جمعۃ المبارک‘ 19 ؍ ربیع الثانی 1432ھ‘ 25؍ مارچ 2011ء

ہالی وڈ کی معروف اداکارہ ایلزبتھ ٹیلر 79 سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئیں۔
غالب کے اس شعر پر پورا پورا عمل ایلزبتھ ٹیلر نے کیا…؎
نغمہ ہائے زندگی ہی کو غنیمت جانیئے ...... بے صدا ہو جائیگا یہ ساز ہستی ایک دن
زندگی کا کوئی نغمہ تو کجا‘ ادنیٰ سا سُر بھی ایلزبتھ ٹیلر نے جانے نہ دیا اور 79 سال اس جہانِ رنگِ و بو میں پورے رنگین و دلنشین انداز میں گزار کر دل کو خدا حافظ کہتے ہوئے یہاں سے رخصت ہو گئیں۔ ہماری ملکہ ترنم اور ہالی وڈ کی ایلزبتھ ٹیلر کی زندگی میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔ ایلزبتھ کے شباب کے بارے میں کیا کہیں کہ…؎
ہنستا ہوا نورانی چہرہ کالی زلفیں رنگ سنہرا..... تیری جوانی توبہ توبہ ہے دلربا دلربا!
ایلزبتھ ٹیلر نے خود کو اس طرح ٹیلر کیا کہ عاشقوں کے بخیئے ادھیڑ دیئے مگر موت ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جو وقت مقررہ آنے پر جانے کا نام ہی نہیں لیتی اور ساتھ لے کر جاتی ہے۔ انسان پیکر حسن ہو اور اسے اپنا حسن برقرار رکھنے کا سلیقہ بھی آئے تو ایلزبتھ ٹیلر جیسی اداکارہ منظر پر نمودار ہوتی ہے۔ ایلزبتھ نے زندگی کو اتنا نچوڑ نچوڑ کر پیا کہ ایک زمانے تک وہ منظور نظر رہی۔ آٹھ شادیاں کیں اور چہرے پر جھری تک نہ آنے دی۔ انکی نیلگوں آنکھوں میں نیلے سمندروں کی سی گہرائی تھی اور اتنی ہی دلکشی‘ ان کا دل بھی خوبصورت تھا‘ جو79 برس اس ادا سے دھڑکا کہ لاکھوں دلوں کی دھڑکنیں تیز کرتا رہا اور آخر مارچ کے بہار آفریں مہینے میں 23 مارچ کو آنجہانی ہو کر سوئے عدم مارچ کر گئیں۔
یہ کوئی عدم ہے یا کوچۂ صنم ہے ...... چلی جاتی ہے اک خلقت خدا کی
٭…٭…٭…٭
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے‘ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کامیابی کے سوا کوئی آپشن نہیں‘ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا‘ حکومت مسلح افواج کی ضروریات پوری کریگی‘ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ دینے والے ہیروز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائینگی۔
دہشت گردی ایک ایسا لفظ یا اصطلاح ہے جس کا باطنی مفہوم ہر کسی کے نزدیک مختلف ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ مردِحر بھی کم از کم ڈرون حملوں کے نتیجے میں جاں بحق ہونیوالے بے گناہ قبائلیوں کی شہادت کو دہشت گردی کیخلاف کامیابی قرار نہیں دینگے۔ کراچی میں جو ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے اور مقبوضہ کشمیر میں جو غیرانسانی سلوک کیا جا رہا ہے اور بلا کے ستم ڈھائے جا رہے ہیں‘ مردِحر ان کو بھی دہشت گردی سمجھتے ہیں۔ دہشت گردی کا جو مفہوم امریکہ کے نزدیک روا ہے۔
وہ مردِحر کی نظر میں محلِ نظر ہے‘ مگر مجبوری پھر مجبوری ہے‘ اسی لئے تو انہوں نے امریکہ کی نام نہاد دہشت گردی کیخلاف جنگ میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں کے بارے میں کہہ دیا ہے کہ انکی قربانیاں رائیگاں نہیں جائینگی۔ دہشت گردی کیخلاف اگر بقول صدر گرامی قدر کامیابی کے سوا کوئی آپشن نہیں تو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور ڈرون حملے بند ہو جانے چاہئیں۔
