جمعۃ المبارک‘21 ؍ شعبان 1435ھ ‘ 20 ؍جون 2014ء

جمعۃ المبارک‘21 ؍ شعبان   1435ھ ‘ 20 ؍جون 2014ء

’’وزراء ایک سال رشوت نہ لیں‘‘ لیگی رکن کے ریمارکس پر سندھ اسمبلی میں ہنگامہ!
اعجاز شیرازی نے سندھ کے وزراء کا ’’بھانڈا پھوڑ‘‘ دیا ہے۔ گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھا دی ہے۔ محکمہ خزانہ میں پہلے 10 اور اب 12 فیصد کمیشن لینے کے انکشاف نے سندھ حکومت کی کارکردگی کی قلعی کھول دی ہے۔ ہاں جناب پچھلے پانچ سال بھی تو ہر کام میں کمیشن وصول کیا جاتا تھا، اسی بنا پر تو آج سابق وزرائے اعظم عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں۔ مسٹر ٹین پرسنٹ کی اصطلاح کسی دور میں بہت مشہور ہوئی تھی اب بات  10 سے 30 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اگر اب اس پر بریک نہ لگی تو بات مزید آگے پہنچ جائیگی۔ قائم علی شاہ اگر اپنے وزراء پر قابو نہیں پا سکتے تو پھر دونوں ہاتھ کھڑے کر دیں کہ میں رشوت کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ پیپلز پارٹی پر تو پہلے ہی کرپشن کا دھبہ لگا ہوا ہے۔
سندھ کے عوام جانوروں کے ساتھ پانی پینے پر مجبور ہیں جبکہ اندرون سندھ کی سڑکیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اس علاقے میں طویل جنگ کے باعث سڑکوں کی یہ حالت ہوئی ہے۔ امن وا مان کی صورتحال بھی کافی بگڑی ہوئی ہے۔ سندھ کے وزراء اگر صاف و شفاف ہیں تو پھر رکن سندھ اسمبلی اعجاز شاہ شیرازی کے الزام کا جواب دیں اور سندھ کی تقدیر بدل کر ثابت کر دیں کہ انکی جماعت عوام کے مسائل حل کرنے میں مخلص ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کو اپنی پارٹی کے وزراء کی کرپشن کی داستانوں کا نوٹس لینا حاہئے تاکہ عوام کا پیسہ عوام پر خرچ ہو سکے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
ماضی کی نیوز کاسٹر لٹیشیا گزشتہ روز سپین کی ملکہ بن گئیں!
سپین کو فٹ بال میں تو چلی کے ہاتھوں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث سپین کے عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے لیکن دوسری طرف نائن الیون اور عراق پر امریکی حملے کی خبریں دینے والی نیوز اینکر لٹیشیا سپین کی ملکہ بن گئی ہیں۔ شہزادہ فلپ نے نیوز اینکر کو خبریں پڑھتے پسند کیا تھا۔ کہاں صحافت کے خارزار اور کہاں اب سپین کی ملکہ۔ بہرحال یہ قسمت کی بات ہے۔ ابھی حال ہی میں برطانیہ کی ایک تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ آپکو جاب حاصل کرنے کیلئے ڈگری کے ساتھ ساتھ خوبصورت بھی ہونا ہو گا۔ آپکے پاس پی ایچ ڈی کی ڈگری ہو لیکن اگر آپکی شکل و صورت اچھی نہیں تو کوئی بھی کمپنی آپ کو جاب نہیں دیگی لیکن اگر آپکے پاس تعلیم کم ہے اور شکل و صورت اچھی ہے تو آپ کو اچھی جاب مل جائیگی۔ لٹیشیا کے پاس تعلیم بھی تھی اور اسکے ساتھ ساتھ خوبصورتی کی بھی ملکہ تھیں اس لئے اب وہ سپین کی ملکہ بن گئی ہیں۔ لٹیشیا نے صحافت کے میدان میں تو خوب کامیابیاں حاصل کی ہیں، دیکھیں اب وہ عملی زندگی میں کیا کرتی ہیں۔ صحافی صرف ٹی وی پر ہی نظر نہیں آتے بلکہ انکی رسائی تو بادشاہوں کے بیڈ روموں تک بھی ہوتی ہے۔ ماضی کی عظیم نیوز کاسٹر لٹیشیا کو ملکہ سپین بننے پر مبارک ہو۔ امید ہے صحافت کے میدان کی طرح وہ محلاتی زندگی میں بھی کامیابیاں سمیٹے گی۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
گوجرانوالہ میں وارڈن نے بزرگ شہری کی موٹر سائیکل کی چابی نکال کر دوڑ لگا دی!
