ہفتہ ‘ 24 ؍ رجب المرجب ‘ 1435ھ ‘ 24 ؍ مئی 2014ء

ہفتہ  ‘ 24  ؍ رجب المرجب ‘  1435ھ ‘ 24 ؍ مئی 2014ء

1916ء سے جاری دیر کے اراضی مقدمے کا 98 سال بعد فیصلہ!
افسوس اس جلد بازی کے باعث ہم ایک خوبصورت عالمی ریکارڈ بنانے سے محروم رہ گئے، جہاں 98 برس انتظار کیا 2 برس اور کر لیتے تو کونسی قیامت ٹوٹ پڑتی۔ ویسے بھی یہ مقدمہ درج کرنے والے کون سے اب دنیا میں باقی ہوں گے کہ انہیں عدالتی فیصلے سے فرق پڑتا، وہ خوش ہوتے یا روتے، یہ فیصلہ سُن کر تو ان کی روحیں بھی ’’برزخ‘‘ میں …؎
بہت دیر کی مہرباں آتے آتے
کہاں کھو گئے ہم کہاں جاتے جاتے
زیرِ لب گنگنا رہی ہوں گی۔ یہ ہماری عدل گستری کی عمدہ مثال ہے۔ عام معمولی نوعیت کے مقدمات برسوں لٹکے رہتے ہیں۔ انصاف کے منتظر اور سزا کے منتظر دونوں فیصلہ آنے سے پہلے ہی ’’قضا‘‘ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بڑے لوگوں کے معاملات اور مقدمات چونکہ فوری انصاف کے متقاضی ہوتے ہیں اس لئے ان کی فوری سماعت ہوتی ہے اور فیصلہ بھی ترت آتا ہے۔
رہ گئے بیچارے عوام تو یہ 80، 90 سال کی مدت تو انکے مقدمات کیلئے زیادہ نہیں کیونکہ یہ ’’عوام‘‘ نامی مخلوق نے تو صدیوں سے قادر مطلق کی بارگاہ میں بھی ایک مقدمہ دائر کیا ہوا ہے اور گاہے بگاہے اس کی دُہائی دیتے چلے آ رہے ہیں۔ ’’ظالموں سے نجات‘‘ کے اس کیس کی سماعت جاری ہے۔ مگر ابھی تک فیصلے کی گھڑی نہیں آئی ورنہ کب کا صورِ اسرافیل پھونکا جا چکا ہوتا اور یہ دنیا بھر کے ’’ظالمین‘‘ قطار باندھے سب سے بڑی قاضی کی عدالت میں تھر تھر کانپ رہے ہوتے، اسی دن کے مظلوم عوام صدیوں سے منتظر ہیں۔ یہ 98 سال ان کے سامنے کیا حیثیت رکھتے ہیں لیکن اگر یہ کیس سینچری کر لیتا تو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں ہمارے ایک اور نمبر کا اضافہ ہو جاتا۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
مڈٹرم الیکشن کی ہَوا چل رہی ہے، حکومت کے 5 سال مکمل کرنا مشکل ہے : چودھری شجاعت !
