بدھ ‘ 6 رمضان المبارک ‘ 1436ھ ‘ 24 جون 2015ئ

بدھ ‘ 6 رمضان المبارک ‘ 1436ھ ‘ 24 جون 2015ئ

کراچی میں لینڈ مافیا نے سمندر بیچ دیا۔

اس سے بڑا مذاق یہ ہوا کہ 80 سال پرانی تاریخ ڈال کر یہ اراضی 8 سال بچے نام الاٹ کی گئی ہے۔اب وہ 88 برس کا بابا تو بن گیا ہو گا۔ اگر زندہ ہے تو اس کمال ہنر کی جتنی بھی داد دی جائے کم ہے۔ دراصل پاکستان کسی کے باپ داد کی جاگیر تو ہے نہیں کہ وہ اس کی حفاظت میں دن رات پہرہ دے۔ یہ تو بابائے قوم کا احسان ہے کہ انہوں نے عظیم سلطنت بنا کر ہم جیسوں کے حوالے کر دی جو اس تحفہ¿ عظیم کو سنبھالنے کی بجائے اس کو بیچ کر دام کھرے کر رہے ہیں۔ پورے ملک میں جہاں دیکھیں سر سبز لہلہاتے کھیتوں اور زرعی اراضی کو کنکریٹ کے قبرستان میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہ قیمتی اراضی، رشوت، دھونس دھاندلی سے حاصل کی جاتی ہے وہ بھی اونے پونے داموں اور پھر سونے کے بھاﺅ بکتی ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ حضرت یہ زرعی میدان ختم ہو گئے تو فصلیں اگانے کیا چاند پر جاﺅ گے.... صحراﺅں میں کھیتی باڑی کرو گے.... پتھروں پر ہل چلاﺅ گے.... یا دوسروں سے مانگ مانگ کر کھاﺅ گے؟ مانگنا تو ہماری فطرت ثانیہ بن چکی ہے، جب ایسے ایسے ماہر پلاننگ کرنے والے موجود ہوں تو سمندر کی فروخت میں اچنبھے والی کون سی بات رہ جاتی ہے۔ آخر کل کلاں کو یہ سمندر بھی تو خشک ہو جائے گا، پھر یہاں کی اراضی پر بھی ایک بڑا ٹاﺅن بنایا جا سکتا ہے۔ آخر دیبل بھی تو جو آج ٹھٹھہ کے پاس ہے کبھی سمندری بندرگاہ تھا جو اب صحرا بن چکا ہے۔ یہ آئیڈیا برا نہیں ہے۔ جب گوادر منصوبے کا آغاز ہوا تھا وہاں بنجر اراضی کروڑوں کے مول خریدی گئی۔ اب دیکھ لیں 20- 10 برس بعد وہاں پاک چائنہ کاریڈور کا سورج نصف النہار پر ہے۔ کل یہی سمندر جب کراچی سے پرے ہٹے گا تو قیمتی اراضی خود بخود ہمارے لئے دستیاب ہو گی۔ اس لئے ہمیں ابھی سے سمندری اراضی برائے فروخت کا کوئی قومی منصوبہ شروع کرنا چاہئے جس میں رنگ بھرنے کے لئے ”آج کا پانی کل کا سونا“ جیسے اشتہارات کافی ہیں۔ عوام ازل سے سادہ لوح ہیں ڈبل شاہ ہوں یا فراڈ ہاﺅسنگ سکیمیں وہ ہر جگہ منافع کے نام پر پیسہ لگا کر لٹنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔
٭....٭....٭
سندھ میں آنے والے ابھی تک مہاجر ہیں، پنجاب میں آنے والے کب کے پاکستانی بن چکے: جاوید ناگوری
سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رہنما جاوید ناگوری نے بات تو سچی کی مگر بھول گئے کہ سچی بات آسانی سے ہضم نہیں ہوتی کیونکہ سچ بہت کڑوا ہوتا ہے اور اسے جھوٹ کی طرح میٹھا بنا کر ہپ ہپ کر کے ہضم نہیں کیا جا سکتا۔ 1947ءمیں تاریخ کی ایک بڑی المناک ہجرت ہوئی۔ لاکھوں مسلمان جان، مال و عزت کی قربانی دیتے ہوئے ہندوستان سے پاکستان آئے۔ پنجاب پانچ دریاﺅں کی سرزمین کے پانچوں دریا خون سے بھر گئے۔ یہاں کی زمین تک تقسیم ہوئی اور کچھ اس طرح کہ آج واہگہ سے لے کر دہلی تک پنجاب میں کوئی مسلمان گھریا مسجد موجود نہیں، لاکھوں پنجابی مسلمان قتل ہوگئے یا ہجرت کر کے پاکستان آ گئے ان کے پرکھوں کی نشانیاں تک مٹا دی گئیں۔ ان کا اس پار کوئی باقی نہیں بچا۔ مگر انہوں نے یہاں آ کر اپنے آپ کو مہاجر نہیں کہا، خود کو پاکستانی بنا لیا۔ سندھ میں آنے والے مہاجروں کی اولادیں بھی اب جوانی کی دہلیز پار کر چکی ہیں۔ وہ بھی سب مکمل اور پکے سچے پاکستانی ہیں۔ بس یہ سیاست کرنے والوں نے انہیں سندھی اور مہاجر کی بے بنیاد تقسیم میں ابھی تک پھنسایا ہوا ہے۔ جس دن ہم یہ لسانی یا صوبائی تعصب چھوڑ دیں گے اس دن ہمیں ایک دوسرے کو طعنے دینے سے نجات مل جائے گی۔ جب تک ہم سب پاکستانی بن کر نہیں سوچیں گے یہی فساد جھگڑے، الزامات اور اس کے بعد معافیاں ہمارا مقدر بنیں گی۔ زبان، ثقافت اور لباس کے نام پر ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا فخر کی نہیں شرمندگی کی بات ہے۔ جس دن یہ بات ہمیں سمجھ میں آ گئی تو سمجھ لیں ہم پانچوں انگلیوں کو مکا بنا کر اپنے ہر دشمن کے دانت توڑ سکیں گے۔ ورنہ ہر کوئی آ کر ایک ایک کر کے ہمیں توڑتا چلا جائے گا۔
٭....٭....٭
پیپلز پارٹی بقا کی جنگ لڑرہی ہے۔ حکومت 2 سے 3 ماہ میں جا سکتی ہے۔ شیخ رشید
لیجئے کچھ عرصہ افاقہ کے بعد شیخ رشید کا پرانا مرض دوبارہ عود کر آیا ہے اور موصوف ایک مرتبہ پھر تیار ہو کر میڈیا کے توسط سے محکمہ موسمیات کے موسم کا حال کی طرح بتانے والوں حکومت کے جانے کی پیشن گوئیاں کرنے لگے ہیں۔
عمرانی دھرنوں کے دوران پیشنگوئیاں کرنے والوں کی سنہری تکون شیخ رشید، عمران خان اور طاہر القادری پر مشتمل تھی مگر افسوس عمران خان اور طاہر القادری نے یہ تکون توڑتے ہوئے ازراہ مروت بھی شیخ رشید کو اس قابل نہ سمجھا کہ ان سے مشورہ ہی کر لیتے کہ جناب دھرنوں کا بوریا بستر سمیٹیں یا ابھی مزید کچھ قیام کریں بلکہ دھرنوں کی بے وقت موت پر شیخ صاحب کافی دلبرداشتہ نظر آتے تھے اور یہی صدمہ شیخ رشید نے دل پر لیا اور کافی عرصہ چپ رہے! مگر سیاست کا نشہ ایسا ویسا تھوڑی ہوتا ہے کہ ایکدم اتر جائے۔ شیخ صاحب نے اپنے مہربان عمران خان کو بوجھل دل سے ہی سہی معاف کر ہی دیا ہو گا آج کل کہیں کہیں کبھی کبھی وہ عمران خان کے ساتھ دل پشوری کرتے نظر آتے ہیں مگر شدت صدمہ سے آواز کہیں سینے میں ہی دب کر رہ جاتی ہے۔
ابھی تک اپنے آپ کو کریکٹر ایکٹر بنا کر شائقین سے داد وصول کرنے والوں کی بے رخی وہ نہیں بھولے مگر وفا داری بشرط استواری کے مصداق عمران خان سے یاری لگائے بیٹھے ہیں۔
گزشتہ روز ایک ٹی وی چینل پربھی انٹرویو دیتے وقت وہ شیخ رشید سے زیادہ کوئی غمزدہ قوم پرست رہنما لگ رہے تھے جو اس بات پر شاکی رہتے ہیں کہ ان کی قوم ان کی صرف تقریریں سنتی ہے ووٹ کسی اور کو دیتی ہے۔