ہفتہ ‘ 20 ؍ جمادی اوّل 1435ھ‘ 22؍ مارچ 2014ء

ہفتہ  ‘ 20 ؍ جمادی اوّل 1435ھ‘ 22؍ مارچ 2014ء

شیخ رشید کو کینیڈا جانے سے روک دیا گیا!
یہ خبر واقعی چونکا دینے والی ہے۔ ایک بھلے مانس کو جو کبھی کبھار غم غلط کرنے یا دل بہلانے کیلئے بیرون ملک جاتا ہو اسے اس طرح روک دینا نہایت ناانصافی ہے۔
شیخ صاحب بھی آخر انسان ہیں بلکہ ’’ایک انار سو بیمار‘‘ کی عملی تفسیر ہیں۔ وہ اگر عوام اور مخالف سیاستدانوں کی روز روز کی بک بک جھک جھک سے تنگ آ کر کہیں … ؎
کیوںپوچھتے ہو کیا تم سے کہوں میں کس لئے ’’جیتا‘‘ ہوں
شاید کہ کبھی مل جائو کہیں میں اس لئے جیتا ہوں
والا مہدی حسن کا نغمہ گنگناتے ہوئے نکل رہے تھے تو حکومت کو کیا پڑی تھی اسے روکنے کی۔ حکمرانوں کو خوش ہونا چاہئے تھا کہ چلو اس بہانے چند روز انکے کان رنگ برنگے حاسدانہ قسم کے بیانات سے محفوظ رہیں گے۔ اب شیخ صاحب فرما رہے ہیں کہ انہوں نے 23 مارچ کے حوالے سے ایک پروگرام کیلئے کینیڈا جا رہے تھے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کیونکہ اس روز تو بیرون ممالک سے زیادہ پاکستان میں یوم پاکستان کی تقریبات ہوتی ہیں۔ کیا کسی تنظیم یا جماعت نے انہیں بطور مقرر بھی مدعو نہیں کیا اور پھر حیرت ہے ان کی اپنی جماعت نے بھی کیا یوم پاکستان کا بائیکاٹ کر رکھا ہے کہ اس روزِ سعید پر کوئی تقریب نہیں رکھی اور طوعاً وہ کراہاً شیخ صاحب کو کینیڈا کی دعوت قبول کرنی پڑی مگر افسوس کلیرنس نہ ملنے پر اب وہ اپنا سامان اٹھائے ’’لو آ رہا ہے کوئی شب غم گزار کے‘‘ کی عملی تفسیر بنے لال حویلی واپس لوٹ آئے ہیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
قائداعظم کی لاہور اور کراچی میں اربوں کی جائیداد پر مافیا کا قبضہ !
ناخلف اولاد سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے یا تو وہ باپ دادا کی جائیداد بیچ کھاتی ہے یا اسکی حفاظت نہیں کر سکتی اور لُٹیرے اس پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد جس طرح ہم نے قائداعظم بابائے قوم کے حقیقی فرزند ہونے کا حق ادا کرنے کی بجائے مفت خوروں اور اَٹھائی گیروں والی پالیسی پر عمل کرنا شروع کیا وہ آج تک جاری ہے بابائے قوم کی اربوں روپے کی ذاتی پراپرٹی پر جو لوگ بیٹھے ہیں کیا انہیں معلوم نہیں کہ وہ اپنے باپ کے حقیقی بیٹے یا وارث ہونے کا حق ادا نہیں کر رہے، اس طرح تو غیر بھی نہیں کرتے جو ہم نے قائداعظم کے پیارے پاکستان کا حشر کیا ہے، یہ ملک بھی ان کا عطیہ ہے ہم نے اسے بھی اپنی چراگاہ سمجھ لیا ہے اور …
اِدھر چر رہے ہیں اُدھر چر رہے ہیں
وطن میں ہمارے ہی ’’خر‘‘ چر رہے ہیں
والی کیفیت پورے ملک میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اب یہ خبر چھپنے کے بعد اگر کسی پاکستانی کو یہ خوش فہمی ہے کہ یہ قابض لوگ غیرت مند بیٹے ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے یہ جائیدادیں واگزار کر دیں گے، رات کو شرم کے مارے منہ چھپاتے ہوئے نکل کر چلے جائیں گے تو لکھ لیں ایسا کبھی نہیں ہو گا کہیں نہیں ہو گا کیونکہ ہم میں سے شاید ہی کوئی حقیقی معنوں میں ’’فرزندِ قائد‘‘ کہلانے کا حق رکھتا ہو، باقی ہم بخوبی جانتے ہیں۔ اس لئے کسی سے کیا گِلہ شکوہ کہ اس نے ہمارے ساتھ کیا کیا۔ اصل یہ دیکھنا ہے ہم خود اپنے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔
گوادر سے غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والے 60 پاکستان و افغانی گرفتار !
