جمعۃ المبارک‘ 28 ؍ جمادی الاوّل 1436ھ ‘ 20؍ مارچ 2015ء

جمعۃ المبارک‘ 28  ؍ جمادی الاوّل  1436ھ ‘  20؍  مارچ  2015ء

بھارت:پہلی مسلمان خاتون سلویٰ فاطمہ نے کمرشل پائلٹ کا لائسنس حاصل کر لیا۔  
بھارت جیسے متعصب ملک میں تمام رکاوٹوں کے باوجود ایک مسلم خاتون کا کمرشل پائلٹ کے لئے لائسنس حاصل کر لینا بڑی فتح ہے اور ان ہندو سورمائوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو خواتین کی بے حرمتی کرتے ہیں انہیں ڈرا کر گھروں میں قید رکھتے ہیں اور خصوصی طور پر مسلمانوں پر تعلیم اور ترقی کے راستے بند رکھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو نسواں اور تعلیم نسواں کے دشمن ہیں انکی یہ بڑی شکست ہے۔ ایسا دشمن کبھی ترقی کرتا ہے نہ ہی اس کو کبھی خوشی نصیب ہوتی ہے۔ سودا نے کہا تھا… ؎  
جو کہ ظالم ہو وہ ہرگز پھولتا پھلتا نہیں  
سبز ہوتے کھیت دیکھا ہے کبھی شمشیر کا  
شمشیر پر کبھی پھل نہیں لگتا بلکہ دھاری دار لوگوں کے گلوں کیساتھ ساتھ دل بھی کاٹتی ہے۔ بھارت میں مسلمان خاتون کا کامیابی حاصل کرنا کسی اچنبھے سے کم نہیں ہے۔ بھارت میں آباد مسلمان خاندانوں کو اپنی بیٹیوں کو ترقی کی منازل طے کرانی چاہئیں اور ترقی کی منازل طے کرکے یہ ثابت کرنا چاہئے کہ … ع
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی  
اگر مسلمانوں کو بھارت میں سہولیات میسر ہوں تو وہ کسی سے کم نہیں ہیں۔  
٭…٭…٭…٭
اپنی محبوبہ کو شادی کا پیغام بھیجنے کا منفرد انداز۔    
برطانوی شہری نے اپنی محبوبہ کو شادی کے لئے راضی کرنے کا منفرد انداز اپنایا جس میں اس نے لڑکی کو سال کے 365 دن شادی کا پیغام بھیج کر حیران کر دیا۔ لڑکی بھی اس پیغام کو دیکھ کر سَکتے میں آ گئی اور یوں گویا  ہوئی ہو گی … ؎  
ذرا دم تو لینے دے اے چشم جادو  
بڑی مدتوں میں دل اچھا ہوا ہے  
جینیفر 365 دنوں پر مشتمل پیغام دیکھ کر حقیقت میں اپنا دل دے بیٹھی عاشق نے ویڈیو نیٹ پر لوڈ کرنے سے قبل ساحل سمندر پر جا کر پہلے محبوبہ کو دکھائی اور پھر اقرار لے کر ہی واپس لوٹا۔
رپورٹ کے مطابق برطانوی شہری ڈین سمتھ نے اپنی محبوبہ سے دل کی بات کرنے کیلئے منفرد انداز اپنایا جس میں اس نے جینیفر کو ایک ویڈیو کے ذریعے شادی کا پیغام بھیجا جو اس نے پورا سال مختلف شکلوں میں کے دوران اظہار محبت کرتے ہوئے ریکارڈ کیا تھا۔ ڈین سمتھ نے پوری ویڈیو کے دوران ہر روز اپنے روزمرہ کے معمولات کے 365 کلپ جمع کئے اور ہر انداز میں اس نے ایک سفید کارڈ تھاما ہوا تھا جس پر ’’جینیفر کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟‘‘ کا پیغام درج تھا۔ سچ کہا گیا ہے کہ عاشق جب تک خبطی نہیں ہوتا تب تک مراد کو پا نہیں سکتا۔ ڈین سمتھ نے ویڈیو کی  ریکارڈنگ جنوری 2014 سے شروع کی جسے اس نے مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ پر اپ لوڈ بھی کر دیا ہے۔
٭…٭…٭…٭
