جمعرات 12؍ ذیقعد 1431ھ21 ؍ اکتوبر 2010ء

شرمیلا فاروقی کا کہنا ہے کہ خود کو دوسری خواتین سے افضل اور حسینہ عالم سمجھنے لگی ہوں‘ میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی طرح شادی کا اعلان نہیں کروں گی۔
دفتری کام اور ملکی حالات سے تنگ ہو کر تھوڑی دیر سستانے اور خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے اور پھر خواتین کا خواب دیکھنا اپنی عمر اور بنائو سنگھار کے بارے میں محبین کو تذبذب میں ڈالنا اور پھر شرمیلا کا جو نام کی طرح عادت بھی ہے۔ ہمارے دکانداروں نے لکھ رکھا ہوتا ہے کشمیر کی آزادی تک ادھار بند ہے۔ شکر ہے شرمیلا نے اپنی شادی کو لوڈشیڈنگ کے خاتمے سے مشروط نہیں کیا کیونکہ نہ تو لوڈشیڈنگ کا یہ آسیب جو قوم کے سر پر مسلط ہے یہ ہٹے گا اور نہ شرمیلا کی شادی ہو گی۔بہرحال شرمیلا سوچ و بچار کر رہی ہیں یکدم فیصلہ کر لیں گی کیونکہ دھیرے دھیرے جو ندی بہتی ہے وہ اچھی بھی لگتی ہے ثمرآور بھی ہوتی ہے لیکن طوفانی محبتیں اور شادیاں سب کچھ بہا کر لے جاتی ہیں۔ یہ سب کو ماننا پڑیگا کہ وہ حسینہ ضرور ہے‘
تیری نظر کا رنگ بہانوں نے لے لیا
افسردگی کا روپ ترانوں نے لے لیا
جس کو بھری بہار میں غنچے نہ کہہ سکے
وہ واقعہ بھی میرے فسانوں نے لے لیا
حسن بصریؒ کا قول ہے:
جو شخص دنیا میں رہ کر محبت سے بچتا رہا‘ اس نے اپنے آپ کو بھی فائدہ پہنچایا اور دوسروں کو بھی۔ نہ جانے کوئی اور بچا ہے یا نہیں لیکن بقول شرمیلا اس نے اپنے آپ کو تو بچا رکھا ہے۔ شادی سے پہلے مرد کے میڈیکل کا کہہ کر انہوں نے اپنے کلام کو جو گرہ لگائی انکی خدمت میں عرض ہے کہ وہ اس گرہ کو خود ہی کھول دیں ہم انتظار میں ہیں۔
٭…٭…٭…٭
انتہا پسند ہندو تنظیم شیوسینا نے بھارت میں بھی برقعہ پر پابندی کا مطالبہ کر دیا۔
پولیو زدہ ذہنیت کی مالک شیوسینا بھارتی حکومت کے ماتھے پر بدنما داغ ہے۔ وبال ٹھاکرے کا مسلمانوں سے تعصب تو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ 24 گھنٹے اسکے پیٹ میں مسلمانوں کیخلاف مروڑ اٹھتے رہتے ہیں۔ نہ جانے بھارتی حکومت اس کی انتہا پسندی کو تنہا کب کریگی؟ ہندو تو اسکے بارے کہتے ہیں …؎
تو از چنگال گُرگم در بودی
چوریدم عاقبت خود گرگ بودی
تو مجھے بھیڑئیے کے چنگل سے تو چھڑا کر لے بھاگا۔ جب میں نے دیکھا تو تُو بھیڑیا نکلا۔ وبال ٹھاکرے کی تنظیم کا بھی نعرہ ہے کہ وہ بھارت میں غریب ہندوئوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے لیکن یہ غریبوں کو دوسرے کے پنجے سے چھڑا کر اپنے پھندے میں پھنسا لیتی ہے۔ پورے بھارت میں اس نے جال بچھا رکھے ہیں۔ اسکے شکاری لوگوں کو دوسروں کے ظلم سے بچا کر خود بربریت ڈھانے کیلئے مستعد کھڑے ہوتے ہیں۔