صدر آصف علی زرداری کی ایک بڑی فتح یہ ہے کہ انہوں نے بہر رنگ جمہوریت قائم رکھی ہوئی ہے اور 2013ء تک اس کو لئے جا رہے ہیں‘ اس سے ملک و قوم کو یہ فائدہ ضرور ہو گا کہ ملک خالص ایک نمبر جمہوریت تک بھی پہنچ جائیگا۔ متحدہ نے حکومت کو تحفظ و تعاون دیا‘ اچھا کیا‘ تحریک انصاف کے قائد بھی متحدہ سے پینگیں بڑھا رہے ہیں‘ اگر اس پر کسی کو اعتراض نہیں‘ تو پیپلز پارٹی کے متحدہ سے ملاپ میں کیا حرج ہے‘ جمہوریت بچ گئی‘ اچھا ہوا۔
٭…٭…٭…٭
ورلڈ کپ میں پاکستان ویسٹ انڈیز کو روند کر سیمی فائنل میں پہنچ گیا۔ ملک بھر میں جشن منایا گیا جبکہ ڈھاکہ میں سبز ہلالی پرچم لہرائے گئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آفریدی کی قیادت میں پوری ٹیم کی شاندار کارکردگی اور محنت رنگ لائی ہے مگر اسکے ساتھ ہی کروڑوں افراد کی دعائیں بھی خالی نہیں گئیں۔ ڈھاکہ کی سرزمین کس قدر خوش ہوئی ہو گی جب اس پر وہی پرچم لہرایا گیا ہو گا جس سے وہ کبھی مانوس تھی۔ پاکستان کرکٹ ٹیم اب تک شاندار کامیابیاں حاصل کرتی جا رہی ہے‘ اگر یہاں ہم ملک کے مایہ ناز روحانی سکالر اور ماہر علم الاعداد و علم الاسماء یٰسین وٹو کی پے در پے ان پیش گوئیوں کا ذکر نہ کریں جن کے نتیجے میں پاکستان پہلے آسٹریلیا اور پھر ویسٹ انڈیز سے جیت کر سیمی فائل میں پہنچ گیا تو یہ زیادتی ہو گی۔ موصوف صرف اپنے فن ہی کے ماہر نہیں ہیں‘ مستجاب الدعوات ہستی بھی ہیں اور ہم ذاتی طور پر جانتے ہیں کہ وہ متشرع اور اوراد وظائف کے پابند ہیں اس لئے یہ شاید انکی بھی دعائوں کا اثر ہے جو چند روز پہلے شائع بھی ہو چکی ہیں کہ پاکستان مسلسل جیتتا جائیگا۔ انکی یہ بھی پیش گوئی ہے کہ سیمی فائنل میں پاکستان ہی جیتے گا۔ امید ہے کہ انکی دعائیں اور پیش گوئیاں کہیں بھی راستے میں دم نہیں توڑیں گی۔
ہماری موجودہ ٹیم جس انداز میں فتح کے جھنڈے گاڑتی جا رہی ہے‘ اس سے بھارت کی ٹیم کو بھی وبال ٹھاکرے سمیت گاڑتی جائیگی۔ وٹو صاحب واحد ماہر فلکیات ہیں‘ جنہوں نے کہا تھا جس کا رب اس کا سب‘ جبکہ باقیوں نے تو ناامیدی کی باتیں کی تھیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کی سیکورٹی مخدوش ہے اس لئے آئی سی سی اور حکومت پاکستان زور دے کہ سیمی فائنل کہیں اور کھیلا جائے کیونکہ بھارتی دہشت گرد اور انتہا پسند تنظیم شیوسینا پہلے ہی دھمکی دے چکی ہے۔
٭…٭…٭…٭
گوجرانوالہ ڈویژن میں امن و امان قائم کرنے‘ لوگوں کو تحفظ دینے پر ذوالفقار چیمہ کو تمغۂ امتیاز دیا گیا۔
مرکزی حکومت کے ذہن میں چاہے کچھ بھی ہو‘ مگر ذوالفقار چیمہ وہ سورما پولیس آفیسر ہیں‘ جن کی خدمات گوجرانوالہ ڈویژن کبھی بھلا نہ سکے گا۔ انکی یہ عزت افزائی تو برحق مگر باقی جو چار پانچ نام ہیں۔
آجکل ایسے طریقے موجود ہیں کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آجاتا ہے۔ خدا جانے کچی لسی کو کس حساب میں اعزاز عطا کیا گیا۔ بہرحال مرکز جنگل کا شیر ہے‘ بچہ دے یا انڈا‘ مگر اسے کم از کم اچھے اور گندے انڈوں میں تو فرق روا رکھنا چاہیے۔ ہم خوش ہیں کہ رطب ویابس سب کو اعزازات مل گئے‘ مبارکباد۔