بدھ‘23 رمضان المبارک 1432 ھ‘ 24 اگست 2011ئ

پیر پگاڑا نے کہا ہے‘ ماشاءاللہ کا دور گزر گیا‘ مارشل لاء انشاءاللہ آنیوالا ہے‘ ستمبر ستمگر ہو گا۔
پیر صاحب کو شاید یہ علم نہیں کہ ماشاءاللہ میں جو طاقت ہے‘ وہ مارشل لاءمیں نہیں اور مارشل لاءبھی ماشاءاللہ کے نتیجے میں آتا ہے۔ اس لحاظ سے پیر صاحب ماشاءاللہ اور مارشل لاءبلکہ کسی بھی لاءکو ماشاءاللہ سے حقیقتاً جدا نہیں کر سکتے کیونکہ....
مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے
پیر صاحب اکثر ستمبر کے ستمگر ہونے کا ذکر فرماتے ہیں‘ مگر یہ نہیں بتاتے کہ ستم گر کون ہونگے‘ مہینے تو سب فقط مہینے ہیں‘ ان میں کیا ہو گا‘ یہ کوئی نجومی کہے تو بھی کوئی بات بنتی ہے‘ مگر کوئی پیر کہے تو اس کو سزاوار نہیں۔ کیونکہ طریقت میں کوئی راز افشا کرنا پیش گوئی کرنا پیروں کا نہیں نجومیوں کا کام ہے۔ ہماری تاریخ میں اب تک کوئی نجومی پیر نہیں گزرا‘ ویسے بھی علم نجوم حرام ہے اور ان پر بھروسہ کرنےوالے لیڈر اکثر سیاسی جوہڑ میں ڈوب گئے ہیں۔ ایک اٹکل پچو کو علم قرار دے دینا علم کی توہین ہے۔ لوگ حقیقی علوم کی طرف آئیں‘ اپنے رب سے تعلق پیدا کریں‘ ان پر سب کچھ عیاں ہو جائیگا۔ ستمبر سے ستمگر کی صوتی ہم آہنگی تو ہے‘ البتہ تمام ایام اور مہینے اللہ کے ہیں‘ کسی کو کوئی بری تعبیر دینا پیرانِ پارسا کا کام نہیں۔ مارشل لاءآئیگا تو جائیگا کیسے؟ ویسے صدر اور وزیراعظم دونوں کراچی میں ہیں‘ عین امکان ہے کہ سویلین حکومت کامیاب ہو جائے اور رحمان ملک کو برا نہ کہا جائے‘ کہیں ایسا تو نہیں کہ انکی بددعا لگ گئی ہے۔
٭....٭....٭....٭
وزیراعظم نے عیدالفطر پر چار تعطیلات کی منظوری دیدی‘ سرکاری ملازمین پانچ چھٹیاں کرینگے۔
معلوم ہوتا ہے سرکاری اہلکاروں اور دیگر ذمہ داروں نے سبق بالکل یاد نہیں کیا‘ ورنہ ان کو پانچ یعنی ایک ہفتہ کی چھٹیاں نہ ملتیں۔ عید تین روز کی اور چھٹیاں پانچ بلکہ ہفتہ بھر کی‘ اس پر تو آنکھیں بھر آنی چاہئیں۔ غریب لوگ تو ایک دن کی عید کی استطاعت نہیں رکھتے اور عید کو اتنی لمبی آنت بنانے کی کیا ضرورت ہے‘ ویسے وزیراعظم اگر کراچی میں امن و امان بحال نہ کر سکے تو انہیں بھی چھٹی لے لینی چاہیے۔ پھر ہر روز روز عید ہو گا اور ہر شب شب برات۔ صدر آصف علی زرداری بھی کراچی میں امن بحال کرنے گئے ہیں‘ ممکن ہے ان کو عید کی چھٹی بھی نہ ملے کیونکہ وہ سبق بہت یاد کرتے ہیں۔ باقی سارے چھٹیاں منا کر ”وانڑ وٹینڈے“ آجائینگے۔ لوگ فوج فوج کر رہے ہیں‘ وہ ذرا صبر سے کام لیں‘ حکومت کی ساکھ اور آنکھ ابھی اتنی کمزور نہیں ہوئی کہ کراچی کو بھی نہ سنبھال سکے۔
مردحر امرت دھارا ہیں‘ دیکھتے جائیے وہ کوئی ایسا حل نکال لیں گے کہ نہ سر رہے گا‘ نہ درد۔ عیدالفطر منانے کیلئے ابھی سے چھٹیوں کے اعلان کی جگہ یہ اعلان کرنا چاہیے کہ اس بار پورے ملک میں عید ایک ہی دن ہو گی۔ اگر پاکستان ایک ہے تو عید بھی ایک ہونی چاہیے‘ ویسے بھی ہم اہل توحید ہیں۔ ہمارے ہر کام میں وحدت ہونی چاہیے‘ اگر بدھ کو عید ہو گئی تو ہفتے کی چھٹی پر بین لگا دینا چاہیے اور یہ غربت و فلاکت کی ماری قوم کو چار روزہ بلکہ پانچ روزہ عید دینے کے بجائے ارزانی اور امن دیں تاکہ عید‘ عید تو لگے۔
