پیر‘ 14 شعبان المعظم1434ھ ‘ 24 جون2013 ئ

موبائل فون سُننے پر ٹیکس میں اضافہ !
ہور چوپو ”نَوا زرداری ٹیکس“ آ گیا ہے۔ اب 100 روپے کے بیلنس پر 65.50 روپے ملیں گے۔ موبائل فون پر پہلے بھی ٹیکس تھا جسے (ن) لیگی حضرات نے ”زرداری ٹیکس“ کا نام دیا تھا اس وقت اسمبلی میں خواجہ سعد رفیق کا شور شرابہ دیدنی تھا۔ انہوں نے چور چور کی آوازیں کسیں ”گو زرداری گو“ کے نعرے لگائے اور اس ٹیکس کو عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف قرار دیا لیکن موجودہ ٹیکس پر انہیں سانپ سونگھ گیا ہے۔ اسے ہم ”نَوا زرداری ٹیکس“ کا نام دیتے ہیں کیونکہ جناب پہلے اکیلے کھاتے تھے اب دونوں بھائیوں نے مل کر کھانا شروع کر دیا ہے۔ اب صرف سانس لینے پر ٹیکس لگنا باقی رہ گیا ہے۔ اسحق ڈار اگر اس پر میاں نواز شریف کو بریفنگ دیں تو وہ سانس پر بھی ٹیکس لگانے کی اجازت دے دیں۔
کسی گاﺅں میں کفن چور تھا لوگ اس سے بہت تنگ تھے کیونکہ وہ قبرستان میں مُردوں کے کفن چوری کرتا تھا وہ جب مرا تو لوگوں نے سُکھ کا سانس لیا لیکن کچھ دنوں کے بعد ایسی تبدیلی آئی کہ اس کا بیٹا کفن چوری پر لگ گیا لیکن یہ نامُراد کفن چوری کرنے کے بعد مُردے کو قبر سے باہر رکھ دیتا تھا ، لوگ اس کے اس فعل سے جلد ہی تنگ آ گئے اور اس کے باپ کو دعائیں دینا شروع کر دیں کہ جناب جیسا بھی تھا اس درندے سے اچھا تھا وہ کفن چوری کے بعد مُردوں کو قبر میں تو رہنے دیتا تھا۔
زرداری حکومت کی لوٹ مار کو دیکھ کر عوام نے مشرف کو یاد کرنا شروع کر دیا تھا۔ پیپلز پارٹی نے صرف کفن دفن مشکل کیا تھا اور عوام تنگ آ گئے تھے لیکن مسلم لیگ (ن) نے تو آتے ہی کفن چور کے بیٹے کی طرح عوام کی بحرمتی بھی شروع کر دی ہے۔ اب عوام کفن چوروں کو ہی یاد کر رہے ہیں جیسے بھی تھے انہیں کچھ شرم تو تھی۔ پیپلز پارٹی جس مقام پر پانچ سالوں میں پہنچی مسلم لیگ (ن) وہاں 15 دنوں میں پہنچ گئی ہے۔ شیخ رشید سچ کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف اپنے وزن پر خود ہی گریں گے انہیں کسی بیرونی سازش کی ضرورت نہیں، آستینوں کے سانپ ان کے گرد گھیرا تنگ کئے ہوئے ہیں۔ موچی، فروٹ فروش، ریڑھی بان،خاکروب، سائیکل سوار، جھونپڑی میں رہنے والا اور امیر زادہ ہر کوئی ”نَوا زرداری ٹیکس“ کی زد میں ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ہی بات گردش کر رہی ہے شیر شیر کرنے والو ”ہور چوپو“ شیر تمہیں زندہ درگور کرنے کے درپے ہے۔ میاں صاحب ابھی تو ہاتھوں پر لگی مہندی بھی نہیں اُتری اور عوام نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ اپنے وزیروں مشیروں کو لگام دیں کیونکہ یہ آپکو اندھیرے کنویں میں گرانے پر تُلے ہوئے ہیں۔
٭....٭....٭....٭....٭
نواز شریف اور شہباز شریف کا رِنگ روڈ کا فضائی دورہ، وزیراعظم کی رِنگ روڈ کو جلد مکمل کرنیکی ہدایت !
