منگل ‘ 21 جمادی الثانی 1438 ھ‘ 21 مارچ 2017ئ

منگل ‘ 21 جمادی الثانی 1438 ھ‘ 21 مارچ 2017ئ

چینی کمپنی نے 3 ائرپورٹس کا کنٹرول سنبھالنے کا فیصلہ کر لیا۔
ائرپورٹس بھی کوئی عام ڈی جی خان، قلات یا سانگھڑ والے نہیں‘ اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے ہیں۔ جنہیں ہم انٹرنیشنل ائرپورٹ کہتے نہیں تھکتے۔ ان ہوائی اڈوں کی دیکھ بھال اور انتظامات پر سالانہ اربوں روپے خرچ کئے جاتے رہے ہیں وہ کہاں گئے۔ ان تمام تر اخراجات کے بعد بھی انہیں غیر ملکیوں کے ہی سپرد کرنا تھا تو پھر یہ رقم خرچ ہی کیوں کی گئی۔ ہر چیز‘ ہر قومی علامت ہم آہستہ آہستہ غیر ملکیوں کے سپرد کرتے جا رہے ہیں۔ بہانہ ایک ہی ہے کہ اصلاح احوال درکار ہے۔ وہ بہتر طریقے سے انہیں چلا سکیں گے۔ نہایت ادب سے اگر حکمرانوں کے مزاج پر گراں نہ گزرے تو عرض ہے....
افشائے رازِ دل تو بڑا عیب ہے مگر
ہو گر ادب کے ساتھ تو داخل ہنر میں ہے
ڈر ہے کہ اب کہیں نااہل ارباب حکومت کہیں پورا ملک ہی ٹھیکے پر نہ دے دیں کیونکہ پورے ملک میں کوئی ایک بھی شعبہ ایسا نہیں جو انحطاط پذیر نہ ہو جسے اصلاح کی ضرورت نہ ہو۔ اس میں خود سیاست بھی شامل ہے۔ آخر ان کو بھی درست کرنا ہے، چلانا ہے۔ تو پھر انہیں بھی ٹھیکے پر دینے میں کیا حرج ہے اس لئے دیکھنا ہے چینی کمپنیاں کامیاب بولی دیتی ہیں یا امریکی بولی کامیاب ہوتی ہے۔ اصل مقابلہ انہی دونوں کمپنیوں کے درمیان ہو گا۔
٭....٭....٭....٭
بھارت کو سی پیک سے فائدہ اٹھانا چاہئے: محبوبہ مفتی
کہتے ہیں مشورہ دینا اچھا ہوتا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ بھارت میں یہ مشورہ سنے گا کون۔ وہاں تو پاکستان کے نام سے منسوب ہر چیز بھارتی حکمرانوں کو کاٹنے کو دوڑتی ہے۔ یہ تو اوپر والے کا احسان ہے کہ پاکستان آج بھی بھارت کے پہلو میں زندہ و جاوید کھڑا ہے۔ ورنہ محبوبہ مفتی جیسے دوغلے منافق وطن دشمنوں کی یہاں بھی کمی نہیں۔ اس وقت سی پیک منصوبہ بھارت کے حلق میں پھانس بن چکا ہے اور خار کی طرح اس کی آنکھ میں چبھ رہا ہے کہ وہ کچھ کر سکتا نہیں مگر پیچ و تاب کھا رہا ہے۔ آج کل بھارتی حکومت کا کشمیر پر بھی ہاتھ کافی سخت ہے کیونکہ کشمیر میں کیا مرد و زن کیا بوڑھے اور بچے سب جیوے جیوے پاکستان کے نعرے لگاتے ہیں۔ پاکستانی پرچم لہراتے ہیں۔ یہ بات بھارت کے سینے میں گولی کی طرح لگتی ہے۔ اب محبوبہ مفتی نے جو بھارت کی کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ ہیں۔ نجانے کس ترنگ میں بھارتی حکمرانوں سے کہا کہ وہ سی پیک سے فائدہ اٹھائیں۔ بات تو سچ ہے مگر پاکستان کا تجربہ تلخ ہے۔ اگر بھارت سی پیک میں شامل ہو گیا تو وہ اسے معاشی نہیں البتہ گڑبڑ اور جاسوسی کی راہداری ضرور بنا دےگا اس لئے فی الحال محبوبہ مفتی اپنا مشورہ اپنے پاس ہی رکھیں تو بہتر ہے۔
