جمعرات ‘ 5 ؍ صفر المظفر1431ھ‘ 21 ؍ جنوری 2010ء

امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے عافیہ صدیقی سے اظہار یکجہتی کیلئے گزشتہ روز احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی ‘ انہوں نے گلہ کیا ہے کہ عافیہ کی قید پر عاصمہ جہانگیر اور انسانی حقوق کی دوسری تنظیمیں کیوں خاموش ہیں۔
اس کا سیدھا سا جواب تو یہی ہے یہ ایجنسیوں کا کمال ہے جنہوں نے انکے منہ بند کر رکھے ہیں کیونکہ آجکل ڈالروں میں بڑا زور اور دلکشی ہے۔ عافیہ صدیقی بیگناہ ہے اور امریکہ نے اسے ایک جھوٹے مقدمے میں قید کر رکھا ہے اور یوں لگتا ہے کہ جیسے امریکہ اسکو سزا دینے کی ٹھان چکا ہے۔ تمام اسلامی ممالک کو بھی چاہئے کہ وہ امریکہ پر دبائو ڈالیں اور قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کو رہا کرائیں۔ اگر امن آشا جیسی لغو اور لایعنی تحریکیں چل سکتی ہیں تو کیا ملک بھر میں ایسی کوئی تحریک نہیں چلائی جا سکتی جو عافیہ صدیقی کو رہا کرانے کیلئے کوششیں کرے۔ جب تک مسلم امہ امریکیوں، یہودی کی زیادتیوں کا عملی نوٹس نہیں لے گی اس طرح کے سلسلے جاری رہیں گے۔
عافیہ صدیقی کے علاوہ ہزاروں پاکستانی لاپتہ ہیں، ان کی بازیابی کیلئے کوئی مہم نہیں، کوئی کوشش نہیں، ایک خاموشی ہے، ایک تاریکی ہے جو مسلمانوں پر چھائی ہوئی ہے۔ کیا ہماری مساجد میں سے ایک بھی آواز کبھی اٹھی ہے عافیہ صدیقی ایک پاکدامن بے گناہ اسلام کی بیٹی ہے۔ اس کو امریکہ رہا کرے۔ سیاست دانوں کا کیا پوچھتے ہیں وہ تو صرف کرسی کی پرستش ہی کو عاقبت کی تیاری سمجھتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
ڈنمارک کے وزیراعظم لارس نے کہا ہے کہ ڈنمارک میں برقعہ اور نقاب پہننے والی مسلم خواتین کیلئے کوئی جگہ نہیں‘ پابندی کیلئے سوچ رہے ہیں۔
ڈنمارک نے تو جیسے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ مسلمانوں کی دل آزاری اور اسلامی شعائر کی بے حرمتی کرتا رہے گا۔ اب زمانہ مذاکرات‘ احتجاج کا نہیں رہا‘ مغرب اس بات پر تل گیا ہے کہ مسلم امہ کو تنگ کیا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کیساتھ جو کچھ ہو رہا ہے‘ وہ صرف اسلئے ہے کہ وہ بیدار ہوں اور یکجا ہو کر ان مغربی ممالک کا بائیکاٹ کریں جو آئے روز مسلم دنیا کی توہین کرتے رہتے ہیں۔ ڈنمارک نے توہین آمیز خاکے چھاپے اور اب وہ چاہتا ہے کہ مسلمانوں کو ڈنمارک سے دیس نکالا دے۔ اس کا ایک ہی حل ہے کہ اسکے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیئے جائیں اور اسکی منصوعات کا بائیکاٹ کیا جائے اور سفارتی سطح پر پوری مسلم دنیا میں یہ مہم چلائی جائے۔
مغرب نے عالم اسلام کیخلاف جو نقاب اوڑھ رکھا ہے‘ اسے بے نقاب کرنے کا وقت آگیا ہے‘ اگر اسی طرح ہم ظلم و زیادتی سہتے رے تو دنیا میں بندہ مسلم کی وقعت ٹکے کی نہیں رہ جائیگی۔ آج عرب دنیا اکثر و بیشتر ڈنمارک کی منصوعات استعمال کرتی ہے‘ اس کے باوجود کہ اسے ڈنمارک کی اسلام دشمن کارروائیوں کا بخوبی علم ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ اس سلسلے میں سخت نوٹس لے اور ڈنمارک کو بتا دے کہ اسکی ان حرکات کے نتیجے میں پاکستان تجارت ختم کر سکتا ہے اور اپنے سفیر کو واپس بلا سکتا ہے۔ یوں تو مغربی ممالک کو جمہوریت پر بڑا ناز ہے مگر اپنے ہاں وہ مسلمانوں کو مذہبی آزادی سے محروم کر رہے ہیں۔ یہ کیسی جمہوریت ہے‘ اگر مسلم امہ میں غیرت نام کی کوئی چیز رہ گئی ہوتی تو آج ڈنمارک کو یہ جرأت نہ ہوتی۔
