جمعرات ‘ 12 ذیقعد 1434ھ ‘ 19ستمبر2013 ئ

 حکومت نے پاسپورٹ کی مدت 5 سے10 سال کرنے کا اعلان کر دیا !
چلئے اس بہانے کوئی ایسا کام تو اس حکومت نے کیا جسے ہم اچھا کہہ سکتے ہیں ورنہ یہاں تو سارا نظام ہی الٹا ہے بقول شاعر ....
 وحشت میں ہر اک نقشہ الٹا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے
 ویسے بھی ہمارا یہ سبز پاسپورٹ جو کبھی ہمارے لئے بیرون ملک اعزاز اور احترام کا باعث ہوتا تھا۔ غیر ملکی اسکی عزت کرتے تھے۔ اب صرف ایک چند ورقی سبز کتاب بن کر رہ گیا ہے۔ اس پر چھپی ہر تصویر دیارِ غیر میں مشکوک سمجھی جاتی ہے۔ ویزے کے حصول سے لیکر غیر ممالک میں داخلے تک جو تذلیل ہم پاکستانیوں کی ہوتی ہے اس کے تصور سے ہی انسان کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ کی حیثیت ہی مشکوک ہو چکی ہے کیونکہ ہمارے کرپٹ نظام کی وجہ سے ہر ایرا غیرا نتھو خیرا، افغانی، افریقی، برمی، ہندوستانی، ازبک، تاجک ، جو چاہے چند ہزار روپے میں یہ مقدس کتابچہ حاصل کر سکتا ہے اور باہر جا کر جو چاہے کرے اور خوب دل کھول کر پاکستان اور پاکستانیوں کی بدنامی کا باعث بنے ہمارے کرپٹ نظام کے کرتا دھرتاﺅں کو اس کی کوئی فکر نہیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
کوئٹہ آتش فشاں بن چکا ہے کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔چیف جسٹس !
عزت مآب چیف جسٹس چودھری افتخار محمد آج بھی کوئٹہ میں ہیں اور وہاں کے حالات و واقعات کا مشاہدہ کر کے ہی انہوں نے ایسا بیان جاری کیا ہے معدنی دولت سے مالا مال یہ صوبہ دشمنوں اور حاسدوں کی ریشہ دوانیوں کے باعث عرصہ سے جوالا مکھی بنا ہوا ہے۔ کون سی ایسی مصیبت ہے جو یہاں موجود نہیں۔ قتل، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، فرقہ وارانہ، قتل، لسانی و نسلی تعصب یہ سب ایسی بارودی سرنگیں ہیں جو قدم قدم پر یہاں نصب ہیں....
 مقید کردیا یہ کہہ کے سانپوں کو سپیروں نے
یہ انسانوں کو انسانوں سے ڈسوانے کا موسم ہے
 ہم خود اپنے ہاتھوں امن، خوشحالی اور ترقی کا گلا کاٹ رہے ہیں اور قدم بہ قدم زوال کی طرف جا رہے ہیں مگر خوش ہیں جشن منا رہے ہیں۔ تخریب کو اپنی تعمیر تصور کرتے ہیں۔ خدارا چیف جسٹس کی باتوں پر توجہ دی جائے۔ لاپتہ افراد خواہ ایجنسیوں والوں کی تحویل میں ہوں، سیاسی جماعتوں کے یا دہشت گردوں کے۔ ان کی برآمدگی یقینی بنائی جائے۔ امن و امان کی حالت پر پوری قوم کو اعتماد میں لیا جائے جس صوبے میں پولیس خود محفوظ نہیں وہاں کے عوام کا تو خدا ہی حافظ ہو گا۔ یہ بے چارے کہاں جائیں۔ مہنگائی، غربت، بیروزگاری پہلے ہی ان کو ادھ موا کرچکی ہے۔ یہ تو ان کی ہمت ہے کہ سب کچھ برداشت کر رہے ہیں اور پھٹ نہیں پڑتے حکمران خدا کا خوف کریں جس دن یہ پھٹ پڑے تو لوگ 1935ءکا زلزلہ بھول جائیں گے انہیں اس حالت پر نہ پہنچایاجائے کہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں کہ....
