جمعۃ المبارک ‘ 17 ؍ محرم الحرام1432 ھ‘ 24؍ دسمبر 2010ء

رہنما سماج وادی پارٹی اعظم خان نے بدایوں میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا‘ ابھی تک واضح نہیں کشمیر بھارت کا حصہ ہے یا نہیں‘ اس معاملے پر بحث ہو سکتی ہے۔ کانگریس نے کہا یہ بیان بدقسمتی ہے‘ جبکہ بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ اعظم خان کیخلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔
اعظم خان تو خان اعظم نکلے جنہوں نے بھارت کے سینے پر بیٹھ کر مونگ دل دیا۔ یہ بات اب بھارت کے 25 کروڑ مسلمانوں کی زبان پر آگئی ہے تو تلوار پر بھی آجائیگی کہ ابھی تک واضح نہیں کہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے یا نہیں۔ بی جے پی اور کانگریس میں اٹ کتے کا ویر ہے۔ مگر کشمیر پر قبضہ جمانے اور پاکستان دشمنی میں دونوں کی حالت غیر ہے۔ ایڈوانی بروزن وٹوانی‘‘ اب کہاں ہیں؟
پچھلے دنوں تو وہ پاکستان کے بڑے سگے بن رہے تھے‘ اب مسلمان کو غدار کہتا ہے۔ اگر یہ بات ہے کہ اعظم خان جیسے شیرِ نر منظر ’’بنیاستان‘‘ پر آگئے ہیں تو کشمیر کا مسئلہ اکھنڈ پاکستان کی صورت میں حل ہو گا۔ کیا بنیے کے یار امریکہ کو نظر نہیں آتا کہ پچیس کروڑ مسلمانوں میں سے ایک وزیر ہے‘ کیا بھارتی حکومت اس قدر خنزیر ہے۔ یہ امریکہ کڑ کڑ ہمارے ہاں اور انڈے بھارت میں دیتا ہے کہ ایک غلام نبی وزیر ہے‘ دوسری بڑی اکثریت کا اور وہ بھی متنازعہ مقبوضہ کشمیر کا۔
اعظم خان نے ایسی بات کر دی ہے جو عین حقیقت ہے‘ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں۔ بہت ہو چکا نوٹنکی کا کھیل‘ اب یدھ ہو گا اور وہ بھی بھارت شکن۔ یہ کل کا مسلم حملہ آوروں کے سامنے رام رام کہنے والا آج اعظم خان کو اسکی حق گوئی پر غدار کہتا ہے۔
بن کے رہے گا کشمیر پاکستان
لے کے رہیں گے ہم کشمیر
سن لے سارا ہندوستان
٭…٭…٭…٭
ایک امریکی عدالت نے ممبئی حملوں کے معاملے میں شجاع پاشا‘ حافظ سعید کو جنوری میں طلب کرلیا ہے۔
امریکہ ممبئی حملوں میں بھارت کا ماما لگتا ہے کہ اس نے ہمارے آئی ایس آئی اور کالعدم لشکر طیبہ کے سربراہوں کو اپنی ایک عدالت میں طلب کرلیا ہے‘ عافیہ کے سلسلہ میں ہماری غیرت مند حکومت نے بھی کسی امریکی کو طلب کیا ہے؟ یا بے گناہ شہریوں کو ڈرون حملوں میں مارنے کے جرم میں حکومت امریکہ کے نمائندے طلب کئے ہیں‘ کیا پاکستان کی اب یہ حالت ہو گئی ہے کہ…؎
ڈاہڈے وے ہتھ قلم محمد تے وس نئیس کوئی چلدا
لسے دا کیہہ زور محمد نس جا نڑایا رو نڑا
ہم کہتے ہیں کہ اے پاکستان کے حکمرانو! کہیں تو سر اٹھا کر کھڑے ہو جائو‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا کے جس حصے میں کوئی واقعہ ہو اور امریکہ پاکستان کو طلب کرلے۔
بے حمیتی کا یہ عالم ہے کہ ہماری جانب سے ابھی تک صرف دو لفظ کہے گئے ہیں کہ ابھی تک سمن تو نہیں پہنچے۔ خدا جانے حکومت پاکستان کو امریکی ڈنڈے سے اب مزید کیا توقع ہے؟
غضب خدا کا واقعہ ممبئی میں ہوا‘ اس میں ایک عدد یہودی بھی مردار ہو گیا‘ اس لئے امریکہ کو بڑی تکلیف ہے کہ کیوں نہ پاکستانی اہلکاروں اور کالعدم تنظیم کے سربراہوں کو ذلیل کیا جائے۔ اگر اب بھی وقت نہیں آیا کہ پاکستان امریکہ اور بھارت کو فکس اپ کرے تو پھر کیا ہینڈز اپ کا انتظار ہے؟ یہ نہ ہو کہ کچھ عرصے بعد پاکستانی دنیا بھر میں سبز ہلالی پرچم لے کر یہ فریاد نہ کر رہے ہوں کہ…؎
شالا کوئی پاکستانی نہ تھیوے
ککھ جنہاں تی بھاری ہو
٭…٭…٭…٭
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے مسرت ہلالی کو ملک کی پہلی خاتون محتسب مقرر کرنے کا اعلان کیا۔
سنا ہے کہ ایک لکھنؤ کے نواب باغ میں لڑکیوں کے جھرمٹ میں بیٹھے خوش فعلیاں اور خوش گپیاں کر رہے تھے کہ اچانک سانپ نکل آیا۔ لڑکیوں نے شور مچا دیا‘ سانپ! سانپ! کسی مرد کو بلائو اور نواب صاحب بھی ساتھ ہی ہم نوا ہو کر کہنے لگے‘ کسی مرد کو بلائو۔ ایک چنچل نے کہا‘ اجی حضور! آپ بھی تو مرد ہیں۔
گیلانی صاحب تو مرد کامل ہیں‘ کیا واجب الاحتساب سانپوں کو مارنے کیلئے آپکو مسرت ہلالی کے سوا کوئی مرد قلندر نظر نہ آیا؟ کیا وہ گردنیں جن پر کوئی پھندا فٹ نہیں بیٹھتا‘ ان کو یہ دھان پان خاتون قابو کریگی؟ یاپھر…؟
ہم عورتوں کیخلاف نہیں‘ مگر یہ کام اس کا ہے جس کو ساجھے۔ پیپلز پارٹی لگتا ہے ہم جنس پرست ہرگز نہیں‘ جدھر دیکھو لٹ الجھی سلجھا رے بالم۔
کیا کسی وزیر مشیر کا آج تک اسکی بیگم احتساب کر سکی ہے‘ جو ان موٹے پیٹوں والوں کو ایک خاتون محتسب رسہ ڈال لے گی۔ بہرحال پیپلز پارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہو گیا ہے کہ پہلی خاتون محتسب مسرت ہلالی کو سبز ہلالی پرچم کے نیچے کھڑا کر دیا ہے۔
یہاں تو کوئی دیانت دار شیر مرد ہونا چاہیے تھا جو قومی خزانہ لوٹنے والوں کو پرچم ہاتھ میں تھام کر بانس انکی پست پر رکھ دیتا اور اس وقت تک نہ چھوڑتا‘ جب تک انکے اندر سے لوٹ کا مال نہ نکال لیتا۔ بہرحال یوسف رضا گیلانی کو ایک بار پھر شاباش کہ انہوں نے عورتوں کے حقوق پھر پورے کر دیئے۔