٭…٭…٭…٭
واپڈا کے سابق سربراہان انجینئر شمس الحق اور جنرل (ر) ذوالفقار نے کہا ہے کہ رینٹل پاور پلانٹس ملک کی تباہی کا منصوبہ ہے۔
ملک کی تباہی کے منصوبے تو پہلے ہی جاری ہیں‘ یہ ایک منصوبہ اور سہی۔ ماہرین نے کہا ہے کہ اس منصوبے سے بجلی بہت مہنگی ہو جائیگی‘ جبکہ وفاقی وزیر بجلی و پانی پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ نرخوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔ بھاشا ڈیم بننے سے پہلے بجلی کی قیمت کم نہیں ہو سکتی۔ حکومت بجلی کی پیداوار کے سلسلے میں جتنے بھی جھوٹ بولے‘ وہ سچ پر غالب نہیں ہو سکتے۔ شمس الحق اور ذوالفقار نے جو تجاویز پیش کی ہیں‘ ان پر حکومت غور کرے۔ تھرمل پاور پلانٹس کی پیداواری گنجائش بڑھانے سے مہنگی بجلی کے منصوبے سے نجات مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رینٹل پاور منصوبہ تیار کرنیوالوں کو پکڑا جائے اور ان سے پوچھا جائے کہ انہوں نے اتنا مہنگا منصوبہ کیوں تیار کیا؟ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ حکومت اپنے گل محمد ٹائپ وزراء پر ہی انحصار کرتی ہے اور کسی معاملے میں ماہرین سے مشورہ نہیں کرتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ رینٹل پاور پلانٹس جیسا ملک کو تباہ کرنیوالا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اسکے باوجود وزیر بجلی کہتے ہیں کہ لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کی ڈیڈ لائن نہیں دے سکتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر تھرمل پاور پلانٹس پر توجہ کیوں نہیں دی جاتی۔ تھرمل کول منصوبے پر عملدرآمد رکا پڑا ہے‘ جس پر کام شروع کرنے سے بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
٭…٭…٭…٭
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے ‘ سیاست کرنی ہے تو ملک سے باہر بھاگنا نہیں‘ بھٹو کی طرح شہید ہونا سیکھو۔
زرداری صاحب میں ان دنوں بھٹو شہید کی روح گھسی ہوئی ہے‘ اسلئے وہ مرد حر سے بھی آگے نکلتے نظر آتے ہیں۔ اگر وہ اس ملک کی خاطر ہر قربانی دینے کو تیار ہیں تو انہیں ایسا کرنے سے کس نے روکا ہے۔ شہادت کی ایک تمنا کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ انہیں اپنی شہادت کا یقین نہیں۔ بہرحال وہ اس وقت مسائل حل کرنے کی مہم پر نکلے ہوئے ہیں تو اس وقت ملک کو بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی جیسی مشکلات کا سامنا ہے‘ وہ انکو حل کریں تو پنجاب کا دورہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ میاں برادران بھی واپس آرہے ہیں‘ وہ ان سے بھی مشاورت کریں اور حکومت کو کامیابی کے راستے پر ڈالیں۔ وہ اپنی مدت حکومت اس طرح پوری کریں کہ لوگ ان کو یاد کریں۔ انکے تیور بتا رہے ہیں کہ وہ کچھ کر گزرنا چاہتے ہیں مگر تاحال اس دورے سے پنجاب میں کوئی ایسی تبدیلی نہیں آئی جس سے عوام الناس کے دل جیتے جا سکیں۔ انکے وزیروں کے کام تسلی بخش نہیں‘ وہ ایسی منصوبہ بندیاں کر رہے ہیں کہ جن سے ملک میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