 زندگی جا چھوڑ دے پیچھا میرا
آخر میں انسان ہوں پتھرتو نہیں
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں جرائم پیشہ اور تخریب کار عناصر کا قیام بذات خود ایک المیہ ہے۔ حفاظتی عملے خفیہ اداروں اور سکیورٹی کے باوجود یہ ناپسندیدہ عناصر کس طرح اسلحہ سمیت یہاں داخل ہوتے ہیں اور آرام سے رہتے ہیں اس کا سراغ لگا کر اس میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانا ہو گا۔
کیا وقت تھا جب تعلیمی ادارے اور ان کی اقامت گاہیں ، صاحبان علم و فضل کا مرکز ہوتی تھیں۔ جامعہ پنجاب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں پورے ہندوستان سے نابغہ¿ روزگار لوگ جمع ہوتے تھے۔ باکمال لوگ ان ہاسٹلز میں قیام کرتے تھے۔ آج ان کی روحوںکو یہ دیکھ کر کس قدر تکلیف ہوگی کہ اب یہاں طالب علموں کی بجائے تخریب کار آ کر قیام کرتے ہیں۔
پہلے طالب علم کتاب اور قلم سے رشتہ استوار کرتے تھے اب ان عقل کے اندھوں کو نجانے کیوں بندوق اور گولی سے پیار ہوگیا ہے۔ اور تو اورسیاسی جماعتوں کی پروردہ یہ طلبہ تنظیمیں بھی اب اسلحہ بردار بن گئی ہیں پہلے ہاسٹلز پر قبضہ کی جنگ ہوتی ہے پھر مفتوحہ ہاسٹلز میں اسلحہ فراہم کرنے والے غیر قانونی تخریب کار گھس بیٹھتے ہیں۔ اس طرح ایک مافیا وجود میں آتا ہے جو ان ہاسٹلوں کا تقدس برباد کرتا ہے۔ کون سا نشہ کون سا اسلحہ ان ہاسٹلوں میں دستیاب نہیں۔
اسلام آباد اسلامک یونیورسٹی، انجینئرنگ یونیورسٹی اور جامعہ پنجاب کے ہاسٹلز کی صورتحال سے ہی پورے ملک کے ہاسٹلز میں حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو اب ڈاکوﺅں اور دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بن چکے ہیں۔ اگر یہاں ہاتھ ڈالا گیا تو خطرہ ہے کہ کہیں یہ چاند ماری کا میدان نہ بن جائیں۔ ابھی تو جامعہ بلوچستان اور جامعہ کراچی، پشاور یونیورسٹی کا ذکر ہی نہیں آیا جہاں پورے باڑے اور کسی فوجی چھاﺅنی سے زیادہ اسلحہ ہی نہیں راکٹ لانچر،اینٹی ٹینک شکن اور طیارہ شکن گنوں سمیت نجانے اور کون کون سے خطرناک ہتھیار طالب علموں کے روپ میں بدقماش عناصر نے سجا رکھے ہوئے ہیں۔طالب علموں کیلئے تو یونیونیورسٹی ہاسٹل کی لائف ایک ایسا حسین اور خوشگوار تجربہ ہوتی ہے جسے وہ کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔دلنواز دوستوںکی محفلیں محبت کرنے والوں کی باتیں ان کی یادیں بے فکری کی راتیں یہ سب سوغاتیںاسی دور کی ہوتی ہیں جو عمر بھر یاد رہتی ہیں....
شرح فراق مدح لب مشکبو کریں
غربت کدے میں کس سے تیری گفتگو کریں
٭۔٭۔٭۔٭۔٭