جناب رِنگ روڈ تو گاڑیوں کیلئے ہی بنایا جا رہا ہے آپ گاڑی پر سوار ہو کر اس کا دورہ کرتے تاکہ کچھ کام نظر بھی آتا۔ فضائی دورے تو سیلاب کے موسم میں کئے جاتے ہیں۔ ابھی زمینی دوروں کا موسم ہے۔ خزانہ پہلے ہی خالی پڑا ہے اب آپ اس پر مزید بوجھ ڈالیں گے تو قوم کا کیا ہو گا۔ جتنے پیسوں میں آپ نے فضائی سیر کی ہے اس سے کم میں زمینی حقائق معلوم کئے جا سکتے تھے۔ رِنگ روڈ کا منصوبہ زُلفِ یار کی مثل دراز ہی ہوتا جا رہا ہے۔ میاں شہباز شریف نے 11 مہینوں میں میٹرو بس اور 82 دنوں میں کلمہ چوک کے پُل تعمیر کر لئے لیکن 5 سال میں وہ رنگ روڈ بنا سکے نہ ہی وزیر آباد میں کارڈیالوجی ہسپتال چالو کر سکے۔ ہسپتال کی عمارت موجود ہے لیکن عملہ نہیں رکھا گیا۔ پانچ سالوں میں انہیں کوئی عملہ ملا ہی نہیں یا پھر گجرات کے گرد و نواح کے رہنے والے افراد سے کوئی خاص لڑائی ہے۔ میاں صاحب اپنا غصہ چوہدریوں پر نکالیں وہاں کے عوام کو مت آزمائش میں ڈالیں۔ انہوں نے آپ کی جماعت کو ووٹ دئیے ہیں اور وہ اسی دھرتی کے باسی ہیں۔
٭....٭....٭....٭....٭
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کا وزیر اعلیٰ سے ایوان میں آنے کا مطالبہ !
جناب آپ کو ننھی مُنی اپوزیشن ملی ہے اس سے پیار کریں انہیں دلاسہ دیں، اسمبلی میں آ کر انہیں ہر روز دیدار کروائیں تاکہ ان کا دل لگا رہے لیکن آپ دور دور بھاگ رہے ہیں، باقی اجلاس اسمبلی کے اجلاس سے زیادہ اہم نہیں۔ پہلے آپ اسمبلی میں آ کر اپوزیشن کی کھری کھری سُنا کریں پھر جا کر پالیسیاں بنایا کریں اگر آپ اسمبلی نہیں آئیں گے تو اپوزیشن والوں کو تو کُھل کر تنقید کرنے کا موقع مل جائے گا۔ ابھی تو بجٹ پر بھی بحث جاری ہے لیکن وزیر خزانہ ایوان سے غائب ہیں کہیں اپنے گھر کا بجٹ بنانے میں مصروف تو نہیں کیونکہ پنشن میں اضافے سے تو داڑھ بھی گیلی نہیں ہو رہی، شاید وہ کوئی تجربہ کرنا شروع ہو گئے ہوں۔ رانا ثنااللہ کے ہوتے ہوئے چھوٹی سی اپوزیشن قابو نہیں ہو رہی تو پھر مونچھیں رکھنے کا فائدہ کیا ہے۔ اتنی سی اپوزیشن کو تو وہ اپنی مونچھوں سے اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں ہی باندھ کر رکھ سکتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں بھی حکومتی ایم این ایز کی اکثر کرسیاں خالی نظر آتی ہیں۔ وزیراعظم نے نوٹس تو لیا ہے لیکن ارکان اسمبلی ہنی مون سے فارغ ہوں تو اسمبلی کو ٹائم دیں۔
٭....٭....٭....٭....٭