پیر ‘ 18 ؍ربیع الاوّل 1435ھ 20 ؍ جنوری 2014ء

سندھ حکومت کی مسلم لیگی کارکنوں کے ساتھ زیادتیاں نہ رکوانے پر ممتاز بھٹو وزیراعظم سے ناراض !
صرف آپ ہی نہیں ممتاز بھٹو صاحب، اس وقت پورا پاکستان وزیراعظم سے ناراض لگتا ہے۔ غریب، مزدور، ملازمت پیشہ، عام عوام کسی سے بھی پوچھ لیں کہ ان کے ساتھ سرکاری اور غیر سرکاری ادارے، تاجر، صنعتکار، سرمایہ دار، جاگیر دار، خان، نواب، وڈیرے، ملٹی نیشنل کمپنیوں سے لیکر عام دکاندار اور ریڑھی والا تک جو زیادتیاں کرتے ہیں کیا وزیراعظم اور ان کی حکومت نے یہ زیادتیاں رکوانے یا ختم کرانے کی کوئی کوشش کی ہے۔ گزشتہ چار ماہ کی کارکردگی اُٹھا کر دیکھ لیں سوائے زیادتیوں کے عوام کو کو کیا ملا ہے۔ ہر جگہ سے یہ ’’عام عوام پارٹی‘‘ دھتکاری جاتی ہے مگر آفرین ہے کہ اُف تک نہیں کر رہی، یہ تو آپ سے  زیادہ سخت جان ہیں کہ آپ نے پھر بھی گِلہ کیا، احتجاج کیا شاید آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ ہمارے حکمران اپنے کارکنوں سے کتنے مخلص ہیں اس لئے آپ اپنی راہیں بھی جُدا کرنے کا سوچ رہے ہیں مگر عوام کیا کریں، کہاں جائیں، کس سے شکایت کریں۔ اگر کچھ کر سکتے ہیں یہ غریب لوگ تو وہ صرف ’’خودکشی‘‘ ہے اس کے باوجود بھی حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، بقول شاعر … ؎
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
سندھ میں ویسے بھی مسلم لیگ کے کارکنوں کی دلجوئی ضروری ہے تاکہ وہ وہاں اپنی جڑیں اور اپنی پارٹی کی بنیادیں مضبوط بنائیں مگر ساتھ ہی وہاں کے عوام کی دلجوئی اس سے بھی زیادہ ضروری ہے تاکہ انہیں تبدیلی کا احساس ہو اور وہ آئندہ ووٹ ڈالتے ہوئے صرف پی پی پی کی ’’تیرِ نظر‘‘ کا شکار نہ ہوں بلکہ شیر سا دل کر کے مسلم لیگ کے شیر پر مہر لگائیں مگر اس کیلئے شرط صرف یہ ہے کہ وہ شیر آٹا، دال چاول، چینی گھی، ٹماٹر پیاز اور سبزیاں کھانے والا نہ ہو۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
وزن کم کرنا ہے تو شاپنگ کریں !
