پیر‘21 رمضان المبارک 1432 ھ‘ 22 اگست 2011ئ

محترم عطاءالحق قاسمی نے سعید آسی کے کالم ” عذرِ گناہ“ کے جواب میں مدیر نوائے وقت کو بھجوائے گئے اپنے مراسلے میں خوب نکتہ نکالا ہے کہ بابا گورو نانک ہندوﺅں کےلئے تو قادیانی ثابت ہوئے ہوں گے، ہم مسلمانوں کےلئے نہیں۔ محترم! کیا ہندو بھی ختم نبوت کے قائل ہیں جو وہ اپنے مذہب سے برگشتہ ہونے والے بابا گورو نانک کو مرزا قادیانی سمجھیں گے۔ آپ نے جب اپنے کالم میں بابا گورو نانک کے دو حج بھی ثابت کر دئیے اور علامہ اقبال کی نظم کا حوالہ دے کر انہیں توحید پرست ثابت کرنے کی کوشش کی تو پھر یہ مسئلہ ہندوﺅں کا کیسے ہو گیا۔ جس نے اسلام آشنائی کا سوانگ رچا کر سکھ مذہب (جو مذہب ہرگز نہیں) کی بنیاد رکھ دی ہو، اسے محتاط الفاظ میں مرزا قادیانی کے ہم پلہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اور محترم! علامہ اقبال نے تو ایک زمانے میں یہ نظم بھی لکھی تھی جسے ہندوستان کے قومی ترانے کا درجہ حاصل ہے کہ....
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی، یہ گلستاں ہمارا
کیا اس نظم کا سہارا لے کر آپ سرحدوں کی مجبوریاں ہٹا کر بھارت کو گلے لگانے کے میاں نوازشریف کے موقف کی وکالت کر سکتے ہیں؟ بابا گورو نانک کےلئے علامہ اقبال کی توصیفی نظم کی بنیاد پر کیا وہ ہمارے دین اور ایمان کا اسی طرح حصہ بن سکتے ہیں جس طرح ہمارا الہامی کتب اور انبیاءو رُسل پر ایمان ہے۔ محترم قاسمی صاحب نے اپنے مراسلہ میں بھارت سے اچھے تعلقات کے لئے جو تاویلات پیش کی ہیں۔ اس سے قطع نظر ان جیسی رجائیت پسندی کا مظاہرہ کرنے سے کیا ہمارا ازلی مکار دشمن بھارت ہمیں ڈنک مارنا ترک کر دے گا۔ آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ ہم ایٹمی طاقت نہ بنے ہوتے تو بھارت ہمیں اب تک دوسرے سقوطِ ڈھاکہ کے سانحہ سے دوچار نہ کر چکا ہوتا؟ ممکن ہے وہ پوچھیں کہ یہ دھماکہ کس نے کیا ہے تو ہم بھی جواباً یہ پوچھ سکتے ہیں کہ جناب یہ ایٹمی دھماکہ کس نے کروایا؟
٭....٭....٭....٭....٭
عید پر بچوں کیلئے نئے کپڑے نہ خرید سکنے پر کانسٹیبل نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ کانسٹیبل ہو اور بچوں کیلئے عید کے کپڑے نہ خرید سکے، یہ بات پولیس کی ” شہرہ¿ آفاق نیکنامی“ کو دیکھتے ہوئے قابل یقین نہیں، لیکن خود کشی تو ہوچکی ہے،اسلئے کہنا اور ماننا پڑے گا کہ پولیس میں اب بھی ایسے افراد اِکا دُکا پائے جاتے ہیں جو محض اپنی حلال کی تنخواہ پر گذارہ کرتے ہیں،اب تو ایک ہی علاج ہے کہ حکومت خفیہ والوں کی خدمات حاصل کرکے معلوم کرے کہ کون کون ہے پولیس میں جو حلال خور ہے،اُن کی ایک الگ کیٹیگری بنائی جائے اور اُن کو دوسرے حرام خوروں سے اتنی زیادہ تنخواہ دی جائے کہ آئندہ کوئی حلال خور پولیس مین بچوں کیلئے عید کے کپڑے خریدنے کی استطاعت نہ رکھنے کے باعث خودکشی نہ کرے،اس طرح کیا پتہ باقی کے اہلکار بھی حلال خوری اختیار کرلیں اور پولیس کی اصلاح ہوجائے، ہم نے حکومت کو جو ترکیب بتائی ہے یہ ترکیب نمبر 11ہے اور یہ کبھی خالی نہیں جاتی، ہمیں اس بات پر حیرانی ہے کہ آخر رزق حلال کھانے والے کانسٹیبل میں رزق حلال نے اتنا اثر کیوں نہیں کیا کہ وہ رزق حرام کی طرح مرگِ حرام کو بھی گلے نہ لگاتے۔ لیکن نہ جانے کیوں اُن کے صبر کا پیمانہ اتنا لبریز ہوگیا کہ خود کو لہو میں نہلا دیا، کپڑے نہ ملتے، بچوں کو عید تو مل جاتی وہ اُن کی عید بھی ساتھ ہی لے گئے،اکثر ہمارے ہاں دیگر شعبوں کے لوگوں میں بھی عید سے قبل بچوں کیلئے عید کے کپڑے نہ خرید سکنے کے نتیجے میں خودکشیاں ہوتی ہیں،اسکا کوئی سدباب ہوناچاہئے اصحابِ ثروت یا حکومت کو عید سے پہلے یہ اشتہار دے دینا چاہئے کہ جو لوگ اپنے بچوں کیلئے عید کے کپڑے نہیں خرید سکتے وہ اس نمبر پر رابطہ کریں اور تحقیق کے بعد اُن کو خودکشی سے بچالیاجائے، یہ معاملہ بہت المناک ہے کہ سربراہ خانہ کی موت، بچوں کی عید کوبھی موت سے ہمکنار کرجاتی ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭
مشرف نے شیرافگن کو منانے کیلئے خصوصی کمیٹی بنادی۔ مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ کوئی ” معمولی“ جماعت تو نہیں کہ ڈاکٹر شیر افگن اُس کے سینئر نائب صدر ہوتے ہوئے اپنے عہدے اور پارٹی کی بنیادی رکنیت سے بھی استعفیٰ دیدیا آخر کیا وجہ ہے کہ بھلے دنوں میں وہ روٹھنے کے کئی مواقع پر بھی نہ روٹھے اور اب جبکہ مشرف یکہ و تنہا رہ گئے ہیں ، چند ٹوٹروﺅں کے علاوہ ان کے اردگرد کوئی نہیں، ایسے میں مشرف کا شیر افگن جیسا مردِ مجاہد بھی اپنے ممدوح کو چھوڑ گیاتو یہ شیر افگنی نہیں، شغال افگنی ہے، مشرف بھی کیا کریں کہ ایک تکیہ تھا پتوں سے بھرا ہوا وہ بھی ہوا دینے لگا اور ....ع” روٹھے سیّاں کو منانا بڑا کام ہے“، جو کمیٹی بٹیر افگن کو منانے کیلئے مقرر کی گئی ہے وہ گھر جا کر اُنہیں منائے گی، اگر شیر افگن محبِ وطن ہیں تو یہ شرط لگا دیں کہ خود مشرف اُنہیں منانے پاکستان آئیںتو اس طرح یہ بھگوڑا بٹیر پاکستان آجائیگا اور اُس پر آسانی سے شکاری جال پھینک سکتے ہیں،شیر افگن جان گئے ہیں کہ اب اُن کا سیاسی مستقبل مشرف سے وابستہ رہ کر مخدوش ہے اسلئے سیاست میں رہ کر وہ کوئی اور راستہ اختیار کرلیں، شیداٹلی جو آج کل بڑے سر میں بج رہے ہیں اور عوامی مسلم لیگ کے اکیلے مالک و خالق ہیں،اُن کے ساتھ قارورہ ملا کر دیکھ لیں بلکہ مشرف کے دوسرے نیم عقیدت مندان بھی اس فارمولے پر عمل کریں تو آل پاکستان مرغ مسلم لیگ عوامی ایکسپریس مسلم لیگ پر بیٹھ کر آخر کہیں نہ کہیں تو پہنچ جائیگی، یہ ” ڈھٹے کھوہ“ کا تعاقب اب بیکار ہے،شیرافگن کا مشرف کو چھوڑناممکن ہے اچھا شگون ثابت ہو اور مجرم، مجرم ہی رہ جائے سیاسی لیڈر شپ کو جپھا نہ ڈال سکے۔
٭....٭....٭....٭....٭
پاکستان نے سزا پوری کرنے والے بھارتی قیدی گلاب سنگھ کو رہا کردیا۔ گلاب سنگھ کو پاکستان نے گلاب کی طرح رکھا اور واپس کردیا لیکن بھارت ہمارے پھولوں کو مسل کر جیل ہی میں زندگی سے رہائی دلا دیتا ہے....ع ” ببیں تفاوتِ راہ از کجا است تا بکجا“(ذرا راستے کا فرق تو دیکھو کہ کہاں سے کہاں تک ہے)ابھی دو دن پہلے غلطی سے سرحد پار کرنیوالے کو بھارت نے پابند سلاسل کرکے اتنا مارا کہ وہ ذہنی توازن کھو بیٹھا،گلاب سنگھ تو باقاعدہ جرم کی پاداش میں سزا بھگت صحیح سلامت رہا ہوگیا،مگر ہمارے قیدی نے تو کوئی جرم نہیں کیا تھا، بس بھول چوک میں سرحد پار کرگیا اور اُسے دھر لیا گیا،تشدد کیا گیا، آخر پاکستان کب تک کمینے بنیئے کی یہ خنجر آزمائیاں سہتا رہیگا، اللہ اکبر کہنے والے شیر کیوں جے ہند کا نعرہ لگانے والے گیدڑوں سے دب گئے ہیں؟