اتوار ‘یکم رمضان المبارک1430 ھ‘ 23 ؍ اگست 2009ء

خبر ہے کہ وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے سی آئی اے پولیس کی تنخواہ موٹروے پولیس کے برابر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
ہمارے ہاں پولیس کو جتنی مراعات دی گئی ہیں‘ اسکے عوض پولیس کی عوامی خدمت کہیں نظر نہیں آتی۔ عوام روزانہ لٹ رہے ہیں‘ قتل ہو رہے ہیں‘ انکی عزت پامال ہو رہی ہیں‘ کہیں قاعدہ قانون نظر نہیں آتا لیکن ’’باران مراعات‘‘ ہے کہ ان پر برسے جا رہی ہے۔ نہ جانے ہماری پولیس کی کونسی ایسی ’’نیکی‘‘ ہے جو سرکار کو پسند آگئی ہے۔
کسی شریف شہری کی عزت لٹ جائے‘ وہ تھانے جانے سے اس لئے گھبراتا ہے کہ رہی سہی عزت بھی نہ جاتی رہے۔ بہرحال ہم سرکار سے گزارش کرینگے کہ وہ پولیس کو اتنا سر نہ چڑھائے۔ یہ نہ ہو کہ مراعات سے لبریز پولیس مزید نکمی نہ ہو جائے اور اپنی سرکار کو یہ جواب دے کر لمبی تان کر سوئی رہے کہ ’’جسے ملے یوں‘ وہ کھیتی کرے کیوں؟‘‘
٭…٭…٭…٭
فیصل صالح حیات نے وفاقی وزیر پانی و بجلی پرویز اشرف پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ رینٹل پاور پلانٹس کی خریداری کے حوالے سے کرپشن میں ملوث ہیں۔
ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے کا سلسلہ کوئی نیا نہیں‘ ہر دور میں کرپشن بھی عروج پر رہی اور الزمات بھی‘ لیکن اس کا سدباب کسی دور حکومت میں نہ ہو سکا۔
فیصل صالح حیات نے پرویز اشرف پر جو الزام لگایا ہے‘ اسکے جواب میں پرویز اشرف نے اس الزام کی تردید کرنے کے بجائے‘ الٹا فیصل صالح حیات کویہ کہہ کر خاموش کرانے کی کوشش کی کہ فیصل صاحب دوسروں پر الزام لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ ان کا فیصل صاحب کو یہ جواب دینا اور الزام کی تردید نہ کرنا‘ اس سے تو یہ عیاں ہوتا ہے کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔
بہرحال انہیں فیصل صالح حیات کی بات کا برا نہیں منانا چاہئے بلکہ انہیں ایک ملی نغمہ کو اس انداز میں گا کر سب کو بتا دینا چاہئے…ع
’’اس ’’کرپشن‘‘ کے سائے تلے
ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں ‘‘
٭…٭…٭…٭
خبر ہے کہ کانگریس کی لیڈر سونیا گاندھی کے آفس میں بارش کا پانی گھس گیا‘ جس سے سارا فرنیچر خراب ہو گیا۔
بھارت نے پاکستان کی جانب آنے والے دریائوں کا ناجائز پانی روک کر اپنے ہاں پانی کا اتنا زیادہ ذخیرہ کرلیا کہ وہ اب ڈیموں ‘ دریائوں‘ جوہڑوں اور تالابوں سے نکل کر انکے حکمرانوں کے گھروں اور دفتروں میں جا بسا۔ پانی کو بھی خبر ہے کہ بھارت نے اسے اپنے ہاں زبردستی قید کیا ہوا ہے اور زرعی پاکستان کو ریگستان میں بدلنا چاہتا ہے تاکہ وہ اسے صومالیہ اور ایتھوپیا جیسے حالات سے دوچار کر سکے‘ اس لئے پانی نے اپنا راستہ خود تلاش کرتے ہوئے انکے حکمرانوں کو دبونے کا ارادہ کرلیا ہے۔ جو کام ہمارے حکمران کرنے سے قاصر رہے‘ وہ کام پانی کرنے پر مجبور ہو گیا۔ ہو سکتا ہے کہ بھارت اسی طرح پاکستان کا پانی واگزار کر دے۔
دوسری طرف پاکستان میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے دریا ‘ نہریں اور تالاب وغیرہ خشک رہتے ہیں اگر برسات کے موسم میں آتا ہے تو اتنا آتا ہے کہ آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ اس وقت برسات کا پانی وافر مقدار میں موجود ہے ‘ جو آہستہ آہستہ سیلاب کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
اگر ہمارے ہاں پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی بندوبست ہوتا تو یہ پانی ہرگز ضائع نہ ہوتا بلکہ اس وقت کام آتا جب یہاں پر پانی کی کمیابی ہوتی۔ مگر افسوس کہ ہماری حکومتوں نے اس سردارجی کی طرح کوئی ایسا تالاب بھی نہ بنایا ‘ جس میں اس لئے پانی نہیں بھرا جاتا کہ کبھی نہانے کو دل نہیں بھی کرتا۔
٭…٭…٭…٭
خبر شائع ہوئی ہے کہ تیل کے بحران کی وجہ سے ریلوے کے پاس صرف چار دن کا ڈیزل رہ گیا ہے۔
ملک کی گاڑی پہلے ہی بڑی مشکل سے چل رہی تھی‘ ریل گاڑی نے بھی لال جھنڈی دکھا دی۔ تیل کا بحران تو پہلے ہی جنم لے چکا ہے‘ اس بحران کیساتھ ایک نیا بحران بھی جنم لے گا جسے ’’سفری بحران‘‘ کہا جائیگا۔ جب تیل نہیں ہوگا‘ تو ریل گاڑی کیسے چلے گی اور لوگ سفر کیسے کریں گے۔
ٹرینوں کی جسمانی صحت کا پہلے ہی یہ عالم ہے کہ جب چلے تو سارے جگ میں شور مچے اور مسافر کی ساری چولیں ہلیں۔ا کانومی کلاس میں سفر کرنے والے غریب لوگ رفع حاجت کیلئے باہر سے لوٹے بھر بھر لاتے ہیں‘ پنکھے ہر چندکہیں کہ ہیں مگر نہیں ہیں‘ بوگیوں میں لائٹ نہ ہونے کے باعث رات کے وقت چور کسی کا بھی سامان آسانی سے چوری کر سکتے ہیں‘ کھڑکیوں میں شیشے نہیں‘ دھول مٹی کی وجہ سے مسافر سفر کے دوران مٹی کے بھوت بنے ہوتے ہیں۔
اب تو ریلوے کے پاس چار دن کا ایندھن رہ گیا ہے‘ خدا خیر کرے۔چار دن بعد جب لوگ ٹرین میں سوار ہونگے اور ڈیزل نہ ہونے کے باعث ٹرین نہیں چلے گی تو ہو سکتا ہے کہ وفاقی وزیر ریلوے گاڑی کے انجن کی چھت پر بیٹھ کر گائیں …؎
چل چھئیاں چھئیاں‘ چل چھئیاں چھئیاں