ہفتہ ‘ 5؍ربیع الاوّل 1431ھ‘ 20 ؍ فروری 2010ء

کلرکوں نے ٹریفک بلاک کرکے گورنر ہائوس تک ریلی نکالی اور مطالبہ کیا کہ تنخواہ میں دو سو فیصد اضافہ کیا جائے۔
کلرکوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بادشاہ ہوتے ہیں مگر یہ کیسے بادشاہ ہیں جو اپنی تنخواہ میں اضافے کیلئے اور مہنگائی کیخلاف ایک طویل عرصے سے سڑکوں پر ایسے ایسے دلدوز مظاہرے کر چکے ہیں کہ جن کی مثال نہیں ملتی۔ خدا جانے ایسا کیوں ہے کہ کلرک اپنے مظاہروں میں جتنے تیز ہوتے جاتے ہیں‘ حکومت انکے مطالبات رد کرنے میں اتنی ہی سخت ہوتی جاتی ہے۔ ایک ادارہ ہے جس کا نام پے اینڈ پنشن کمیٹی ہے‘ یہ ایک زمانے سے انڈوں پر بیٹھی ہوئی ہے‘ مگر کوئی چوزہ برآمد نہیں ہوا۔ مہنگائی کرنیوالے اپنے اختیار سے جب چاہتے ہیں‘ نرخ بڑھا دیتے ہیں مگر ملازمین اپنی تنخواہ نہیں بڑھا سکتے‘ ماسوا اس کے کہ سڑکوں پر نکل کر سینہ کوبی کریں۔ کلرکوں میں بادشاہ بھی ہوتے ہیں‘ جو خراج لئے بغیر کسی کا کام نہیں کرتے‘ وہ نہ تو مظاہروں میں شریک ہوتے ہیں اور نہ کوئی شکایت زبان پر لاتے ہیں۔ اسلئے کہ وہ ایک تنخواہ روزانہ جیب میں ڈال کر گھروں کا رخ کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ ایسے کلرکوں کی کرپشن بند کرائے اور کلرکوں کی اکثریت جو ایک لمبے عرصے سے سڑکوں پر مظاہرے کر رہی ہے‘ انکے مطالبات پر ہمدردانہ غور کرے۔ کلرکوں کی اہمیت و افادیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا‘ اس لئے کہ فائلوں کا پیٹ بھرتے ہیں‘ افسر تو صرف گھگی مارتے ہیں۔ گورنر پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب کلرکوں کی کربلا ختم کریں‘ آپس میں چونچیں نہ لڑائیں اور حکومت پاکستان پے اینڈ پنشن کمیٹی کی رپورٹ کو مزید نہ روکے۔
٭…٭…٭…٭
مصری وزیراعظم نے کہا ہے نقاب خواتین کی شخصیت کو مسخ کردیتا ہے۔ مصر کے وزیراعظم نے در فنطنیچھوڑی ہے کہ نقاب خواتین شخصیت کو مسخ کردیتا ہے ہم کافروں کو روتے تھے کہ وہ نقاب کے کیوں خلاف ہیں اب ایک مسلمان ملک کے وزیراعظم نے بھی کہہ دیا یہ کہ نقاب خواتین کی شخصیت کو مسخ کردیتا ہے اس سے ان کی شخصیت مسخ ہوتی ہے ان کے بیان سے ہے مصر کی یونیورسٹیوں نے بھی یہ بہانہ بنا کر نقاب پر پابندی لگا دی ہے کہ اس طرح کو نقل کرتی ہیں مصری وزیراعظم نے مزید کہا کہ خواتین کا نقاب مسلمانوں کے قدامت پسند ہونے کا تاثر دیتا ہے اگر وہ مسلمان ہوتے تو وہ یہ کہتے کہ نقاب مسلمانوں کے مسلمان ہونے کا تاثر دیتا ہے ایسے ہی موقع پر تو کہتے ہیں چوکفر ازکعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی ‘‘ جب کفر مسلمانوں ہی میں سے بلند ہو تو مسلمانی کہاں باقی رہ جائے گی۔ مصر کے وزیراعظم احمد تاظیف کو اپنے نام میں سے احمد کا لفظ نکال دینا چاہیے کیونکہ اس طرح ان کے اسلام پسند ہونے کا تاثر ملتا ہے مصری وزیراعظم کے اس اسلام دشمن بیان سے ان مغربی ممالک کو خوب شے ملے گی جو پہلے ہی نقاب کے مخالف ہیں۔ مصری وزیراعظم کو اپنی عقل پر سے نقاب اتار کر کلمہ پڑھ لینا چاہیے امریکہ کو خوش کرنے کے لئے مصر پہلے ہی مغرب زدہ ہے اب اُسے مزید کتنا ایک مغربی کلچر کا غلام بنانا ہے۔
