو مصلے پر بٹھا دیا جائے تاکہ انکی برکت دور سے ہی لگے۔ مذاکراتی عمل کیلئے مولانا کا یہی رول کافی ہوگا۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
پنجاب اسمبلی کے پہلے اجلاس کیلئے تیاریاں، تزئین و آرائش بھی جاری !
پنجاب کی 16ویں اسمبلی کا پہلا اجلاس 29 مئی کو ہونے جا رہا ہے۔ نئے مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کیلئے اسمبلی کو دلہن کی طرح سجانے کی کوششیں جاری ہیں۔ رنگ و روغن کے ذریعے دیواروں کو چمکایا جا رہا ہے۔ کہیں پر ٹائلوں کو پالش کیا جا رہا ہے تو کہیں سیڑھیوں پر رگڑائی کی جا رہی ہے۔ اسمبلی کی نئی عمارت کو بننے میں نہ جانے اب کتنے سال لگیں گے لیکن مہنگائی کے باعث اخراجات بھی قارون کے خزانے جتنے خرچ ہونگے عمران خان کی آمد سے قبل بلڈنگ بنا لیں ورنہ وہ کوئی سکول بنوا دینگے، کسی یتیم خانے کو بھی دے سکتے ہیں‘ اس لئے بہتر ہے کہ خان کی آمد سے قبل نئی عمارت میں داخل ہو جائیں ورنہ ارکان اسمبلی کو کسی پارک میں کرسیاں لگا کر اجلاس کرنا پڑیگا۔ نئے آنیوالے سپیکر اور وزیر اعلیٰ کو اس بارے سنجیدہ ہو کر کوئی فیصلہ کرنا چاہئے، یہ سمجھ کر کام ادھورا نہیں رہنا چاہئے کہ یہ سابقین نے شروع کیا تھا۔ جو منصوبے ملکی مفاد میں ہیں انہیں مکمل کیا جائے۔