پاکستانی سیاست میں پیر پگارہ مرحوم کے بعد اگر کسی کو باغ و بہار شخصیت کہا جا سکتا ہے تو وہ چودھری شجاعت ہیں۔ معصوم صورت، خاموش طبع، بظاہر سنجیدہ نظر آنے کے باوجود ان کی طرف سے جو بھی ارشاد ہوتا ہے وہ رمز و کنایہ سے پُر ہوتا ہے جیسے مجذوب کی بات کو اس کے ارد گرد جمع قسمت کا حال جاننے، فال نکلوانے، سٹے کا نمبر معلوم کرنے والے اور خوش قسمتی کی آس پر بیٹھے لوگ ازخود معنی پہنا لیتے ہیں، اسی طرح بہت سے خوشہ چیں بھی چودھری شجاعت کی چھوٹی سی بات کے بڑے بڑے معنی لے سکتے ہیں۔ یہی کمال پیر پگارہ کو بھی حاصل تھا۔
اب شجاعت صاحب کہہ رہے ہیں کہ مڈٹرم کی ہَوا چل پڑی ہے تو درست ہی ہو گا۔ عمران خان دھاندلی مہم چلا کر الیکشن کو مشکوک بنانے میں تندہی سے مصروف ہیں اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے پر تُلے ہوئے ہیں جبکہ حکمران تمام تر احتجاج، شور شرابے سے بے نیاز کاروبارِ حیات چلا رہے ہیں۔ اصلاح کی کسی کو پرواہ نہیں، بگاڑ پر بگاڑ ہو رہا ہے، ہر شعبہ خرابی کی طرف گامزن ہے مگر حکمران اپنے فیصلوں کو تریاق اور اکسیر سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہیں۔ عوام کا جینا محال ہو چکا ہے مگر کسی کو فکر نہیں۔ حکمران ہوں یا اپوزیشن سب کی جنگ عوام کے مفاد کیلئے نہیں کرسی یا اقتدار کے حصول کیلئے ہے۔ ہاں البتہ اس جنگ میں استعمال عوام کو کیا جاتا ہے۔
اب مڈٹرم الیکشن کی ہَوا تو چل پڑی ہے مگر شجاعت صاحب کے ہی بقول اپوزیشن جماعتوں کا گرینڈ الائنس بنتا نظر نہیں آتا یعنی متحدہ اپوزیشن کے غبارے سے ہَوا نکل چکی ہے اور یہ سب اپنی اپنی ڈفلی، اپنا اپنا راگ بجا رہے ہیں جس پر حکومت خوشی سے بغلیں بجا رہی ہو گی۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
ایران میں طلاق کی تقریب دھوم دھام سے منانے پر مذہبی رہنما ناراض!
اب کون سمجھائے ان عالموں کو جو لوگوں کی تھوڑی سی خوشی بھی برداشت نہیں کر سکتے اور لٹھ لیکر ان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ کوئی شادی کی تقریب دھوم دھام سے منانے پر منہ بنائے بیٹھتا ہے تو کوئی نکاح کی تقریب میں ڈھول، بتاشوں پر ناک بھوں چڑھاتا ہے۔
 اب کئی خواتین و  مرد و جو ذاتی زندگی ناخوشگوار ہونے کے باعث علیحدگی چاہتے اور مذہب میں اس کی اجازت ہے کسی تقریب میں اگر شکر بجا لاتے ہوئے احسن طریقہ سے ہنسی خوشی مردم بیزار ساتھی سے جان چھوٹنے کی خوشی میں کیک کاٹے، دوست احباب کو بُلا کر کھانا کھلائے تو اس میں کیا حرج ہے۔ غالب سے معذرت کے ساتھ …؎
ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق
’’جشنِ شادی نہ سہی طلاق کی تقریب سہی‘‘
ایرانی تو بڑے دل والے نکلے اتنا اہتمام تو یورپ میں نہیں ہوتا، وہاں بھی طلاق کی تقریب خاصی افسردہ یا نہایت ناخوشگوار اور سیاپے کی شکل اختیار کرتی ہے کیونکہ طلاق دینے والے کو یا لینے والے کو ٹھیک ٹھاک اخراجات ادا کرنے ہوتے ہیں۔
 اب ایران میں شرعی حق مہر کے بعد بھی کچھ بچت ہوتی ہو گی تو ہی وہ اس ’’محفلِ مسرت‘‘ کا اہتمام کرتے ہیں اور کیا معلوم اس ہنسی خوشی کی تقریب میں شاید سابقہ دل کو چھو لینے والے واقعات یاد آنے پر کوئی اپنا فیصلہ بدل لے تو یہ طلاق کی تقریب دوبارہ رجوع کی تقریب بھی بن سکتی ہے اور تقریبِ علیحدگی کا کارڈ ایک بار پھر دو لوں کے ملن کا سندیسہ بن سکتا ہے مگر تیزی سے بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح کی رفتار کو کنٹرول کرنا بھی ضروری ہے۔ جو ظاہر ہے صرف طلاق کی خوبصورت تقریب کی وجہ سے نہیں بڑھ رہی دیگر معاشی و سماجی عوامل اس کے پیچھے ہوتے ہیں۔ کیا ہمارے ناراض علمأ کبھی ان کو ختم کرنے کی کوشش کرنا پسند کریں گے تاکہ طلاق کی نوبت ہی نہ آئے۔