٭…٭…٭…٭
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ عافیہ کو پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ سکرینگ لسٹ سے پاکستان کو نکالا جائے شمالی وزیرستان اور کوئٹہ شوریٰ کے خلاف آپریشن کے لئے دباؤ نہیں ڈال سکتے۔
صدر کا عافیہ صدیقی کو پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ پاکستانی عوام کے دل کی آواز ہے کیونکہ عافیہ صدیقی پاکستان کی بیٹی ہے جبکہ رچرڈ بال بروک نے کہا کہ محکمہ انصاف کی درخواست پر اوباما ہی عافیہ کو معاف کرسکتے ہیں صدر کا یہ کہنا سوفیصد درست ہے کہ پاکستان کو شرمناک سکریننگ لسٹ سے نکالا جائے اس کے ساتھ ہی انہیں چاہیے کہ وہ باقی اسلامی ممالک کو بھی اس مطالبے میں شامل کریں اور اس سلسلے میں ان سے رابطہ کریں، یہ بڑی افسوس ناک بات ہے کہ تمام اسلامی ممالک کے حکمرانوں نے ہمیشہ امریکہ کی تائید واطاعت کی مگر امریکہ نے ہمیشہ اسلامی ممالک کا دل دکھایا اور ان کے ساتھ ہتک آمیز سلوک روا رکھا سکریننگ کا مسئلہ تو زیادہ تر حکمرانوں کا ہے کیونکہ وہی امریکہ آتے جاتے رہتے ہیں اور انہیں ہی ہر بار کپڑے اتارنے پڑتے ہیں خدا جانے کب اسلامی اور امریکہ کی باجگزاری سے باہر نکلے گی صدر کا یہ بیان بھی جرأت مندانہ ہے کہ انہوں نے امریکہ سے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ شمالی وزیرستان اور کوئٹہ شوریٰ کے خلاف آپریشن نہیں کرسکتے صدر کا عافیہ کے بارے میں امریکہ سے مطالبہ قابل ستائش ہے۔
٭…٭…٭…٭
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے مسئلہ کشمیر پر بات کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔
قریشی صاحب اب کچھ کچھ کشمیر کی طرف متوجہ ہونے لگے ہیں یہ بڑی مبارک بات ہے شاید انہیں اب اس بات کی سمجھ آگئی ہے کہ پاکستان بھارت تعلقات ودیگر تنازعات کے حل کا دارومدار مسئلہ کشمیر کے حل پر ہے بھارت کی یہ کوشش ہوگی کہ وہ مذاکرات کے ذریعے کوئی نیا ہتھکنڈا سامنے لائے اور گونگلوؤں پر سے مٹی جھاڑ کر مذاکرات کو حسب معمول مذاق رات بنائے رکھے لیکن قریشی صاحب کو چاہیے کہ وہ بھارتی مکاریوں عیاریوں کے بارے میں پہلے سے تیاری کررکھیں اور مذاکرات کو با مقصد بنانے کی کوشش کریں کیونکہ مسئلہ کشمیر پر بات آگے بڑھنے ہی میں پاکستان بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری آسکتی ہے لیکن پیش رفت حتمی حل کی طرف ہونی چاہیے فقط کشمیر پر خالی خولی بات چیت سے احتراز کرنا چاہیے اور پاکستان کا لہجہ مذاکرات کی میز پر ایسا ہونا چاہیے جو بھارتی نیتاؤں کو باور کرادے کہ پاکستان کشمیر کے سلسلے میں کوئی بھی انتہائی اقدام اٹھا سکتا ہے کشمیر کی آزادی ہماراحق ہے اور اس پر ہماری زندگی کا دارومدار ہے اور ہم اپنے حق کے دفاع کو جہاد کہتے ہیں جس کے کئے پاکستانی قوم ہر وقت تیار ہے۔