سر را ہے پروفیسر اسرار بحاری

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

میاں نواز شریف نے کہا ہے‘ (ق) لیگ سے اتحاد ممکن نہیں‘ آگ پانی کیسے مل سکتے ہیں۔
سیدھی سی بات ہے کہ ق لیگ اور نون لیگ دونوں کے پاس آگ بھی ہے‘ پانی بھی ہے۔ اگر دونوں چاہیں تو آگ سے آگ اور پانی سے پانی مل کر اتحاد تو ہو سکتا ہے۔ حیرت ہے کہ میاں صاحب نے مسلم لیگ کے یوم تاسیس پر جو اعلان کیا تھا‘ کیا اس کو انہوں نے ہوا میں اڑا دیا ہے؟
میاں صاحب کے اندر کی بات یہ ہے کہ وہ اپنی ذات میں متحد ہیں‘ اس لئے ان کا کسی سے کوئی اتحاد ممکن نہیں۔ انہوں نے پنجاب حکومت سے بھی دل بڑا کرلیا ہے اور فرمایا ہے کہ چلی گئی تو پھر آجائے گی۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کہاں جائیگی اور وہ خود کس سمت میں جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس کیساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا ہے کہ زرداری کی ذات پر حملے نہ کئے جائیں‘ گویا بھائی چارہ قائم ہے اور سیاسی اختلاف بھی۔ ہم سردست میاں صاحب سے اس کے سوا کیا کہہ سکتے ہیں…؎
ترسم نرسی بکعبہ اے اعرابی
کیں راہ کہ تو میر وی بترکستان است
(مجھے ڈر ہے کہ اے بدو تو کعبہ نہیں پہنچ پائے گا‘ کیونکہ جس راستے سے تو جا رہا ہے‘ یہ ترکستان کو جاتا ہے)۔
٭٭٭٭٭٭
اوباما نے مشعل کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر رقص کیا‘ انتہائی خوش نظر آرہے تھے‘ البتہ اوباما کے صدر بننے پر اسرائیل کا اظہار مایوسی‘ پہلے خطاب پر شدید تنقید۔
امریکیوں کے نزدیک رقص خوشی کی جسمانی شکل کا نام ہے‘ ایک سیاہ فام امریکہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صدر بنے‘ ظاہر ہے اس پر ان کا اپنی بیگم سمیت رقصاں ہونا‘ فطری امر ہے۔ بش کی پیدا کردہ تاریکی کے بعد شاید کوئی کرن پھوٹے‘ کوئی چاند نکلے‘ کوئی روشنی ہو اور اس روشنی کی رسائی سیاہ خانہ اسرائیل میں پہنچے۔ جہاں اوباما کے صدر بننے پر مایوسی ظاہر کی گئی ہے اور ان کی پہلی تقریر پر تنقید بھی کی گئی ہے مگر ممکن ہے یہ ٹوپی ڈرامہ ہو۔ بعض ملکوں میں نئی امریکی صدارت کو اس طرح بھی دیکھا جا رہا ہے کہ جیسے ان کا آقا بدل گیا ہے اور وہ اس کی ادائوں کا مطالعہ کر رہے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ اونٹ تو اونٹ ہے‘ بجائے بیٹھنے کے کھڑے کھڑے کسی کے خیمے میں بھی گھس سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
بھارتی وزیرخارجہ مکھرجی نے کہا ہے: پاکستان کو سبق سکھانے کیلئے دنیا ٹھوس اقدامات کرے۔
مکرجی کا یہ ایک نیا مکر ہے کہ وہ اب دنیا کے ذریعے پاکستان کو دھمکیاں دلوانا چاہتے ہیں‘ خدا جانے پاکستان نے بھارت کا کونسا ’’ابا‘‘مارا ہے کہ وہ اپنے ایک اندرونی مسئلے کو پاکستان کے سر تھوپ کر نجانے کونسی توپ چلانا چاہتا ہے۔ بلکہ اب تو پاکستان کا حق بنتا ہے کہ وہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ لے جائے اورپوری دنیا کو بتائے اس مکرجی نامی کمبل سے ہماری جان چھڑائے کہ یہ ہمیں چھوڑتا ہی نہیں۔ مکرجی کی مکاری و عیاری اب عالمی سطح پر شہرت پا چکی ہے‘ اور وہ سمجھ لیں کہ اتنی بدنامی سے وہ دنیا کو یہ باور نہیں کراسکتے کہ پاکستان نے ممبئی حملے کرائے ہیں‘ ہمارے ہاں جو کچھ ہوتا ہے‘ کیا وہ را کی کارستانی نہیں ہوتی جبکہ پاکستان نے کتنے ہی را کے ایجنٹ پکڑے ‘ یہ مسئلہ تو پاکستان کا ہے کہ بھارت پاکستان میں دھماکے کراتا ہے‘ مگر پاکستان کی طرف سے دھمکیاں دی گئی ہیں اور نہ دوسری قوموں میں بھارت کو بدنام کیا گیا ہے۔ مکرجی شاید پچھلے جنم میں ڈھول پیٹنے والے رہے ہیں‘ یہی وجہ کہ اب جبکہ ان کا ڈھول بج بج کر پھٹ گیا ہے‘ اور اب وہ پھٹے ڈھول کو گلے میں ڈال کر دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف نقارہ پیٹ رہے ہیں‘ جہاں تک سبق سکھانے کا تعلق ہے‘ تو وہ خود شاید اتنے نااہل ہیں کہ خود سبق سکھا نہیں سکتے اس لئے عالمی برادری کا سہارا لے رہے ہیں‘ البتہ ان کو وہ سبق ضرور یاد ہیں‘ جو پاکستان نے بھارت کو سکھائے ہیں‘ اب اگر مزید کوئی فیصلہ کن سبق سیکھنا ہے‘ تو ہم تیار ہیں بس مکرجی کو ذرا سی ہمت کرکے بارڈر پار کرنا ہوگی‘ اسی وقت آخری سبق شروع ہو جائے گا۔اسلئے کہ بھارت نہ تو کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کیلئے تیار ہے اور نہ پاکستان کے وجود کو ماننے کیلئے آمادہ ہے‘ اسلئے پاکستان کیلئے ضروری ہوگیا ہے‘ مکرجی کی مکاری کو ہمیشہ کیلئے ٹھپ کردے۔
٭٭٭٭٭٭
وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے کہا ہے: دنیا کے بڑے دہشت گرد کے رخصت ہونے پر بہت خوشی ہے۔
ہوگو شاویز دنیا کا واحد حکمران ہے‘ جس نے بش کو کبھی تسلیم کیا اور نہ اچھا کہا‘ بلکہ ہمیشہ اس کے خلاف بیانات دیئے اور اس کشاکش میں بش کم از کم صدارت سے تو رخصت ہوگئے‘ بش کا ایک کمال ہے کہ اس نے ہوگوشاویز کو کبھی جواب نہ دیا‘ حالانکہ ہوگو شاویز نے اقوام متحدہ کے سٹیج پر کھڑے ہو کر اس پر تبرا کیا‘ اگر ہوگوشاویز کی جگہ کوئی مسلم حکمران اس پر لعن طعن کرتا تو بش مسلم کش نے اس کے خلاف سخت نوٹس لینا تھا‘ حیرانگی کی بات تو یہ کہ عالم اسلام میں صرف ایران کے حکمران بش کے مخالف نکلے‘ باقی سارے حلقہ بگوشانِ بش رہے‘ بش نے جتنا نقصان مسلم امہ کو پہنچایا وہ کوئی دوسرا سوجنم لے کر بھی نہیں پہنچاسکتا تھا۔