اتوار ‘ 8؍ صفر المظفر1431ھ‘ 24 ؍ جنوری 2010ء

صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے‘ ہم قلم سے قتل ہونگے‘ نہ سنگینیوں سے۔
زرداری صاحب بھی اس ملک کے باشندے ہیں اور وہ دن رات ایک کرکے وطن کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان سے کچھ غلطیاں بھی ہوئی ہونگی‘ مگر جو بات انکے حق میں جاتی ہو‘ اس پر تو قلم اٹھنے چاہئیں۔ باقی ان کو سنگینیوں سے مارنے کی تو ضرورت ہی نہیں کہ حالات کی سنگینی ہی ان کیلئے کافی ہے۔ مگر لگتا ہے کہ وہ اپنے نئے عزم و ارادے سے ان سنگینیوں سے بھی گزر جائیں گے۔ ہمارے ہاں یہ دستور ہے کہ جب قلم چلتے ہیں تو سب کا رخ ایک ہو جاتا ہے‘ جب پیپلز پارٹی عدلیہ کے فیصلے کو مان چکی ہے اور مقدمات کا سامنا کرنے کا بھی عندیہ دے چکی ہے تو پھر چلتے گھوڑے کو چھانٹا مارنے کی کیا ضرورت ہے‘ ملک کو ضرورت ہے کہ امن و امان رہے۔ موجودہ حکومت جمہوریت کو جیسے تیسے کرکے اپنی مدت پوری کرے‘ تو ان پاکستان دشمنوں کے عزائم پورے نہ ہونگے‘ جو کسی نہ کسی آڑ میں پاکستان میں سیاسی دھینگا مشتی چاہتے ہیں۔ این آر او کا کالعدم ہونا ایک حقیقت ہے اور لوٹی ہوئی رقم کا واپس لانا انصاف کا تقاضا ہے۔ تحریر اعتدال کا نام ہے‘ کسی ایک طرف بہک جانے کا نام نہیں۔ مثال کے طور پر آج صدر زرداری کو ہٹا دیا جاتا ہے تو اسکے مابعد اثرات کیا ہونگے‘ اس کا بھی کسی نے تجزیہ کیا ہے‘ یہ بہتر نہ ہوگا کہ ملک کا پیسہ بھی واپس آجائے اور ایک منتخب حکومت بھی اپنی مدت پوری کرلے تاکہ امریکہ کو کوئی آمر یا آمرانہ حکومت لانے کا موقع نہ ملے۔ اگر زرداری ملک کیلئے قربانی دینے کا عزم کر چکے ہیں تو انہیں آزمانے میں کیا حرج ہے۔
٭…٭…٭…٭
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے‘ امریکہ مطمئن ہے‘ ڈرون حملے نشانے پر لگے۔ جبکہ امریکی وزیر دفاع نے بلیک واٹر کی پاکستان میں موجودگی کا اعتراف کیا ہے۔
اگر قریشی صاحب کے بیان کو نیمے دروں یا آدھا تیتر آدھا بٹیر کہا جائے تو یہ ڈرون حملوں کے نشانے پر لگنے سے بھی بڑھ کر نشانے پر بیٹھے گا۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ایک ملک کا وزیر خارجہ ایک غیرملک کے اپنے ملک میں ٹھیک ٹھیک نشانوں پر پر کتنا خوش ہے اور امریکہ کے اطمینان سے انہیں کیسا اطمینان قلب حاصل ہوا ہے۔
بھارت امریکہ گٹھ جوڑ کو انہوں نے بڑی بے اعتنائی سے امریکہ کی ضرورت قرار دیا اور ڈرون طیاروں کے حملوں میں جان بحق ہونے والے بے گناہ شہریوں کو انہوں نے بڑی معصومیت سے کہہ دیا کہ یہ وہی مر رہے ہیں جو پاکستان اور امریکہ کے مشترکہ دشمن ہیں۔ قریشی صاحب کے بیان سے یوں لگتا ہے کہ وہ امریکی وزارت خارجہ کی زبان بول رہے ہیں اور وہ اس بات پر بھی بڑے خوش ہیں کہ پاکستان بھارت کے درمیان آشنائی بڑھ رہی ہے اور عنقریب مذاکرات ہونیوالے ہیں۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ سپریم پاور ثالثی تو کرنا چاہتی ہے مگر ڈرتی ہے‘ یہ بیان بلاشبہ ایک مزاحیہ انشائیہ ہے‘ جس پر قریشی صاحب کو جتنی بھی داد دی جائے کم ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اس لمبے چوڑے بیان کے بعد کسی کو قریشی صاحب یا پاکستانی وزارت خارجہ سے گلہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
