بدھ‘ 12؍ شوال‘1431 ھ 22 ؍ ستمبر 2010ء

امریکی پولیس نے پادری ٹیری جان کی سیکورٹی کیلئے ہزاروں ڈالر ادا کرنے کی ہدایت کر دی۔
ممکن ہے ڈالرز حفاظت کے کام آجائیں‘ مگر پادری کے اندر کے خوف کو دور نہ کر سکیں۔ اب موقع ہے کہ پادری ٹیری اپنے اندر کے شیطان کو پکارے‘ مسلمانوں کی یہ بلند اخلاقیات ہے کہ انہوں نے خاکے چھاپنے والوں‘ تسلیمہ نسرین‘ سلمان رشدی اور ٹیری کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچایا‘ وگرنہ وہ آج زندہ کیسے ہوتے؟
مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائیگا‘ امریکی حکومت نے اگر پادری کو قرآن حکیم جلانے سے روکا بھی تو ایک خوف کے تحت‘ اسکے بارے میں قرآن کریم نے کہا ہے:
’’سنلقی فی قلوبھم الرعب‘‘ (عنقریب ہم انکے دلوں میں رعب ڈال دینگے)۔
جس امت کا اللہ سبحانہ و تعالیٰ طاقتور ہے اور اپنے دین کی حفاظت کرتا ہے‘ اسے مسلمانوں کے دل دکھانے والوں سے نمٹنا آتا ہے۔ البتہ باطل کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ خدا اسکی شیطانیوں پر ری ایکٹ نہیں کرتا‘ وہ تو دیکھ رہا ہے کہ کون کیا کرتا ہے؟ ایک شخص نے کعبہ کے اندر کھڑے ہو کر یہ کہا کہ اگر رب کعبہ واقعی موجود ہے تو مجھے یہیں مار ڈالے۔ بہرحال اسے کچھ نہ ہوا اور اس نے دوستوں سے کہا‘ دیکھ لیا تمہارے خدا کو۔ اس پر ایک صاحب ایمان نے کہا: ’’وہ بہت بردبار اور صبر والا ہے‘ اگر اس طرح کے چیلنج پر جوش میں آجائے تو کفار دنیا سے ختم ہو جائیں۔‘‘
٭…٭…٭…٭
ہمارے ایک محترم قاری نتے اتنا طویل خط صرف اس بات کے جواب میں ارسال کیا ہے کہ ہم نے سرراہے میں یہ کیوں لکھ دیا کہ ’’صدر زرداری کا اتنا قصور ہے کہ انہوں نے مشکل حالات میں ایک منتخب صدر کی حیثیت سے منصب صدارت سنبھالا اور جمہوریت کو جیسے تیسے چلائے رکھا۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں اکثر بالواسطہ اور بلاواسطہ آمریت ہی برسر اقتدار رہی‘ یہ پہلی حکومت ہے جو اس آلائش سے پاک ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس جمہوری حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے دی جائے تاکہ جمہوریت کا پہیہ چلتا رہے اور پھر ایسا دور بھی آئے کہ نئے الیکشن ہوں اور لوگ زیادہ بیداری اور ہوشیاری کے ساتھ نئے لوگوں کو منتخب کریں اور اگر انہیں موجودہ ارباب حکومت پر اعتراضات ہیں تو ووٹ کے ذریعے ان کا ازالہ کر سکیں۔‘‘
محترم قاری نے جو مکتوب ارسال کیا ہے‘ وہ اس قدر مفصل ہے کہ اگر کسی معقول اخبار کو ارسال کیا جائے تو چھاپنے سے انکار کر دے۔ مکتوب نگار نے ہماری جن سطروں پر گرفت کی ہے‘ ان کیلئے وہ خود قابل گرفت ہیں اس لئے کہ ہم سچ لکھتے ہیں‘ چاہے وہ مکتوب نگار کے دشمن کے حق میں ہی کیوں نہ ہو‘ نوائے وقت کسی ادارے‘ شخص یا تحریر کو نہیں دیکھتا‘ صرف سچ کو پیش نظر رکھتا ہے اور بلاکم وکاست لکھ دیتا ہے‘ اس لئے ہمارے عزیز قاری ناراض نہ ہوں اور ایک بار بلکہ ضرورت پڑے تو بار بار ہماری تحریر کو پڑھیں‘ ان پر صداقت آئینہ ہو جائیگی۔