آئے روز غیر قانونی تارکین وطن کی کشتیاں سمندر میں ڈوبنے کی خبریں ملتی ہیں، سینکڑوں افراد سمندر بُرد ہوتے ہیں اتنے ہی کنٹینروں میں بند ہو کر غیر ممالک جاتے ہوئے راستے میں دم گھٹ کر مر جاتے ہیں ان کی نعشیں ویرانوں میں رزقِ خاک ہو جاتی ہیں، یوں اپنے گھر والوں کیلئے رزق کمانے کے خواب آنکھوں میں بسا کر غیر قانونی طریقے سے لاکھوں روپے قرض لے کر بیرون ملک جانیوالے یہ گمنام راہی انجانے اور ان دیکھے راستوں میں لقمۂ اجل بن کر کہیں مچھلیوں کا اور کہیں چیلوں، گِدھوں اور جانوروں کا رزق بن جاتے ہیں۔ اہلخانہ الگ غم و اندوہ کی تصویر بنے رہ جاتے ہیں۔ ہمارے ملک کے کرپٹ اور سرحدی عملہ اور ان درندہ صفت انسانی سمگلروں کو ذرا بھی ترس نہیں آتا کہ وہ کس طرح پاکستانیوں کو تو چھوڑیں غیر ملکی جن میں افغانی، ایرانی، کُرد، افریقی، تاجک اور ازبک شامل ہیں کو کس طرح دیارِ غیر بھجوانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں اس طرح دنیا بھر میں پاکستان کی سُبکی ہو جاتی ہے اور انسانی سمگلنگ میں پاکستان کو راہداری تصور کیا جاتا ہے۔ نجانے کب ہمارے ان حرام خور درندوں کو عقل آئیگی اور وہ ملکی عزت و حرمت کو یوں سرِ بازار رسوا کرنا چھوڑ دینگے اور یہ جو ناجائز طریقہ سے اپنی جان خطرے میں ڈالنے والے ہیرو ہیں انہیں اور انکے گھر والوں کو بھی کوئی عقل دے کہ جتنا خرچہ کر کے ایجنٹ کو پیسے دے کر ضائع کر رہے ہو اتنی رقم سے تو ملک میں رہ کر بھی کوئی کاروبار کر سکتے ہیں باہر بھی تو انہیں چھپ چھپ کر کام کرنا ہو گا وہ بھی غلیظ قسم کا۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
 اسحق ڈار اور پرویز رشید کی فضل الرحمن سے ملاقات۔ وزارتوں کا تنازعہ حل ہوگیا۔ یہ وزارتوں کا نشہ بھی ہیروئن کے پوڈر کی طرح کا ہے۔ بن پئے صبر چین اور سکون نہیں آتا۔ بدن ٹوٹتا ہے۔ مزاج چڑچڑا ہوجاتا ہے۔ اچھا بھلا انسان جانور بن کر کانٹے کو دوڑتا ہے۔ یہی حالت چند ماہ سے جے یو آئی کی رہی ہے جو وزارت نہ ملنے سے پریشان حال تھی اور وزارتیں ملنے کے بعد اور بھی زیادہ پریشان ہوگئی کیونکہ وزارت بنا قلمدان کے تو صرف گنا ہ بے لذت ہی ہے اسلئے مولانا فضل الرحمن کی پوری کوشش رہی ان 8,7 ماہ میں کہ ان کی سنی جائے سابقہ پی پی پی کی حکومت کی طرح کشمیر کمیٹی کی چیئر مینی تو انہیں مل گئی اب دیگر جماعتی امور کی انجام دہی کیلئے انہیں کچھ اور پُر کشش وزارتوں کی بھی طلب تھی جو نواز حکومت پوری نہیں کر رہی ٹال مٹول سے کام لے رہی تھی جس پر کشمیر کمیٹی چھوڑے بغیر ہی مولانا فضل الرحمن اور انکے جماعت والے وقفے وقفے سے آہیں بھر بھر کے آنسو دکھا کھا کے حکمرانوں کے لطف و کرم کے خواہاں تھے۔ اور بالآخر جے یو آئی کے دو وزرا کو انکی من پسند وزارتوں کی نوید مل گئی۔ گویا انہیں زندگی مل گئی۔ اب یہ کورس کی شکل میں…؎
 تو میری زندگی ہے تو میری ہر خوشی ہے
تو ہی میری پہلی خواہش تو ہی آخری ہے
والاگانے گاتے ہوئے جاتی عمرہ رائے ونڈ کے محلات کے یا اسلام آباد میں وزیراعظم ہائوس کے باہر مبارکبادیں دیتے اور وصول کرتے نظر آئیں گے۔
٭…٭…٭…٭…٭