امریکہ کے ہمارے کمینے دشمن کے ساتھ تعلقات ہیں (شاید وہ گٹھ جوڑ کو تعلقات کہتے ہیں) اس پر وزیر خارجہ نے کہا کہ اس میں ہم کوئی مداخلت نہیں کر سکتے‘ اس لئے کہ بھارت وہی کر رہا ہے‘ جو اسے امریکہ اور اسرائیل کہہ رہا ہے۔ وگرنہ یوں پاکستان چین کو بیک وقت حملے کی دھمکی دینا تنہا بنیئے کا کام تو نہیں۔ قریشی صاحب سیدھے سیدھے یہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم امریکہ کے مفادات اپنے ملک میں پورا کرنے پر مجبور ہیں اور اس بارے میں کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ ڈرون حملے پہلے بھی ہو رہے تھے مگر اب کیوں ہو رہے ہیں‘ کیا ان میں اور پچھلوں میں اتنا بھی فرق نہیں تو پھر حکومت تو نہ بدلی‘ افراد بدل گئے۔ وزیر خارجہ جھوٹ بولتے رہیں اور امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے پاکستان میں بلیک واٹر کی موجودگی کا اعتراف کرکے ایسا سچ بول دیا جس نے وزیر خارجہ کے پورے کردار کو بے نقاب کردیا‘ اسکے بعد ان کا وزارت چلانے کا سلسلہ ٹھپ ہو جانا چاہئے۔
٭…٭…٭…٭
جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا ہے کہ‘ گیت گانے سے امن نہیں آئیگا‘ تنازعات حل کئے جائیں‘ بغیر امن کی آشا کسی احمق کو ہو سکتی ہے۔
گانے بجانے اور ناچنے کے رسیا یہ سمجھتے ہیں کہ شاید دونوں ملکوں میں یہی ایک تنازعہ ہے کہ وہ کھل کر اپنے فن کا مظاہرہ نہیں کر سکتے‘ ظاہر ہے ایسے لوگ عیاش احمق ہی ہو سکتے ہیں جو ایک دشمن ملک کے ساتھ گھمبیر تنازعات کے ہوتے ہوئے امن کی آشا کا راگ الاپ رہے ہیں۔ ملک کا تمام تر سنجیدہ طبقہ اس بات پر متفق ہے کہ سب سے پہلے مسئلہ کشمیر اور پانی کا مسئلہ حل کیا جائے‘ پھر امن کی آشا کا اظہا کیا جائے۔ مگر بھارت یہ چاہتا ہے کہ وہ نہ صرف مقبوضہ کشمیر پر قبضہ جاری رکھے بلکہ ایک ایک کرکے پاکستان کے دریائوں پر بھی قبضہ کرتا چلا جائے۔ ایسے حالات میں امن و آشتی کی بات کرنا‘ دشمنی کے ساتھ ساتھ دوستی کے جھوٹ کو جلانے کے مترادف ہے۔ بھارتی سیمیناروں میں جا کر تقریریں کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا‘ پاکستان کو بھارت نے پانی سے تقریباً محروم کردیا ہے اور عاقبت نااندیشوںنے تین دریا بھارت کو فروخت کر دیئے ہیں‘ امن کی آشا ایسے حالات میں ظلم کی بھاشا ہے جسے غیرمحب وطن لوگ ہی چلا رہے ہیں۔ جو لوگ امن کی آشا مہم کو چلا کر رہے ہیں‘ وہ پیسوں کے عوض وطن کے مسائل کیوں نظر انداز کر رہے ہیں‘ روشن خیالی کی آڑ میں وطن کو تاریک بنانے کی مہم بند کرنے کیلئے عوام کو اٹھ کھڑا ہونا چاہئے اور اس کیخلاف بھرپور احتجاج کرنا چاہئے۔ حکومت بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے‘ کیونکہ یہ ریاستی دہشت گردی ہے جو بڑے دلکش روپ میں سامنے لائی جا رہی ہے۔