جمعہ 22 مئی 2009 ء

وزیراعظم نے کہا ہے‘ غیرملکی فوج کو پاکستان نہیں آنے دیں گے۔ بلوچستان پر جلد اے پی سی بلائیں گے۔
یہ ایک نہایت اچھا اعلان ہے کہ غیرملکی فوج کو پاکستان میں نہیں آنے دیا جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب باہر کی فوجوں کا کام پاکستان کر رہا ہے تو پھر کسی کے اندر آنے کی کیا ضرورت ہے۔
انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اپریشن آٹھ ہفتوں میں ختم ہو جائیگا۔ خدا کرے کہ یہ اپریشن اس سے طویل نہ ہو وگرنہ حالات بہت خراب ہو جائیں گے۔ بلوچستان میں حالات ٹھیک نہیں‘ اے پی سی بلانی ضروری ہے مگر یہ جو اپریشن سٹریٹجی اپنائی گئی ہے‘ اس سے نقصان کافی ہوا ہے۔ پاکستان میں بیرونی فوج آنے کی کیا ضرورت ہے‘ جب بیرونی طیارے دھڑا دھڑ اندر آکر کارروائی کر رہے ہیں اور بیرونی ایجنٹ بھی وافر تعداد میں اندر داخل ہو رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ وزیراعظم کو لگا بندھا بیان دے دیا جاتا ہے اور وہ پڑھ ڈالتے ہیں۔ جن کے طیارے اندر آتے ہیں‘ ان کو جب ضرورت پڑیگی اندر بھی آجائیں گے۔ ویسے بھی بیرونی سفارت کاروں کی فوج ظفر موج تو آئی رہتی ہے‘ اگر اس کو فوج مانا جائے تو بیرونی فوج ایک انداز میں آتی رہتی ہے۔ بلوچستان کے حالات مخدوش ہیں‘ وزیراعظم کی اس طرف توجہ مناسب اقدام ہے۔
٭٭٭٭٭٭
لوڈشیڈنگ کا بحران سنگین ہو چکا ہے‘ کئی شہروں میں مظاہرے‘ حکومت کو بددعائیں دی گئیں۔ چوبیس گھنٹے میں سے اٹھارہ گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے‘ قیامت خیز گرمی نے پندرہ افراد کی جان لے لی۔
یہ نہیں کہ ملک میں بجلی نہیں ہے‘ مگر کہیں پوشیدہ ہے اور اس کا بھاڑا حکومت دیتی نہیں‘ اس لئے ہمیں مجبوراً کہنا پڑتا ہے…؎
تاروں میں دوڑتے رہنے کے ہم نہیں قائل
بلب ہی سے جو نہ ٹپکے تو وہ بجلی کیا ہے
بجلی کی ملک میں کوئی کمی نہیں‘ کمی ہے تو ادائیگی کی ہے۔ ادائیگی کہاں ہوتی ہے‘ غالب گمان ہے کہ وہ وہیں ہوتی ہے‘ جہاں سے جاتی نہیں۔ ایک زمانہ تھا بجلی جایا نہیں کرتی تھی‘ اب آیا نہیں کرتی۔ اگر آج اس ملک میں بھی چند ایک ڈیم بنے ہوتے یا بالخصوص کالاباغ ڈیم بن چکا ہوتا تو یہ بجلی کی کمی ہرگز نہ ہوتی۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے نیشنل گرڈ 5300 میگاواٹ بجلی کی اضافی استعداد ہونے کے باوجود عوام روزانہ سولہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔ جبکہ 82 ارب روپے کی پیپکو کی ایڈجسٹمنٹ بھی اضافی لوڈشیڈنگ کو ختم نہیں کر سکی۔
واپڈا پیپکو کے حکام کا کہنا ہے کہ ملکی نیشنل گریڈ میں واپڈا پاور ہائیڈل اور تھرمل پاور یونٹس کی استعداد 17 ہزار 550 میگاواٹ ہے جبکہ ملک میں 12 ہزار دو سو میگاواٹ کل ڈیمانڈ ہے۔ 17 کمپنیاں بجلی پیدا کرتی ہیں‘ جن کو ادائیگیاں مکمل نہیں ہوتیں اور وہ بجلی بند کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ جتنی بجلی مہیا ہے‘ اس میں بھی چوری کا عنصر موجود ہے‘ جس علاقے میں کو ایکسیئن ہو‘ وہاں بجلی نہیں جاتی‘ رہ گئے بڑے بیورو کریٹس اور حکمران تو ان کیلئے عظیم الشان جنریٹر لگے ہوئے ہیں۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ایک طالب علم کیلئے بجلی نہیں اور ایک ناچنے والی جنریٹروں کے جھرمٹ میں ٹھمکے لگاتی ہے۔ اگر آج عمر بن عبدالعزیز ہوتے تو کیا انکے ہاں کوئی بہت بڑا جنریٹر لگا ہوتا۔ ان کا تو وہی دیا جلتا تھا‘ جس نے آج بھی اسلامی تاریخ کو روشن کر رکھا ہے۔
ہمارا ہمسایہ ملک ہمارے ہی پانی پر موجیں کر رہا ہے‘ اسکی زمینیں آباد اور گلیاں گھر روشن ہیں‘ اسکی وجہ وہ 62 ڈیم ہیں جو اس نے اب تک تعمیر کر رکھے ہیں۔ بھارت میں 62 ڈیم سیاسی تنازعے کا شکار نہیں ہو سکے اور ہمارے ہاں ایک کالاباغ ڈیم سیاسی تنازع کی نذر ہو کر ہمارے گھر تاریک اور زمینیں بنجر کر گیا۔
٭٭٭٭٭٭
امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی طرف سے ہم جنس پرست سفارت کاروں کیلئے مساوی مراعات کا اعلان۔
ہر بلا از ’’امریکہ‘‘ آید (ہر بلا امریکہ سے آتی ہے) ہلیری نے امریکی سفارت کاری کو ترقی دینے کیلئے ہم جنس پرست چاہے وہ کہیں بھی ہوں‘ انکے مراعات کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکہ دنیا کو مادر پدر آزادی کا مرکز بنانا چاہتا ہے اور ہلیری نے کلنٹن کو جو کھلی چھٹی دے رکھی تھی‘ اس کے پیچھے بھی شاید اس کا اپنا ذوق ہم جنسی کارفرما تھا۔ ہلیری نے یہ بھی کہا ہے کہ دوسرے ملکوں میں جو امریکی ہم جنس پرست سفارت کار مقیم ہیں‘ انکے ساتھیوں کو بھی مراعات حاصل ہوںگی۔ یہ مراعات کس قسم کی ہوں گی‘ انکے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہلیری دنیا میں ہم جنس پرستی کو رواج دینا چاہتی ہیں۔
شاید وہ امریکی آبادی کم کرنے کے ساتھ دوسرے ملکوں میں بھی ہم جنس پرست سفارت کاری عام کرنا چاہتی ہیں۔ ہلیری نے یہ اعلان کرکے اپنے ذوق ہم جنس کا اظہار کر دیا۔ اب امریکی سفارت کاری بذریعہ ہم جنس پرستی پھیلے گی‘ امریکہ کی اخلاقیات کا یہی معیار ہے‘ جو نہ ہونے کے برابر ہے۔