٭....٭....٭....٭
امریکی تحقیق کے مطابق شادی اور طلاق وزن میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔
ایک تحقیق یہ بھی تو ہے کہ امریکی کارروائیوں سے زمین کا بوجھ کم ہوتا ہے۔ ارباب دانش اس پر بھی غور کرلیں‘ باقی رہی بات شادی اور طلاق کی تو لگتا ہے یہ دونوں اصل میں ایک ہیں۔ شادی کے بعد عورت کی پھرتیاں اور آنیاں جانیاں ختم ہو جاتی ہیں‘ اس لئے وہ حرکت میں کمی کے باعث موٹی ہوتی جاتی ہے اور مشرق میں تو یہ رجحان بہت زیادہ ہے کیونکہ خاوند بیوی کو ایک سنہری پنجرے میں بند کردیتا ہے۔ میاں محمد بخش نے اسی لئے تو کہا ہے....
سدا نہ باغیں بلبل بولے سدا نہ باغ بہاراں
سدا نہ مہندی ہتھیں لگدی سدا نہ چھنگن و نگاں
سدا نہ چھو پے پا محمد رل مل بہنا سنگاں
ایک وقت ہوتا ہے ناکتخدائی کا مرد پر آئے یا عورت پر‘ وہ سمارٹ رہتے ہیں‘ البتہ یہ بات قرین قیاس ہے کہ لڑکیاں شادی ہوتے ہی پھیلنا شروع ہو جاتی ہیں اور مرد سکڑنے لگتے ہیں۔ بعض اوقات مرد و زن دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے سے اتنا تنگ آجاتا ہے کہ طلاق‘ شادی کا روپ دھار لیتی ہے اور جوڑا موٹاپے کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ امریکی ماہرین بعض اوقات ایسی باتوں پر بھی خواہ مخواہ تحقیق کا دفتر کھول دیتے ہیں‘ جو پہلے سے ہی سب کو معلوم ہوتی ہیں۔ موٹاپا زیادہ کھانے اور متحرک نہ رہنے کے باعث لاحق ہوتا ہے۔
٭....٭....٭....٭
شہر اعتکاف میں 15 ہزار معتکفین کیلئے سحری و افطاری کا وسیع انتظام کیا گیا ہے۔
تاریخِ تصوف میں ابوسعید ابوالخیرؒ کے بعد شیخ الاسلام طاہر القادری دوسری شخصیت ہیں‘ جنہوں نے عبادات کا شہر آباد کر دیا اور وہ ہر سال رمضان کریم کے آخری عشرے میں اعتکاف کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس مرتبہ معتکفین کی تعداد 15 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ ایک دن کی سحری و افطاری کیلئے روزانہ 520 سالن کی دیگیں جو مٹن‘ چکن‘ سبزی اور حلیم پر مشتمل ہوتی ہیں۔ 40 ہزار روٹیاں‘ پچاس ہزار لٹر پینے کا پانی‘ 12 من کھجور ہزار لٹر چائے اور 150 بلاک برف استعمال ہوتی ہے۔ اسکے ساتھ ہی ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے خصوصی خطابات روزانہ 4-30 بجے صبح ویڈیو کانفرنس کے ذریعے لندن سے براہ راست نشر کئے جاتے ہیں اور کیا چاہیے؟ ہماری اہل ثروت حضرات سے درخواست ہے کہ اس کارخیر میں حصہ ڈالیں ۔ہم شیخ الاسلام کو اس نیک کام کے اہتمام پر ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں کہ ہمارے پاس تو یہ الفاظ ہی ہیں‘ جو ہم انکی مقدس مساعی کی نذر کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کی کتب‘ انکے کام اور خطابات و عمل سے ظاہر ہوتا ہے....
سالہا درکعبہ و بت خانہ می نالد حیات
تابزم عشق یک دانائے راز آید بروں