جمعۃ المبارک‘ 19 ؍ جمادی اوّل 1435ھ‘ 21؍ مارچ 2014ء

جمعۃ المبارک‘ 19 ؍ جمادی اوّل 1435ھ‘ 21؍ مارچ 2014ء

ہائی کورٹ سے ضمانت منظور ہونے پر ملزم کو  وکیلوں نے فرار کروا دیا : پولیس !
اب آئے گا مزہ جب کالی وردی اور کالے کوٹ اپنے اپنے کالے کرتوت چھپانے کیلئے ایک دوسرے کے منہ پر کالک ملتے ہوئے نظر آئیں گے اور وہ کالے کرتوت میں ملوث ملزم جو بھاگ گیا ہے اپنے کالے کرتوت بڑے فخر سے اپنے ساتھیوں کو بتا رہا ہو گا۔
ماسوائے قانونی کام کرنیوالا وکیل ہو یا پُلسیا دونوں بھائی لگتے ہیں اور آجکل تو  بعض ’’نتھ چھٹ‘‘ وکلا کی گُڈی زیادہ ہی چڑھی ہوئی ہے ان کے ہاتھوں نہ پولیس کی کالی وردی محفوظ ہے نہ کسی جج کی کرسی، بار روم سے لے کر سڑکوں تک ان کی بدمعاشیوں کی داستانیں اس طرح چلتی ہیں جس طرح ضیاء کے دور میں پی ٹی وی پر ’’ظلم کی داستانیں‘‘ نامی پروگرام چلتا تھا۔ اب دیکھنا ہے قانون کے محافظوں اور قانون کے مفسروں میں سے کون میدان مارتا ہے۔ ان دونوں میں جب بھی میچ پڑتا ہے عوام بڑے ذوق و شوق سے اسے پاک بھارت میچ سمجھ کر دیکھتے ہیں اور دونوں کے ایک دوسرے کے ہاتھوں پٹنے پر وردی اور کالے کوٹ کو پھاڑنے پر بڑے بڑے سنجیدہ اور بزرگ لوگ بھی بے تحاشہ تالیاں بجاتے اور قہقہے لگاتے ہیں کیونکہ ان دونوں سے عوام تنگ آئے ہوئے ہیں، کیونکہ یہ جب چاہتے ہیں قانون کو اپنی مرضی سے استعمال کرتے ہیں اور سادہ لوح عوام منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں انہیں کوئی روک نہیں سکتا۔ یہ لوگ اپنے کالے کوٹ اور وردی کا بھی لحاظ نہیں کرتے بلکہ انہوں نے اس مقدس وردی کو ہی لوٹ مار اور قانون شکنی کی علامت بنا دیا ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
وزیراعظم کا قیمتی مور کھانے والا ’’جنگلی بِلا‘‘ پکڑا گیا، پکڑنے والوں کو انعام بھی ملا!
اب یہی تیزی اور کارکردگی کاش ہماری حکومت امورِ سلطنت چلانے میں بھی دکھائے اور بدعنوانی اور لوٹ مار میں مصروف ’’باگڑ بِلوں‘‘ کو بھی گرفت میں لے تو مزہ ہی آ جائے۔ ہمارے ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں، ہر چیز وافر مقدار میں دستیاب ہے مگر اس نظام کو کیا کہیں جس کے تحت تقسیم کا عمل ناقص اور کرپٹ افراد کے ہاتھوں میں دیا جاتا ہے اور یہ بدکردار لوگ پورے نظام کو کرپٹ کر کے رکھ دیتے ہیں اور کوئی چیز اصل حقدار یا مستحق تک نہیں پہنچتی کیونکہ اوپر اوپر سے ہی یہ سب کچھ ہڑپ ہو جاتا ہے۔ان ’’جنگلی باگڑ بِلوں‘‘ کے ہاتھوں کھیت کھلیان، صنعتیں، سرکاری ادارے، ترقیاتی فنڈز، امدادی رقوم، غیر ملکی امداد، چادر چار دیواری کچھ بھی محفوظ نہیں، یہ ہر جگہ دندناتے، منہ مارتے پھر رہے ہیں اب ان کا بھی بندوبست ہو جائے۔ ان کو پکڑنے کیلئے بھی خصوصی پنجرے لگائے جائیں، جال بچھائے جائیں یا زہریلی گولیاں رکھی جائیں تو عوام ان کے خاتمے پر حکومت کو گڈ گورننس کا سرٹیفکیٹ ہی نہیں بلکہ طویل عرصہ اچھی حکومت برقرار رکھنے کیلئے ووٹ بھی دیں گے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
پاکستان کی جیت پر جشن، مزید 6 کشمیری طلبہ میرٹھ یونیورسٹی سے بے دخل !