ٹریفک وارڈن چابی نکال کر ایسے بھاگا جیسے چور چوری کے بعد بھاگتے ہیں۔ وارڈن عرفان نے 70 سالہ بزرگ غلام اللہ خان کا چالان کیا، اب ستر سالہ بوڑھے بابا جی سے کوئی غلطی ہوگئی تھی تو انہیں ویسے ہی بتا دیا جاتا وہ آئندہ ایسی غلطی نہ کرتے۔ ایسے بزرگوں کی غلطیوں سے تو اللہ تعالیٰ بھی درگزر کر جاتے ہیں لیکن ٹریفک وارڈن چالان کے بعد چابی بھی نکال کر بھاگ کھڑا ہوا۔ اللہ بھی فرماتا ہے کہ مجھے سفید بال سے حیا آتی ہے لیکن ٹریفک وارڈن نے اپنے دادا کی عمر کے شخص کا تمسخر اڑا کر کچھ اچھا نہیں کیا۔ لاہور میں ٹریفک وارڈن چھوٹی چھوٹی بات پر لڑائی جھگڑے پر اُتر آتے تھے اب انکی تربیت بہتر ہوئی ہے اور وہ شہریوں سے اچھا برتائو کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک معصوم بچے کو اگر آپ ڈانٹیں گے تو وہ ضد پر اُتر آئیگا لیکن اگر اسے پیار سے سمجھائیں گے تو وہ بات مان جائیگا۔ بزرگوں کی عادتیں بھی بچوں جیسی ہوتی ہیں اگر انہیں سمجھائیں تو وہ بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ پولیس اہلکار، وارڈن، سرکاری افسران اور گھروں میں نوجوان اپنے بزرگوں کا خاص خیال کریں، انہیں جھڑکیں مت ‘انکے کسی چیز کے بارے بار بار سوال کرنے پر مشتعل مت ہوں کیونکہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ آج آپ جوان ہیں کل کو آپ بھی بوڑھے ہونگے اور پھر آپکی اولاد آپکے ساتھ بھی ایسا ہی برتائو کریگی لہٰذا اگر کل کو سُکھ اور چین چاہتے ہو تو آج ان بزرگوں کے ساتھ محبت کا سلوک کرو۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
چار پانچ لوگوں نے قسم کھائی ہے کہ وہ ملکی ترقی ہضم نہیں کر سکتے : اسحاق ڈار!
جناب ڈار صاحب آپ انہیں بھی اگر ڈالر کھلائیں تو وہ قسم توڑ دینگے، اگر انکے پیٹ بھرے ہوئے ہوں تو وہ قسم نہیں کھائیں گے لہٰذا اگر پیٹ خالی ہوں تو پھر قسم تو کھانی پڑتی ہے۔ ملکی ترقی تو ہر کوئی ہضم کر سکتا ہے وہ کسی کو بُری نہیں لگتی لیکن اگر عوام کو کھانے کیلئے کچھ نہیں ملے گا، ڈار اور ڈالر ہی ہر طرف نظر آئیگا تو غریب آدمی کیا کرے۔ غریب کو ڈالر نہیں بلکہ دو وقت کی روٹی چاہئے اگر غریب کو روٹی ملنا شروع ہو جائے تو اسے ترقی بھی ہضم ہو جائیگی لیکن اگر اسکا پیٹ کاٹ کر آپ اپنے اللے تللوں پر خرچ کرینگے تو وہ اس کو ہضم کیسے کر سکے گا۔ آج آلو غریب کی پہنچ سے دور ہے، اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ میں آلو 30 روپے تک لائوں گا لیکن رمضان سر پر آن کھڑا ہے اور آلو کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ اسحاق ڈار غریب عوام پر ٹیکس کا بوجھ ڈالیں گے تو غریب چیخے گا، اسے بڑے بڑے محلات ہضم ہونگے نہ ترقی اسکی آنکھوں کو اچھی لگے گی۔ اسحاق ڈار اگر 2 ڈالر کمانے والے کو صاحبِ حیثیت کہیں گے تو پھر غریب کو یہ ترقی ہضم نہیں ہو گی۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