جمعۃ المبارک ‘ 5؍ ربیع الاوّل 1439ھ‘24 ؍ نومبر2017ء

جمعۃ المبارک ‘ 5؍ ربیع الاوّل 1439ھ‘24 ؍ نومبر2017ء

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے سابق پہلوان بطور کمانڈو بھرتی کر لئے

کھیلوں کے میدان میں جب سے حکومت کی سرپرستی صرف کرکٹ تک محدود ہو گئی ہے۔ دوسرے کھیلوں پر ضعف طاری ہو گیا ہے جسکی زندہ مثال ہاکی اور سکوائش ہے۔ سکوائش تو چلیں طبقہ امرا کا کھیل ہے۔ مگر ہاکی تو سراپا عوامی کھیل ہے۔ اس کھیل کی وجہ سے دنیا بھر کے کھیل کے میدانوں میں کافی عرصہ پاکستان کا راج بھی رہا ہے۔ یہ تو چلیں وہ کھیل تھے جو گوروں کی مہربانی سے ولایتی تھے۔ مگر ہمارے اپنے دیسی برانڈ کے کھیلوں کا کیا حشر ہوا ہے۔ اس پر کسی نے نظر ڈالنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی۔ دیسی کھیلوں میں پہلوانی میں بھی ہمارا بڑا نام تھا۔ قیام پاکستان سے قبل رستم زماں گاما پہلوان کی شہ زوری کے ڈنکے دنیا بھر میں بجتے تھے۔ پھر قیام پاکستان کے بعد بھولو برادران کا نام ہی فن کشتی سے ایسا جڑا کہ انکے ساتھ نتھی ہو کر رہ گیا۔ حالانکہ گوجرانوالہ، سیالکوٹ‘ گجرات اور بہاولپور سے بھی بہت سے نامی گرامی پہلوانوں نے خوب نام کمایا۔ 1977ء کے بعد پہلوانی کا یہ دور بھی تیزی سے بیت گیا۔ اب تو بس پرانے اکھاڑوں میں سے جو بچ گئے ہیں وہاں کہیں کہیں چند ایک نوجوان زور لگانے، پنجہ آزمائی کرنے، جان بنانے آتے ہیں۔ سرکاری سرپرستی نہ ہونے کے سبب یہ نوجوان کبھی کبھارشہروں یا دیہات کی حد تک کے کشتی کے مقابلوں میں حصہ لیتے نظر آتے ہیں جسکی معراج رستم پنجاب کا ٹائٹل یا رستم پاکستان کا ٹائٹل جیتنا ہوتا ہے۔ اب محکمہ فوڈ نے دکانداروں اور ہوٹل والوں کے ہاتھوں اپنی معائنہ ٹیموں کی ٹھکائی اور پسپائی دیکھنے کے بعد ایک اچھا فیصلہ کیا کہ اسکی چھاپہ مار معائنہ ٹیموں میں ہٹے کٹے مشٹنڈے قسم کے باڈی بلڈر پہلوان نما نوجوان بھرتی کئے جائیں گے تا کہ آئندہ کسی کو ان کو ہاتھ لگانے اور روکنے کی جرأت نہ ہو۔ یہ سکواڈ تو تو میں میں کرنے والوں کو گریبان سے پکڑ کر ہی انکی طبیعت صاف کر سکیں۔ اس طرح بے شمار بے روزگار پہلوانوں کو نوکری اور اچھی خوراک مہیا ہوگی اور فوڈ اتھارٹی پنجاب کا رعب داب بھی قائم ہو گا۔
٭…٭…٭…٭
خیبر پی کے میں 99 فیصد لوگ بجلی کا بل نہیں دیتے: نیپرا۔ پن بجلی ٹیرف میں 3 روپے فی یونٹ اضافہ ہو گیا
اس بجلی چوری کا سارا ملبہ بجلی کے ان مظلوم صارفین کے سر کیوں ڈالا جائے جو نہایت ایمانداری سے بجلی کا بل بھی بر وقت ادا کرتے ہیں اور بجلی چوری بھی نہیں کرتے۔ نیپرا کو یہ تو نظر آ گیا کہ خیبر پی کے میں 99 فیصد لوگ بجلی کا بل نہیں دیتے۔ کیا وہ 99 فیصد بجلی فراہم کرنیوالا عملہ نظر نہیں آیا جو بجلی کی چوری میں بجلی چوروں کو بھرپور معاونت فراہم کرتا ہے۔ اگر بل ادا نہ کرنا جرم ہے تو بجلی چوری کرنا اور کروانا بھی جرم ہے۔ صرف خیبر پی کے ہی نہیں بلوچستان اور سندھ میں بھی یہ کام انیس بیس کے فرق سے اسی طرح جاری و ساری ہے۔ اسکے مقابلے میں اگر پنجاب میں بجلی ادا کرنے کی شرح بہتر ہے تو بجلی چوری کی شرح یہاں بھی خاصی تشویشناک ہے۔ یہاں بھی کتی چوروں کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ اب چونکہ نیپرا نے نہایت سوچ بچار کے بعد خیبر پی کے کو نمبر ون کا یہ اعزاز بجلی بل ادا نہ کرنے پر دیا ہے تو اسکی داد نہ دینا بھی بخیلی ہو گی۔ اب بزور طاقت یا غنڈہ گردی ایسا کرنا اگر ’’ثقافتی عمل‘‘ بن جائے تو پھر خربوزے کو دیکھ کر باقی بھی رنگ پکڑتے ہیں یوں بل نہیں دینا کی گردان پورے قبائلی معاشرے، دور دراز خطرناک علاقوں میں بڑھ جاتی ہے۔ اب یہ جو خیبر پی کے میں تبدیلی لانے کی دعویدار حکومت وہاں قائم ہے کیا وہ ان سب باتوں سے لا علم ہے۔ یا پھر خیبر پی کے کی حکومت خود ایسے لوگوں کو ہلہ شیری دے رہی ہو کہ شاباش جوانورّج کے کھائو۔ وجہ جو بھی ہو ایک طرف نیپرا بجلی کا رونا روتی ہے تو دوسری طرف پن بجلی ٹیرف میں 3 روپے فی یونٹ اضافہ کر کے کونسا اچھا کام کر رہی ہے۔ بجلی جتنی مہنگی ہو گی اسکی چوری کے مواقع اتنا ہی بڑھیں گے۔
