منگل ‘25 ؍ شعبان 1435ھ ‘ 24جون 2014ء

منگل ‘25 ؍ شعبان   1435ھ ‘  24جون  2014ء

لاہوریوں نے نہر میں نہانے پر پابندی ہَوا میں اُڑا دی!
ہوش تو ویسے ہی لاہوریوں کے موسم نے اُڑا رکھے ہیں تو ایسے میں قانون کی پابندی کون کرے، وہ بھی نہر پر نہانے کی۔ پابندی تو اس قیامت خیز گرمی میں بذاتِ خود بہت بڑا ظلم ہے کیونکہ لاکھوں زندہ دلانِ لاہور کیلئے یہ نہر سب سے بڑا پکنک پوائنٹ ہے جہاں وہ گرمی سے نجات کیلئے چند گھنٹے ہنسنے، کھیلنے اور نہانے کیلئے آ کر مناتے ہیں ورنہ اندرونِ شہر اور چھوٹے گھروں کے رہنے والے باسی کہاں جائیں جو پنکھے کا بل مشکل سے دیتے ہیں وہ اے سی تو نہیں لگا سکتے، ایسے میں وہ نہر کا رُخ کرتے ہیں جو لاہور میں ’’مری اور سوات‘‘ کا مزہ دیتی ہے۔ بجائے اس کے کہ حکومت یہاں حفاظتی انتظامات بہتر بنائے ہر سال یہاں پابندی کے لغو اعلانات کرتی پھرتی ہے مگر ہمارے جیالے شہری بھی موت سے بے نیاز ہو کر اس دل بہار نہر پر فدا ہونے چلے آتے ہیں کیونکہ اس نہر کے سوا ان کے پاس گرمی سے بچائو کیلئے کوئی جائے پناہ بھی تو نہیں۔
اگر حکومت یہاں انتظامات اور سہولتیں فراہم کرے تو لاکھوں شہریوں کو نہ صرف تحفظ ملے گا بلکہ ان شہریوں کو حقیقی معنوں میں لطف اندوز ہونے میں مدد ملے گی۔ آئیے ہم مل کر اس بات کا عہد کریں کہ ہم اس نہر کے ارد گرد کے علاقے کو ’’وینس‘‘ بنا دیں گے جہاں لوگ ڈوبنے کیلئے نہیں تفریح کیلئے آئیں گے۔ راوی کا تو ہم بہت پہلے بیڑہ غرق کر چکے ہیں اسے گندے نالے میں بدل دیا ہے اب اس نہر کے ساتھ اگر اسکے سابقہ حُسن کو بحال کیا جائے اور اسے بھی حقیقی پکنک پوائنٹ بنایا جائے تو لاہور واقعی وینس بن سکتا ہے صرف پابندیاں لگانے سے کچھ نہیں ہوتا۔ عوام کو سکون کے چند لمحے گزارنے کیلئے تفریح گاہیں چاہئیں جن کی فراہمی حکومت کا فرض ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
طاہر القادری کا سیاسی ایجنڈا سمجھ سے بالاتر ہے : سراج الحق !
ہمارے نزدیک تو خود قادری صاحب سمجھ سے بالاتر ہیں، ان کے ایجنڈے کا کیا کہنا۔ جناب کینیڈا سے چلے ہیں پاکستان میں انقلاب لانے اور وہ بھی فرسٹ کلاس کے انتہائی مہنگے امارات ائر لائن کے ٹکٹ خرید کر پُرسکون طیارے میں اور لاکھوں اپنے کارکنوں کو خواب دکھا رہے ہیں حضرت فاروق اعظمؓ کے مثالی دور کا۔ قیمتی شاہانہ لباس میں ملبوس علامہ نے بُلٹ پروف گاڑی میں ائر پورٹ سے گھر ذاتی محافظوں کی معیت میں جانے کی خواہش اور گورنر پنجاب کی ذاتی گارنٹی کیلئے 9گھنٹے ٹی وی پر تماشہ لگائے رکھاجس پر البتہ انہیں داد ملنی چاہئے۔ اپنے ہر اعلان پر یوٹرن لینا ان کی عادت نہ سہی ادا ہی سہی، اس کا مظاہرہ لاکھوں پاکستانیوں نے براہِ راست ٹی وی پر دیکھا اور سُنا بھی۔ اپنی کسی بات پر قائم رہنا ان کیلئے ممکن نہیں اس لئے ان کی وطن واپسی کے اعلان پر عمل کرکے انہوں نے کئی لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔رہا ان کا سیاسی ایجنڈا تو ان کے پُراسرار خوابوں کی طرح ہنوز یہ بھی پردہ غیب میں ہے۔ بُلٹ پروف اے سی والی گاڑی میں سفر کرنے والا، پُرتعیش محل نما گھر میں رہنے والا، کروڑوں بھوکے ننگے آدمیوں کی قیادت کا خواب کس منہ سے دیکھ سکتا ہے۔ حیرت ہے جو شخص بات بات پر خدا اسکے رسولؐ اور صحابہ کرامؓ کی مثالیں دیتا ہے اس کی اپنی زندگی ان نیک لوگوں سے کتنی مختلف ہے جو کھلے عام مخالفتوں اور قاتلانہ حملوں کے باوجود لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے تھے، ان کے مسائل حل کرتے تھے انہی کی مانند زندگی بسر کرتے تھے بعد از وفات بھی انکے گھروں سے کوئی زادِ راہ برآمد نہیں ہوتا تھا اور یہاں جو حال ہے اس پر ہم کچھ نہیں کہہ سکتے، سراج الحق اور مولانا فضل الرحمن ہی اس پر برجستہ بیان دے سکتے ہیں۔ ہاں البتہ خمینی بننے کا طاہر القادری کا خواب اور ارادہ مکمل طور پر انکے سیاسی عزائم کے ساتھ زمین بوس ہو چکا لیکن اسکے باوجود انکے عقیدت مند انہیں آئندہ بھی قائد انقلاب کہتے رہیں گے جس طرح شیخ الاسلام کہتے ہیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے ’’کشمیر چھوڑ دو‘‘ تحریک کا آغاز کر دیا! یہ تحریک تو اصل میں 1947 کے فوراً بعد شروع ہو چکی تھی اس وقت سے آج تک کشمیر کے عوام گلی کوچوں میں ’’کشمیر ہمارا چھوڑ دو‘‘ کا مطالبہ کرتے نظر آ رہے ہیں مگر افسوس کہ عالمی طاقتوں نے اقوام متحدہ نے اس سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ آج تک صرف اور صرف مراعات یافتہ غدار شیخ فیملی  بھارت کے پالتو خاندان کا کردار ادا کر رہی ہے۔  یہی کردار پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی اور اسکی جماعت بھی ادا کرتی نظر آتی ہے۔ نیشنل کانفرنس ہو یا پیپلز ڈیمو کرٹیک پارٹی، آزاد ہوں، محبوبہ مفتی یا شیخ عبداللہ تا عمر عبداللہ، سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں جو ذاتی ترقی کے نام پر آزادی کا سودا کرتے ہیں اور نئی دہلی کی چاکری کرتے ہی اور مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی اسمبلی میں بیٹھ کر خود کو کشمیر کا وارث کہلواتے ہیں۔ جے کے ایل ایف کے چیئرمین یٰسین ملک ایک جوان عزم بلند حوصلہ شخص ہیں، برسوں جیلوں میں بند رہے، بھارتی فوج کے مظالم برداشت کئے ہیں۔ ایک نڈر کمانڈر اور مجاہد کہلاتے ہیں۔ ان کا یہ فیصلہ لاکھ درست سہی حالات اور کشمیری عوام کے دل کی آواز سہی مگر تنہا یہ فیصلہ کرنے سے بہتر تھا کہ سب ساتھیوں یعنی حریت کانفرنس کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کرتے، تنہا پرواز کیلئے یہ موسم مناسب نہیں۔ جب پوری قوم مختلف جماعتوں میں بٹی ہو تو پھر سب کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ باقی جماعتیں بھی اگر متحد ہو جائیں تو 1990 کی دہائی والی حالت دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے جب پوری وادی پر عملاً مجاہدین کا کنٹرول تھا، ان کا حکم چلتا تھا، سرینگر کے گرد و نواح سمیت ہر طرف مسلح مجاہدین گشت کرتے تھے۔ آج ایک بار مجاہدین کی کارروائیاں پھر زوروں پر ہیں تو سیاسی میدان میں بھی زور ہو تو بھارتی حکمرانوں کو ہوش آ سکتا ہے۔ بس ہمارے مدہوش سیاسی انقلابی رہنما بھی ذرا ہوشمندی کا مظاہرہ کریں۔ ورنہ عوام تو کب سے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
کی عملی تصویر بنے ہر گلی ہر محلے نظر آتے ہیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