ابھی تک بھارت میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی فتح پر جشن منانے کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہُوا، اطلاعات کے مطابق مزید 6 طلبہ اس صدمے کی وجہ سے یونیورسٹی سے نکال دئیے گئے ہیں۔ یہ وہ بے گناہ طالب علم ہیں جو اس روز یونیورسٹی میں موجود ہی نہیں تھے۔ گویا ’’کرے کوئی اور بھرے کوئی‘‘ یہ اچھی سینہ زوری ہے۔ اب یہ بے چارے طالب علم سوچتے ہوں گے کہ اس سے تو اچھا تھا کہ ہم بھی جیت پر تالیاں بجانے، مبارکباد دینے میں شامل ہوتے تو زیادہ اچھا ہوتا، اس طرح بے گناہ سزا ملنے پر تو زیادہ دُکھ ہو رہا ہو گا مگر ایک بات کھل کر سامنے آ گئی۔ بھارت کو بھی یہ جان لینا چاہئے کہ وہ جو چاہے کر لے کشمیر مُٹھی میں بند ریت کی طرح اس کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔ وہ کشمیریوں پر روزگار، تعلیم اور زندگی کے دروازے بھی بند کر کے دیکھ چکا ہے کہ کشمیری اسکے ساتھ نہ پہلے تھے نہ اب ہیں، رہ گئے چند مفاد پرست سیاستدانوں کا ٹولہ تو  وہ بھی جب تک اقتدار کے مزے میں ہے وہ ترنگے میں بانس بنے کھڑے ہیں جس دن تبدیلی کی ہَوا چلی تو وہ کشمیر چھوڑ کر بھاگ جائینگے یا عوام ان کا سُرمہ بنا دیں یا پھر وہ بھی بھارت مُردہ باد کے نعرے لگاتے نظر آئیں گے۔ بھارت سے زیادہ یہ حقیقت اور کون جان سکتا ہے۔ یادشِ بخیر ابھی ایک دو ماہ پہلے کی بات ہے کشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں میں منعقدہ ریاستی اسمبلی کے اجلاس میں جموں اور کشمیر میں ترقیاتی فنڈز کی غیر منفصانہ تقسیم کے حوالے سے اسمبلی ممبران جو بھارت ماتا کی جے، نعرۂ تکبیر اور آزادی کے نعرے لگانے کا مقابلہ ہوا تھا وہ اس بھارت سے آزادی کی حقیقت کی سب سے بڑی عکاسی کرتا ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
کریمیا ریفرنڈم میں 95 فیصد سے زیادہ عوام نے روس سے الحاق کی منظوری دیدی!
افغانستان کے پہاڑوں میں دفن ہونے والا سرد جنگ کا بھوت لگتا ہے ایک مرتبہ پھر انگڑائی لیکر ’’سُرخ ریچھ‘‘ کی شکل میں بیدار ہونے لگا ہے اور امریکی و یورپی طاقت کو ایک مرتبہ پھر للکار رہا ہے۔ افغانستان کے بعد جس طرح سوویت یونین بکھر کر صرف روس رہ گیا تھا اب آہستہ آہستہ پھر اپنی سابقہ شناخت اور حیثیت بحال کرنے کیلئے اس نے کریمیا اور دیگر ریاستوں کو پھر سے اپنی زُلفوں کا اسیر بنانا شروع کر دیا ہے اور اس کا پہلا شکار کریمیا کے عوام ہیں جنہوں نے تمام تر عالمی شور شرابے کے باوجود اپنے سابقہ مربی اور آقا کی اطاعت پھر قبول کر لی ہے۔ اب معلوم نہیں اسے یہ ایک پوری قوم کی اجتماعی خودکشی کی کوشش کہا جائے یا صبح زندگی کی نوید کیونکہ سرد جنگ کے دور میں امریکہ اور یورپ بہشت بریں اور سوویت یونین سرد جہنم کہلاتا تھا اور دونوں اپنے رسوخ کی خاطر پوری دنیا کو تقسیم کر کے اس پر حکمرانی کرتے رہے۔  ہمارے دینی و سیاسی جماعتوں نے بھی سامراج اور کمیونزم کی اس جنگ میں خوب کمایا۔
اب دیکھنا ہے جنت اور جہنم کا یہ نیا دور کس کیلئے خوش بختی اور کس کیلئے بدبختی لاتا ہے۔ ہم تو سابقہ سرد جنگ سے لے کر آج تک اس سرد و گرم موسموں کے ہاتھ کافی بد حال ہوچکے ۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