شوٹنگ کے دوران اذان کی آواز سن کر مسیحی ڈانسر مسلمان ہو گیا۔   
شاعر نے کہا تھا… ؎
ایسی ضد کا کیا ٹھکانہ، اپنا مذہب چھوڑ کر  
میں ہوا کافر تو وہ کافر مسلمان ہو گیا  
ہم تو اذان کے وقت گانے سننے بند نہیں کرتے اور اپنے آپ کو روشن خیال تصور کرنے میں لگے رہتے ہیں جبکہ غیر نہ صرف اذان کا احترام کرتے ہیں بلکہ اسکے اثر سے انکے دل بھی بدل جاتے ہیں۔ سٹیج اداکارہ سائرہ خان کے ساتھ ڈانس کرنیوالے قاسم مسیحی کا دل بدل گیا اور وہ محمدقاسم بن گیا۔ دلوں کو بدلنا انسان کے بس کی بات نہیں۔ یہ تو من جانب اللہ ہوتا ہے لیکن نہ جانے سائرہ خان کب بدلے گی۔ اس جیسی درجنوں لڑکیاں اب بدل چکی ہیں انہوں نے اپنے آپ کو مکمل تبدیل کر لیا ہے۔ یاد رکھئے یہ تبدیلی عمران خان جیسی نہیں بلکہ حقیقی تبدیلی ہے۔ ایک طرف مسیحی نوجوان نے اذان کی آواز سن کر کلمہ پڑھ لیا اور نماز پڑھ کر دلی سکون حاصل کیا تو دوسری طرف ایک مسیحی خاندان نے ڈانس کرکے سب کو حیران کر دیا، مشعل اوباما نے ٹی وی پروگرام میں ایسا رقص کیا کہ دیکھنے والے ورطہ حیرت میں ڈوب گئے۔ مشعل ابھی تو خود ناچیں لیکن وائٹ ہائوس میں وہ اوباما کو نچواتی ہونگی اور اوباما ’’رقص میں ہے سارا جہاں‘‘ کہتے کہتے دنیا کو تسخیر کرنے کے بڑے بڑے فیصلے کر جاتے ہونگے۔ اب مشعل اپنے رقص سے تقریبات کی رونق بھی بڑھائیں تو کیا مضائقہ ہے۔
٭…٭…٭…٭
بھارت کے کروڑ پتی بھکاری، ماہانہ آمدنی 75 ہزار روپے۔
غریب لوگوں کے امیر بھکاری۔ ہمارے ہاں تو 75 ہزار ماہانہ آمدنی والے لکھ پتیئے ہوتے ہیں۔ بھارتی بھکاری کا ممبئی میں 80 لاکھ روپے مالیت کا فلیٹ اور ایک دکان ہے۔ دکان کا ماہانہ کرایہ 10 ہزار روپے ہے لیکن اسکے باوجود بھکاری گھوم پھر کر بھیک مانگتا ہے۔ بھکاری تو ہمارے حکمران بھی بنے ہوئے ہیں لیکن وہ ایک قسط ملنے کے بعد کچھ دن آرام سے بیٹھ کر اسے کھاتے ہیں پھر دوڑتے ہیں لیکن بھارتی بھکاری پیسے ہونے کے باوجود مانگتا ہے۔ سچ کہتے ہیں کہ کچھ بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جو مرنے کے ساتھ ہی ختم ہوتی ہیں۔ ان بیماریوں میں ایک بیماری مانگنے کی بھی ہے۔ ہمارے ہاں بھی لوگ مانگتے ہیں لیکن وہ اس قدر امیر ترین نہیں ہوتے۔ اگر کچھ ہوتے بھی ہونگے تو ان کا نام ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ ایسے ہر چوک چوراہے اور ہسپتال کے باہر مانگنے والے نظر آتے ہیں۔ نہ جانے یہ رات کو کہاں غائب اور صبح کہاں سے نمودار ہوتے ہیں۔ پولیس نے بلاتفریق آپریشن بھی کئے لیکن یاجوج ماجوج کی قوم کی طرح یہ ختم ہونے پر ہی نہیں آ رہے۔ عرب امارات میں لوگ ٹورازم پر جاتے ہیں اور پھر وہاں مساجد کے باہر بھیک مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ گزشتہ روز دبئی میں ایک پاکستانی بھکاری سے 50 ہزار درہم برآمد ہوئے ہیں۔ حکومت کو ملک کیلئے بدنامی کا باعث بننے والے اس دھندے کا سدباب کرنا چاہئے۔