ہفتہ ‘ 16 شوال، 1434ھ24 اگست2013 ئ

 ضمنی الیکشن میں سیاسی جماعتوں نے کیا کھویا کیا پایا۔
 این اے ون پشاور کا حلقہ ” این اے ون چانس“ بن گیاہے عوام بیدارہوچکے ہیں۔ انہوں نے پہلے اے این پی کوآزمایا پھر عمران خان کو ” ون چانس“ دیا لیکن عمران بھی ان کی امنگوں پر پورا نہیںاتر سکے۔ عوام نے لگے ہاتھوں پی ٹی آئی کے امیدوار کو مسترد کرکے کامیابی کا ” گھنگھرو“ بلور کے گلے باندھ دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بلور انہی عوام کے مسترد شدہ تھے لیکن اس حلقہ میں ان کے پاس کوئی اورچوائس نہیں تھی اگر مد مقابل کوئی اور جماعت ہوتی تو عوام لازمی طورپر اُسے پھر ” ون“ چانس دیتے۔اس کا انتخاب کرتے۔11مئی کے انتخابات میں بعض حلقوں میں رزلٹ ایسے بدلے تھے جیسے ”ہسپتال میں بچہ بدل جاتا ہے“ نرسیں کمال مہارت سے لواحقین کی آنکھوںکے سامنے ” لڑکے کی جگہ لڑکی “ رکھ دیتی ہیں۔ ایسے ہی پولنگ سٹیشنوں پر ” جیت کی جگہ ہار“ لے گئی تھی۔ عمران خان نے وائٹ پیپر جاری کیا تو رانا ثناءاللہ نے انہیں ” بہتان خان“ کا لقب دیدیا جبکہ جواب آں غزل کے طورپر پی ٹی آئی نے نون لیگ کو ” خون لیگ“ قرار دیدیا لیکن ضمنی الیکشن میں عوام نے دونوں پارٹیوں کو انکی اوقات یاد دلا دی ہے۔ مستعد دمیڈیا کے دور میں سیاستدان اب عوام کو بیوقوف نہیں بناسکتے۔ اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ ہمارے عوام اب بھی مشرف پر ” چار حرف“ بھیجنے سے باز نہیں آتے ۔لیکن عوام ان کے اس احسان کو فراموش نہیں کرسکتے کہ اس نے اپنے دور میں میڈیا کو آزادی دیکر عوام کو اپنے حقوق کیلئے لڑنے کی عادت ڈالی ہے۔ عوام سیاستدانوں کو ”ون چانس “دینے کے عادی ہوتے جارہے ہیں لہٰذا سیاستدانوں کو اب لنگوٹ کس لیناچاہئے۔ عوام اب کسی کو ”ایک نوکرانی دوسری بہورانی “نہیں بننے دیں گے۔
٭....٭....٭....٭
 غلام احمد بلور جیت کی خبر سُن کر رو پڑے۔
 نہ جانے دلہن کی طرح یہ رونا خوشی سے تھا یا پھرعوام کا سامنا کرنے کے ڈر سے تھا، اصل حقیقت توبلورخود ہی بتا سکتے ہیں لیکن جب ووٹ ڈالے جارہے تھے تو بلور صاحب نے سفید ٹوپی سر پرپہن رکھی تھی جیسے ہی جیت کی آواز کانوں میں پڑی تو انہوں نے جھٹ منگنی پٹ وہیاہ کی طرح ” سفید ٹوپی اتار کر سرخ ٹوپی“ پہن لی جناب اگر سرخ پوش ہی رہنا تھا توشروع سے ہی سرخ ٹوپی پہنے رکھتے تاکہ عوام کو پتہ تو چلتا کہ ہم سفید پہ نہیں سرخ پر مہر لگا رہے ہیں۔ عمران خان نے بڑی مہارت ِ تامہ سے خیبر پی کے سے سرخ ٹوپی کا جنازہ نکالا تھا لیکن پی ٹی آئی کی کارکردگی سے عوام مطمئن نہیں ہوسکے اور انہوں نے پھرایک دفعہ صدا لگائی ہے
او بلوری اکھّاں والیا
اساں تے رہ گئے تیرے تے
 عمران خان اگر اپنے ایجنڈے کے مطابق خیبر پی کے میں حکومت کرتے تو آج عوام بلور کو پھر سے آنکھوںپر نہ بٹھاتے۔ میانوالی اور پشاور سے شکست کھانے کے بعد عمران خان خاموش ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ” سکتے“ میں چلے گئے ہوں۔ اسلام آباد سے (ن) لیگی امیدوار اشرف گجر نے اپنی پارٹی کے رہنما پر الزامات کے تیر چلانا شروع کردئیے ہیں۔ کہتے ہیں کہ انجم عقیل میرے خلاف انتخابی مہم چلا تے رہے۔ میاںنواز شریف نے انہیں وارننگ بھی دی تھی ۔لیکن انکی جماعت کے رہنماﺅںنے انکی وارننگ کو ایک کان سے سنا اور دوسرے کان سے نکال دیا تھا ، اسی بنا پر اب وہ بھی ہاتھ مل رہے ہیں۔ سردار ذوالفقارکھوسہ کے گھر سے سیاست کا جنازہ نکل گیا ہے انکے اپنے بیٹوں نے ہی اپنی سیاسی کشتی کو منجدھار کے بیچ ڈبو دیا ہے۔ منظور وٹو اپنے بیٹے کی سیٹ جیت کر پنجاب کی صدارت پکی کر بیٹھے ہیں اور مخالفین کو یوںکہہ رہے ہیں ....
”پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا“
٭....٭....٭....٭....٭
 خودکشیاں: اولاد کی نافرمانی سے تنگ معمر میاں بیوی نے زہریلی گولیاں کھالیں۔
 اولاد ماںباپ کیلئے دنیا میں یا تو جنت ہوتی ہے یا پھر عذاب ۔انسان کو اپنی اولاد کیلئے نیک اور فرمانبردار ہونے کی دعا کرنی چاہئے۔ معمر والدین جب اولاد کے دکھ سے موت کو گلے لگالیں تو ایسی بد قسمت اولاد کا کیا فائدہ؟ ماں باپ تو اولاد کیلئے دنیا میں ہی جنت ہیں لیکن بگڑی ہوئی اولاد آخری عمر میں والدین کو دکھ پہنچا کر مرنے سے پہلے ہی مار دیتی ہے۔ گزشتہ دنوں ایک لڑکی سر بازار اپنی ماں سے کہہ رہی تھی ” توں نہ بھونک“ وہ ماں جس نے اسے پالا پوسا اسکی ضروریات کا خیال رکھا اس کے بارے ایسے الفاظ بولنے سے تو عرش الٰہی بھی ہل جاتا ہے۔ لیکن ہماری بگڑی نوجوان نسل کے دلوں پرجوں تک نہیں رینگتی۔ اولڈ ہوم بن چکے ہیں اگر آپ والدین کی خدمت نہیں کرسکتے تو انہیں وہاں چھوڑ دیں لیکن خدارا اپنی چند دن کی عیاشی کیلئے ہمیشہ کی زندگی کو مت خراب کریں ۔ والدین بچپن سے ہی اولاد کی اچھے طریقے سے تربیت کریں تاکہ انکی آخری عمر میں انہیں اولاد کی طرف سے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آئیں اور وہ سکھ کے سانس لے سکیں۔
٭....٭....٭....٭....٭
 امریکی طالبات نے بھارت کو خواتین کیلئے جہنم قرار دیدیا۔
 ہمارے ہاں تو بھارتی خواتین کو فلموں اور ڈراموں میں دیکھ کر یوں سمجھاجاتا تھا کہ جیسے بھارت حسن کی پریوںکا مسکن ہے لیکن ان پریوںکی زندگیاں اس معاشرے میں اجیرن بن چکی ہیں۔ایشوریا رائے، کترینہ کیف، شلپا سیٹھی تو اسلحے کے سائے میں دائیں بائیں گھوم سکتی ہیں لیکن عام لڑکی کا وہاں پر اکیلا گھومنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کسی بکری کا جنگل میں چرنا مشکل ہے۔ بھارتی خونخوار درندے خواتین کی عزت کو تار تار کرنے کیلئے بھیڑیوںکی طرح تاک میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ بھارت میں ہر روز ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ امریکی طالبات نے بڑا ہی اچھا کیا جو بھارت کو خواتین کیلئے جہنم قرار دیا ہے۔ محترمہ بھارت کی بجائے اگلی دفعہ پاکستان کا رُخ کریں۔ اُمید ہے وہ پاکستانی عوام کو شائستہ زبان اور با احترام پائیں گی۔