٭…٭…٭…٭
برطانیہ میں حلال گوشت کو اس قدر فروغ مل گیا ہے کہ غیرمسلم بھی کھاتے نظر آنے لگے۔
دنیا میں حلال و حرام‘ خیر و شر اور حق و باطل کے درمیان امتیاز بڑے مثبت انداز میں بڑھتا جا رہا ہے اور دنیا بھر کے غیرمسلموں نے جب اسلام کی افادیت و برکت کو محسوس کیا تو انکے وہ واہمے دور ہونے لگے جو شیطانی قوتوں نے مذہبی روپ میں انکے دل و دماغ میں ڈال دیئے تھے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کے مشہور تعلیمی اداروں‘ کھیلوں کے میدان‘ ہسپتالوں اور ریستورانوں میں مسلمانوں کے علاوہ غیرمسلموں کو بھی حلال گوشت پیش کیا جانا ایک معمول بن گیا ہے۔
لگتا ہے اہل مغرب پر اسلام کی پاکیزدگی اور اس کا سائنسی و طبی اصولوں کے مطابق ہونا واضح ہوتا جا رہا ہے۔ سؤر کے گوشت کو اگر کچھ دیر کیلئے رکھا جائے تو اس میں کیڑے پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں‘ شراب واقعی آبِ شر ہے‘ جو انسانوں کو اسکی فطری حالت سے غیرفطری حالت کے حوالے کر دیتا ہے اور یوں وہ خون کی شریانوں کو تنگ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ خدا کی شان دیکھیں کہ ایک طرف باطل قوتیں اسلام اور مسلمان کو مٹانے پر پورا زور لگائے ہوئے ہیں‘ دوسری جانب یہ حالت ہے کہ گورے حلال گوشت کھانے لگے ہیں‘ ایک روز آئیگا کہ لبھورام بھی گائے پر دانت گاڑھ دیگا۔
٭…٭…٭…٭
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے‘ امریکہ ڈاکٹر عافیہ کو رہا کرے۔ کراچی کے واقعات ٹارگٹ کلنگ نہیں‘ ٹارگٹ کلنگ ہوئی تو سختی سے نمٹیں گے۔
یہ وہی بات ہوئی کہ ایک زور آور شخص کمزور شخص کے سینے پر چڑھ کر اسے مار رہا تھا اور مار کھانے والا وقفے وقفے سے نحیف آواز میں نیچے سے صدا دیتا تھا کہ یار نہ مارو‘ مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے۔ بہرحال ہمارے وزیر داخلہ تو بڑے زور آور ہیں‘ اگر انہوں نے امریکہ سے جرأت کرکے کہہ ڈالا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو رہا کرو تو امریکہ کی مجال ہے کہ وہ جنیوا کنونشن کے تحت وزیر موصوف کی بات کو رد کر دے۔ جب عافیہ کے وکیل بھی ظالموں کے قبیلے سے ہیں‘ رحمان ملک صاحب ذرا رحم کھائیں اور سوچیں کہ عافیہ کو کیسے انصاف مل سکتا ہے؟ امریکہ نے عافیہ کو اپنا اٹوٹ انگ سمجھ لیا ہے اور ہم کشمیر کی طرح اسے امریکہ کے پنجے میں رہنے دے رہے ہیں۔ رحمان ملک نے یہ بھی فرمایا ہے کہ کراچی میں کوئی ٹارگٹ کلنگ نہیں ہو رہی‘ ایسے شخص کو ادب کی زبان میں فکرِ بدیہات کہتے ہیں۔ حیرت تو یہ ہے کہ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ اگر ٹارگٹ کلنگ ہوئی تو سختی سے نمٹیں گے‘ ایک ہی سانس میں انکار و اقرار کی یہ مثال بھی ہمارے ادب میں بہت بڑا اضافہ ہے۔