٭…٭…٭…٭
پرس جیب میں ڈال لیں۔ گر گیا تو الزام مجھ پر آ جائے گا، میاں نواز شریف کے صحافی سے مکالمے پر قہقہے
سچ کہتے ہیں دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک پیتا ہے۔ میاں صاحب جس طرح الزامات کی زد میں ہیں۔ اس کے بعد انکی یہ بات انکے حالات کی سو فیصد عکاسی کرتی نظر آتی ہے۔ اس وقت وہ نشانے پر ہیں۔ تیر خود بخود اڑ کر ان کی طرف لپکتے نظر آتے ہیں۔ یہی حال ہر گیند کی ہے جو بلے پر لگتے ہی انکی وکٹوں کی طرف دوڑتی ہے۔ ایسے تلخ حالات میں بھی اگر ہمارے سابق وزیراعظم کی حسِ مزاح برقرار ہے تو یہ انکی حوصلہ مندی کی دلیل ہے۔ ورنہ ایسے حالات میں انکی جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید چپ رہتا کہ اچھا ہے اس صحافی کا بٹوہ گر جائے یا کوئی اسے نکال لے۔ اب چونکہ میاں صاحب خود بھی خوش مزاج ہیں اورمزاح کی حس بھی رکھتے ہیںتو مولانا فضل الرحمن جیسے خشک واعظ کے لطیفوں پر بھی جی کھول کے داد دیتے ہیں۔ صرف یہی نہیں خود بھی لطیفے سنا کر یا جملے بازی کر کے محفل لوٹ لیتے ہیں۔ جیسے گزشتہ روز ہوا۔ صحافی کا بٹوا بھی بچ گیا اور ساری محفل قہقہوں سے گونج اٹھی۔ اکثر لوگوں کو شکایت رہتی ہے کہ میاں صاحب ہمیشہ منہ پھلائے سنجیدگی کی چادر اوڑھے نظر آتے ہیں۔ اب گزشتہ روز انکے چہرے پر بکھری مسکراہٹ دیکھ کر ان کی بھی تسلی ہو گئی ہو گی کہ میاں صاحب ہنستے اور مسکراتے بھی ہیں۔ صرف یہی نہیں ہنسانا بھی جانتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
سوشل میڈیا پر عوام کو لوٹنے والے دو جعلی پیر گرفتار
سوشل میڈیا پر جو طوفان بدتمیزی برپا ہے۔ اس کی رو میں ہمارا معاشرہ یوں بہہ رہا ہے جیسے برساتی نالے میں گھاس پھونس، جسکا جو جی چاہے لکھتا ہے۔ اپ لوڈ کرتا ہے، شرم و حیا ختم ، عزت و احترام ختم، علم و عمل کی بجائے جہالت کا عروج اگر کسی نے دیکھنا ہو وہ سوشل میڈیا میں برپا اس طوفان میں دیکھ لے۔ کسی کا سر سلامت نہیں تو کسی کی پگڑی۔ دین دنیا سب پر رائے زنی کرنا ہر ایک جاہل گنوار نے اپنا حق سمجھ لیا ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک جاہل آپ کو یہاں سوشل میڈیا میں افلاطون اور ارسطوکا ہم پلہ بنتا نظر آئیگا۔ باقی جو رہ گئے وہ عالم، مفتی، پیر ، ولی اور دانشور بنے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں پیر فرتوت بھی اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہی جو اپنی چرب زبانی اور چالاکی سے سادہ لوح عوام کو لوٹتے ہیں۔ عوام بے چارے مجبور ہیں۔ تنگدستی، جہالت، بیماریاں، مالی و نفسیاتی پریشانیاں انہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں اگر کوئی بہروپیا ان کی اندھی عقیدت کا فائدہ اٹھاتا ہے تو وہ آسانی سے لٹ جاتے ہیں اس لئے سوشل میڈیا پر ان بہروپیائوں پر کڑی نظر رکھنا ہو گی۔ اگر سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ یہ گلیوں، محلوں میں قائم ریاکاریوں کے کارخانے، جعلی پیروں، ڈھونگی ملنگوں کے طلسم خانے بھی حکومت کی نظر میں آ جائیں تو ان کا بھی آپریشن کلین اپ کر لیں۔ لاکھوں لوگ لٹنے سے بچ جائیں گے۔ پولیس ہر روز دیکھتی ہے مگر ایکشن نہیں لیتی تو کیا آسمان سے یا چین سے ورکرز بلائے جائیں گے ان اڈوں کو بند کرانے کے لئے۔
٭…٭…٭…٭