امریکہ میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ خاص طور پر خواتین اپنا وزن کم کرنا چاہتی ہیں انہیں چاہئے کہ وہ اپنی اور گھر کی شاپنگ خود کریں۔ حیرت ہے اس امر پر تحقیق کرنے کی کیا ضرورت تھی انہیں سیدھا سادہ پاکستان آنے کا مشورہ دیا جاتا یہاں آ کر مارکیٹ میں اشیاء کی قیمتیں دیکھ کر خود بخود ان کا وزن کم ہو جاتا، یقین نہ آئے تو خود دیکھ لیں۔ ہمارے ملک میں غریب اور درمیانہ طبقہ اسی لئے تو سلِم و سمارٹ ہے کہ وہ اپنی شاپنگ خود کرتے ہیں، تو پھر چلیں جی اب ہمارے سلمنگ سنٹر والے کسی اور کاروبار کا سوچیںکیونکہ اس تحقیق کے بعد اگر مالدار بیگمات اور صحت مند آسودہ لڑکیاں سلمنگ سنٹر کی بجائے روزانہ شاپنگ کے بازاروں کی طرف نکل پڑیں تو ان سنٹروں کا کیا بنے گا کیونکہ جس تناسب سے ہمارے ہاں گرانی بڑھتی جا رہی ہے اس سے غریب آدمی تو عرصہ ہُوا شاپنگ جیسی عیاشی چھوڑ چکا۔اب اگر یہ آسودہ طبقہ شاپنگ پر نکل آیا تو ہمیں یقین ہے تمام تر آسودگی کے باوجود قیمتیں سُن سُن کر ان کی ساری اضافی چربی خود بخود پگھلنا شروع ہو جائیگی اور ایک ماہ کی شاپنگ سے ہی ان کے ہوش اور وزن معمول پر آ جائیں گے۔ کہتے ہیں غصہ خون جلاتا ہے تو لازماً اس سے ان کا کولیسٹرول بھی کم ہونا شروع ہو گا۔ خون کی نالیوں میں رکاوٹ ختم ہو گی اور ایک ایک چیز کیلئے دس دس دکانوں کے چکر لگانے سے ان کا اضافی وزن بنا کسی خرچے کے خود بخود کم ہونا شروع ہو جائے گا اس طرح وہ سمارٹ اور صحت مند ہو جائیں گی مگر زیادہ عمر اور کمزور دل خواتین و حضرات اس کارِ خیر میں شرکت نہ کریں کیونکہ چیزوں کی قیمتیں معلوم کرنے سے ان کی حرکتِ قلب اور دماغ کی نس شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
مشرف کے وکیل کی طرف سے صحافیوں پر زبانی حملہ اور دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایکسپریس نیوز چینل کے کارکنوں کی ہلاکت سے لگتا ہے کہ اب صحافیوں کیلئے فرائضِ منصبی کی ادائیگی میں مشکلات اور زیادہ بڑھ گئی ہیں اور ہر کوئی انہیں ڈرا دھمکا کر اپنی مرضی پر چلانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر یہی رویہ برقرار رہا تو پھر قلم کی حُرمت کیا رہ جائے گی، سچ کون لکھے گا، حق و صداقت کا پرچم کون بلند کرے گا۔ ادارہ نوائے وقت نے جس طرح کُھل کر ان حملوں کے خلاف ایکسپریس نیوز کا نام لیکر  اور حملہ کرنے والوں کی مذمت کی ہے اس کا یہ اقدام قابل تعریف ہی نہیں قابل تائید بھی ہے۔ اب صحافی برادری اور اخباری مالکان کو اسی طرح بلند حوصلہ ہو کر ’’مقامی اخبار یا چینل‘‘ کی بجائے متاثرہ فریق کا نام لیکر کُھل کر اس کی حمایت کرنی چاہئے تاکہ صحافی برادری کو کمزور سمجھنے والوں کو احساس ہو کہ صحافی برادری ایک ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ ہے کیونکہ دہشت گردی کا نشانہ اگر آج ایک اخبار ہے تو کل دوسرا بھی ہو سکتا ہے۔ رہی بات ذاتی طور پر زبان درازی کرنے والوں کی تو پہلے انہیں اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھنا چاہئے کہ وہ کون سے ’’گنگا نہائے ہوئے ہیں‘‘ اچھے یا بُرے ہر جگہ ہوتے ہیں مگر آپے سے باہر ہونا غلط روش ہے کسی کو حق نہیں کہ وہ دوسرے کو ’’بکائو مال یا غدار‘‘ کہے کیونکہ … ؎
اس جہاں اس نگار خانے میں
کون بِکتا نہیں زمانے میں
بس فرق صرف یہ ہے کہ کوئی اس دنیا کے بازار میں بِکتا ہے اور کوئی اپنے اصولوں پر مر مٹتا ہے اور مر مٹنے والے ہی سچے اور کھرے ہوتے ہیں، اور جو آج زبان چلا رہے ہیں، دورِ آمریت میں جبر کے ماحول میں  جب  لب کھولنے کی جرأت نہیں کرپاتے تو یہی قلم والے ان کی زبان بن جاتے ہیں کیونکہ کوئی ظالم، جابر او رآمر سر جھکا کے لکھنے والے قلم کو سرنگوں نہیں کر سکتا۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