4غیر ملکی ٹیموں نے پانچویں بلائنڈ ورلڈ کپ میں شرکت کی تصدیق کر دی
ابھی تک پی ایس ایل میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت عمران خان کو ہضم نہیں ہو سکی۔ وہ اب بھی علی الاعلان انہیں پھٹیچر کہتے پھرتے ہیں۔ اس پر خود پشاور زلمی والے بھی سیخ پا ہیں کیونکہ انکی فائنل میں فتح بھی ایسے پھٹیچر کھلاڑی کی ہی مرہون منت ہے اور عالمی کرکٹ والوں نے بھی اس پر ناپسندیدگی ظاہر کرتے ہوئے اسکی مذمت کی ہے۔ مگر خان صاحب ہیں کہ میں نہ مانوں والی رٹ پر قائم ہیں۔ اب کہیں یہ خبر خان صاحب کے اعصاب پر بم بن کر نہ گرے کیونکہ وہ خاصے تنک مزاج ہیں۔ اب وہ کہیں ان غیر ملکی نابینا ٹیموں اور انکے کھلاڑیوں کے بارے میں بھی کوئی گوہر فشانی نہ کر بیٹھیں۔ یہ وہ بہادر کھلاڑی ہیں جو نڈر ہو کر ہمارے ملک آ رہے ہیں۔ ہمیں دل کھول کر جی جان کےساتھ انہیں خوش آمدید کہنا ہو گا تاکہ دنیا والوں کے دلوں میں پاکستان کے حوالے سے جو خوف بیٹھا ہے وہ ختم ہو سکے اور ہمارے کھیلوں کے میدان جگمگا اٹھیں اور دنیا بھر سے کھلاڑی اور کھیلوں کے شائقین پاکستان کا رخ کریں۔ امید ہے اب تحریک انصاف کے باقی سمجھ دار رہنما خان صاحب کو بلائنڈ کرکٹ میں غیر ملکی ٹیموں کی شرکت کےخلاف بچگانہ بیان بازی سے ضرور روکیں گے تاکہ مزید سبکی سے بچا جا سکے۔
٭....٭....٭....٭
آج کل دودھ، دوا اور سیاستدان خالص نہیں ملتا: شیخ رشید
تو صاحبو اب لے دے کے لگتا ہے اب صرف شیخ رشید ہی بچے ہیں جو خالص اشیاءکے زمرے میں آتے ہیں۔ ورنہ سارا کاروبارِ جہاں ناخالص ہے۔ یہ انکے خالص ہونے کی نشانی ہے کہ منہاج القرآن والوں نے بھی انہیں اجتماعی شادی کی تقریب میں بلایا۔ شادی کرانے کےلئے نہیں نوبیاہتا جوڑوں کو دعائیں دینے کیلئے کیونکہ ایسے ہی خالص لوگوں کی دعائیں جلد قبول ہوتی ہیں۔ تحریک انصاف والے انہیں بلائیں نہ بلائیں وہ انکے ہر جلسے میںشامل ہوکر اپنی خالص سیاست کا ثبوت فراہم کرتے ہیں جبکہ پی پی پی، ق لیگ، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں سے بھی انکی گاڑھی چھنتی ہے۔ اسی خالص پن کی وجہ سے دوائی کی انہیں کوئی ضرورت نہیں کیونکہ آج تک شاید ہی کسی نے سنا ہوکہ شیخ جی بیمار ہوئے ۔ اگر ہوتے بھی ہوں گے تو دوا دارو سے پرہیز کرکے ہی ٹھیک ہو جاتے ہونگے۔ شیخ ہونے کی وجہ سے وہ حکیموں سے مہنگا علاج کرواتے نہیں کیونکہ وہ کافی پیسے لیتے ہیں اور شیخوں کی جان جاتی ہے پیسے خرچتے۔ اب کہیں عمران خان، سراج الحق اور زرداری صاحب برا نہ مان لیں کہ یہ اچھی دوستی ہے‘ ہم پر بھی ناخالص نہ ہونے کا الزام تھوپ رہے ہو۔ کم از کم اپنوں سے تو رعائت کی جاتی ہے۔ ویسے اگر سارے سیاستدان خالص نہیں تو خود اپنے بارے میں کیا خیال ہے شیخ جی کا ....
٭٭٭٭٭٭٭٭٭