پیر‘9؍ جمادی الثانی 1431ھ‘ 24؍ مئی 2010ء

پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب نے انکشاف کیا ہے کہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں آئین نہیں تھا صرف قرآن شریف تھا اس لئے اُنہیں عدالت میں طلب کیا گیا۔توہین آمیز الفاظ پر لوگوں نے ٹیلی فون پر غم و غصے کا اظہار کیا۔
قرآن شریف تو آج بھی ہے فوزیہ وہاب حضرت عمرؓ کی سنت پر عمل کیوں نہیں کراتیں۔حیرانی ہے کہ قرآن شریف کے ہوتے ہوئے سربراہِ حکومت کو عدالت میں طلب نہ کرنے کی دلیل دی جارہی ہے جو صرف ناقص العقلی کا نتیجہ ہے دوسری بات یہ ہے کہ صحابہِ کرام تو قائداعظم کی طرح قرآن ہی کو اسلام کا آئین سمجھتے تھے اس لئے آئین کی عدم موجودگی کی فوزی دلیل ویسے بھی ناقص ہے قرآن ہی تو سکھاتا ہے کہ عدالت سے بالاترکوئی نہیں ہے۔قرآن شریف سے بڑا آئین کیا ہوسکتا ہے فوزیہ وہاب کے لئے مناسب ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے بارے میں انکشاف کریں اور وہاں ہاتھ نہ ڈالیں جہاں اُن کا ہاتھ نہیں پہنچتا۔یہ کہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر آئین نہ ہو اور قرآن شریف ہو تو سربراہِ حکومت کو طلب نہیں کیا جاسکتا۔آئین اور قرآن کا تقابل کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے متراف ہے بلکہ قرآن کو مسلمانوں کا آئین نہ سمجھنے کا اعلان ہے۔فوزیہ وہاب اپنے بیان کو واپس لیں اور ملک بھر کے مسلمانوں سے معافی مانگیں۔
٭٭٭٭
وائٹ ہائوس میں چوہا
وائٹ ہائوس میں صدر اوباما کی تقریر کے دوران ڈائیس کے سامنے ایک چوہا میڈیا کی توجہ کا مرکز اُس وقت بنا جب اوباما آفس کے سامنے تقریر کر رہے تھے۔کہ اچانک اُن کی دائیں جانب کی جھاڑیوں سے ایک چوہا نکلا اور بائیں ہاتھ پر موجود جھاڑیوں میں غائب ہوگیا۔چوہے کے سامنے ہوتے ہی سب کی توجہ صدر اوباما سے ہٹ گئی اور چوہے پر مرکوز ہوگئی فوٹو گرافر نے جلدی سے چوہے کی تصویر بنالی۔
چلو کم از کم اتناتو ہوا کہ ایک چوہے نے اوباما کے گلے میں گھنٹی باندھنے کی کوشش تو کی اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو کسی روز کوئی نہ کوئی چوہا ضرورکامیاب ہوجائے گا۔بہر حال اس چوہے نے کچھ دیر کے لئے اوباما کی تقریر تو درہم برہم کردی۔ ویسے چوہے کا اوباما کی پریس کانفرنس میں سے گزر جانا ایک سُپر پاور کے لئے اچھا شگون نہیں بلکہ ایک آسمانی اشارہ ہے کہ خدا کی ایک چھوٹی سی مخلوق بھی امریکی صدر کی تقریر کو کرکرا کر سکتی ہے۔اگر اس جیدار چوہے کی تقلید میں دنیا بھر کے چوہے یکجا ہوجائیں تو سُپر پاور چوہا بن سکتی ہے۔ ویسے بھی لگتا ہے کہ چوہے اور اوباما کی آپس میں کوئی رشتہ داری ہے۔وگرنہ وہ یوں بے دھڑک پریس کانفرنس کو تھوڑی دیر کے لئے ڈسٹرب نہ کرتا۔
٭٭٭٭
بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا ہے مسئلہ کشمیر کے حل کرنے کا وقت آگیا پاکستان سے کب تک لڑتے رہیںگے۔
یوں لگتا ہے کہ مجید نظامی کے بیانات پڑھ پڑھ کر بھارتی وزیر خارجہ نے یہ بیان دیا ہے یہاں اور تو کوئی کشمیر کی بات کرتا ہی نہیں۔بھارتی وزیر خارجہ نے بجا طورپر کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر طویل عرصے سے ہمارے لئے مصیبت کا باعث بنا ہوا ہے آخر ہم پاکستان کے ساتھ کب تک لڑتے رہینگے۔ بھارتی وزیر خارجہ کے بیان سے انداز ہ ہوتاہے کہ لوہا گرم ہے چوٹ لگا دینی چاہئے۔ بھارتی وزیر خارجہ کے اس بیان پر کہا جاسکتا ہے کہ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے۔لگتا ہے کہ ہندو نیتائوں کو اب سمجھ آئی ہے کہ پاکستان کشمیر کو چھوڑے گا نہیں۔ چاہے اس کے لئے اُسے کچھ بھی کرنا پڑے 62سال سے کشمیر کی لکیر کو پیٹا جارہا ہے جنگیں بھی ہوچکی ہیں اور کوئی فیصلہ کن جنگ ہونے کا بھی امکان ہے چلو اچھا ہوا بالآخر بھارت کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ اس سے پہلے کہ اس کا وقت آجائے مسئلہ کشمیر حل کرلیاجائے اور اس نے یہ بھی تسلیم کرلیا ہے کہ کشمیر اس کے لئے مصیبت بن گیا ہے۔پاکستان تو کب سے اس کی اس مصیبت سے جان چھڑانے کے لئے تیار ہے مگر ہندو بنیے کو پرائی چیز بھی چھوڑنے میں بڑی دیر لگتی ہے۔
٭٭٭٭
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے وزراء اداروں میں تصادم کا باعث بننے والے بیانات سے گریز کریں۔ کسی ادارے کے ساتھ تصادم کا راستہ اختیار نہیں کرنابعض قوتیں نہیں چاہتیں کہ جمہور ی نظام چلے۔
صدر آصف علی زرداری نے نہایت مستحسن بیان دیا ہے کہ بعض اہم سیاسی امور پر عدلیہ اور حکومت کے درمیان اختلاف رائے کو بحران میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لئے تمام وفاقی وزراء اور وزرائِ مملکت ایسے بیانات سے گریز کریں جو اداروں میں تصادم کا باعث بنیں۔ صدر صاحب چاہتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت قائم رہے کیونکہ اس طرح ملک سے آمریت کا عفریت دُور ہو سکتا ہے بعض وزراء اس لئے بھی قابلِ اعتراض بیانات دیتے ہیں کہ اُن کو یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ شاید اس طرح زرداری خوش ہونگے مگر صدر نے یہ بیان دے کر ان کی بے جا خوشی ماردی ہے۔ اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ کسی بھی ادارے کے ساتھ تصادم کے پیچھے ایسی قوتیں موجود ہیں جو نہیں چاہتیں کہ پاکستان میں جمہوری نظام چلے۔اس وقت صدر صاحب پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف جمہوریت کی حفاظت کریں بلکہ امریکی اثرو نفوذ کو بھی آہستہ آہستہ ملک سے رخصت کرنے کی حکمت عملی اختیارکریں۔