بھارت کو شیوسینا کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے سے دشمنی لینے کی ضرورت نہیں‘ ان کو بال کا جو ’’وبال‘‘ پڑا ہوا ہے‘ وہ کافی ہے۔ بھارتی عدالتوں کیلئے شیوسینا کے جرائم ’’چچاچور بھتیجا قاضی‘‘ یعنی حاکم اور ملزم ایک ہی خاندان کے ہیں‘ کی مثال پیش کرتے ہیں۔ بھارت میں اگر حکومت نام کی کوئی چیز ہے تو اسے وبال ٹھاکرے کی اکھنڈ بھارت کی سوچ کو تبدیل کرنا چاہیے۔ سیکولر بھارت کا راگ الاپنے والوں کے منہ پر شیوسینا کا برقعہ پر پابندی کا مطالبہ ایک تھپڑ ہے۔ گاندھی کا قول ہے ‘ عورت کی کتاب دنیا ہے‘ وہ کتابوں سے اتنا نہیں سیکھتی جتنا دنیا سے سیکھتی ہے۔ مرد کتابیں پڑھتے ہیں جبکہ عورت کتاب بناتی ہے۔
٭…٭…٭…٭
معروف اداکارہ و ہدایت کارہ شمیم آراء کو برین ہیمرج کے باعث مقامی ہسپتال میں داخل کرادیا گیا۔
فلم انڈسٹری پر شمیم آراء چھائی رہیں‘ کافی دیر تک ان کا سکہ چلتا رہا‘ اپنے زمانے کی خوبصورت اور پھرتیلی اداکارہ تھیں‘ اس سے پہلے اداکارہ سلونی کا انتقال ہوا‘ فلمی دنیا میں جو پھول کھلے تھے‘ آہستہ آہستہ مرجھا رہے ہیں۔ اداکاروں اور فنکاروں کی آخری عمر میں کوئی دیکھ بھال نہیں ہوتی‘ اولاد بہتر تربیت نہ ہونے کے باعث بڑھاپے میں ان کو گلے نہیں لگاتے۔ وزارت ثقافت اور کوئی بڑا اداکار بھی انکی کوئی خبر نہیں لیتا۔ شمیم آراء ایک عرصہ سے اپنی سہیلی کے ہاں مقیم تھیں‘ سوچ و بچار کے سوا اس عمر میں ان کو کوئی اور کام تو ہوتا نہیں‘ جو رنگ رنگیلیاں انہوں نے دیکھی ہوتی ہیں‘ اب وہ لوٹ نہیں سکتیں‘ اس لئے ڈپریشن کا شکار ہو کر بیماری میں مبتلا ہو جاتی‘ ساری زندگی لوگوں کو اپنے فن کے سحر میں مبتلا کرنے کے بعد خود ہسپتال جا پہنچیں۔ بقول شاعر…؎
زلف نے بل کوئی کھایا تو برا مان گئے
چاند بدلی میں جو آیا تو برا مان گئے
اور تو سب کو پلاتے رہے مست آنکھوں سے
ہاتھ ساغر نے بڑھایا تو برا مان گئے
اللہ تعالیٰ ان کو صحت عطا فرمائے اور انکے محبین کی خوشیوں کو دوبالا کرے۔
٭…٭…٭…٭
ہفتے میں دو چھٹیوں کا سلسلہ غیرمعینہ مدت تک برقرار رکھنے کا فیصلہ۔
ہمارے ملک میں دنیا کے تمام ممالک سے زیادہ سالانہ سرکاری چھٹیاں پہلے ہی ہیں‘ اب ہفتہ وار دو چھٹیاں کرکے کام کا بھٹہ بٹھایا جا رہا ہے۔ قائداعظم کا فرمان ہے کہ محنت میں کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے۔ ہم سے بعد آزاد ہونیوالے ملک آج دنیا کی معیشت پر غالب ہیں‘ ایک ہم ہیں کہ سستی کاہلی اور کام سے راہ فرار اختیار کرنے میں مصروف ہیں حکومت نے دو چھٹیوں کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی تھی کہ توانائی کی بچت ہو رہی ہے‘ یہ وجہ پہلے تھی اب نہیں ہے۔ موسم اچھا ہو چکا ہے‘ بقول شاعر…؎
مہرباں ہوکے بلالو مجھے چاہو جس وقت
میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں
دو چھٹیوں سے دفتری کام ادھورے پڑے ہوئے ہیں‘ اس لئے اس فیصلے کو واپس لیا جائے۔ فیرینکلن کا قول ہے‘ دن کا کام رات پر اور آج کا کام کل پر مت رکھ بلکہ برعکس اسکے کل کی فکر آج کر اس سے بہتر کامیابی کی صورت اور نظر نہیں آتی لیکن ہم نے چھٹیوں پہ زور دے رکھا ہے۔