جمعة المبارک ‘ 2 ذی الحج 1433ھ 19 اکتوبر2012 ئ

جمعة المبارک ‘ 2 ذی الحج 1433ھ 19 اکتوبر2012 ئ

600 بڑے بھارتی کاروباری گروپس پاکستان میں بزنس کو تیار۔ امانی‘ ٹاٹا‘ برلا‘ متل گروپ کے علاوہ 10 بڑے بنک‘ بنکنگ شروع کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ہمیچدانوں‘ نادانوں حکمرانوں نے کشمیر دے کر کشمیر کا مسئلہ حل کرلیا ہے اور اب اسی لئے بھارتی تجارتی طبقوں کی یلغار ہونےوالی ہے۔ بھارت نے کئی طرح کے یلغار پاکستان کیخلاف تیار کر رکھے ہیں‘ عریانی و فحاشی کی یلغار میں اتنا زور ہے کہ کشمیر بھی بھلا دیا اور پاکستان کو بھارتی مصنوعات بیچنے کی منڈی بھی بنا دیا۔ گویا بھارت تو ٹانگوں سر سمیت کڑاہی میں‘ اب اس کڑاہی کے نیچے کوئی محب وطن قیادت آئے اور خوب آگ جلائے تاکہ روسٹڈ بنیئے کھانے کو ملیں۔ یہ کاروبار بھی اچھا رہے گا اور جواب آں غزل بھی۔
 لگتا ہے حکمران بغیر شہ رگ کے زندہ ہیں‘ انکی تو قربانی بھی جائز نہیں۔ ڈینگی سے ڈرتے تھے کہ بھارتی مچھروں کو بھی دعوت دیدی گئی۔ ہمارے بنک بھی اپنی خیر منائیں کہ انکی آل اولاد بھی قربان ہونےوالی ہے اور یہاں کی بڑی بڑی تجارتی کمپنیاں بھی صفِ ماتم بچھالیں کہ شامِ غریباں برپا ہونے کو ہے۔
 یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے‘ پاکستان کوبھارت کا بازوئے نفع بخش بنایا جا رہا ہے کیونکہ بازوﺅے شمشیر زن جس نے کشمیر فتح کرنا تھا‘ وہ پہلے ہی کاٹ دیا گیا۔ بھارت کا کیا قصور وہ دشمن ہے‘ دشمنی کریگا‘ سچ کہا تھا حافظ شیراز نے....
من از بیگانگاں ہرگز نہ نالم
کہ بامن ہر چہ کرد آں آشنا کرد
(مجھے بیگانوں سے کوئی گلہ نہیں کہ میری بربادی کا سارا سامان اپنوں نے کیا)
٭....٭....٭....٭
پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے‘ ہاتھیوں پر ہاتھ ڈالا جائے تو گیدڑ بھی ڈریں گے‘ چوروں نے ملک تباہ کر دیا۔
اب یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ چوروں کو پڑ چور البتہ پرانا محاورہ ہی دہراتے ہیں کہ چوروں کو پڑ گئے مور۔ شاہ صاحب نے فرمایا ہاتھیوں پر ہاتھ ڈالا جائے تو گیدڑ بھی ڈریں گے‘ ہمارا مشورہ ہے کہ ہاتھیوں پر ہاتھ نہیں ہاتھی ڈالیں‘ گیدڑ تو ویسے بھی پس خورہ کھاتے ہیں۔ جب کوئی ہاتھی نہیں کھائے گا‘ تو گیدڑوں کا دامن خود ہی خالی رہ جائیگا۔
خورشید مثل خورشید ابھرے ہیں کہ اپنی پارٹی کے اندھیرے دور کرنے لگے۔ شاید چالیس چوروں کے پیچھے علی بابا پڑ گئے ہیں‘ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں اور بیان بھی کرتے ہیں کہ علی بابا چالیس چور‘ یعنی وہ علی بابا جس نے چالیس چوروں کو ختم کرکے دم لیا تھا‘ اسے غلطی سے چالیس چوروں کا سردار سمجھ لیا‘ اس غلط فہمی کا ہمارے خادم اعلیٰ سب سے بڑھ کر شکار ہیں اور وہ زرداری کو علی بابا اور انکے تمام لواحقین حکومت کو چالیس چور سمجھتے ہیں۔ بہرحال انکی نیت اور دعوے کے سچ ہونے میں کوئی شک نہیں۔
 اب دیکھتے ہیں خصوصی کمیٹی کے چیئرمین کیسے ہاتھیوں کی سونڈ سے بچتے بچاتے ان پر سواری فرماتے ہیں لیکن وہ احتیاط سے کام لیں کہ ان ہاتھیوں میں کچھ ہتھنیاں بھی ہیں۔ یہ نہ ہو کہ عزت سادات جاتی رہے۔
گیدڑ سے مراد جو ہیں‘ وہ خود ہی سمجھ گئے ہوں اور گیدڑ ہمیشہ شیروں‘ ہاتھیوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں کہ شاید وہ کھا پی کر چھوڑ گئے تو اس لئے آغاز ہاتھیوں سے کیا جائے‘ گیدڑ خود ہی راہ راست آجائینگے۔ پیپلز پارٹی کے آخری ایام میں یہ پہلے مصلح ہیں جو اچانک پردہ رفت پر نمودار ہوئے ہیں۔ اگر شاہ جی کو روز اول ہی سے یہ نیک خیال آجاتا تو آج یہ ملک بدحال نہ ہوتا۔
٭....٭....٭....٭
زرداری نے منظور وٹو کو پیپلز پارٹی سنٹرل پنجاب کا صدر مقرر کر دیا۔
لوگ عقیدہ بدل لیتے ہیں‘ پھر انکے بال بچے بھی انکے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ لیکن حالات و واقعات اور ذاتی اعتراض کی خاطر سچے عقیدے پر قائم رہنے کا ڈھونگ رچاتے ہیں لیکن سیاسی دیندار سے زرداری کو کیا غرض‘ وہ تو بس ایک نئی پیپلز پارٹی کی تعمیر میں جُتے ہوئے ہیں کیونکہ اب ان کو بھی ذوالفقار علی بھٹو کا روپ دھارنا ہے۔ بلاول کیلئے بھی یہ بات مناسب رہے گی کہ وہ جب اقتدار میں کبھی آگئے تو اس پارٹی کا نام آصف زرداری لٹو پارٹی رکھ دیں کیونکہ وہ تو نسلًا زرداری ہیں‘ بھٹو نہیں۔ اس طرح بھٹو کی روح کا استحصال ختم ہو گا اور انکی روح کو بھی چین نصیب ہو گا۔ منظور وٹو کے سیاسی جثے پر اگرچہ کئی پارٹیوں کے ٹھپے لگے ہوئے ہیں‘ تو کیا ہوا‘ ایک ٹھپہ اور سہی۔
بہرحال ”سانوں کیہہ!“ منظور وٹو کبھی مسلم لیگ جونیجو اور پھر مسلم لیگ لیگ ق کے ماتھے کا جھومر تھے‘ اب سونا مہنگا ہو گیا ہے‘ صاحبِ زر نے زیادہ بڑی قیمت میں خرید لیا۔ چلو ڈوبتے کی لنگوٹی ہی سہی‘ کیونکہ پیپلز پارٹی کا مستقبل اتنا روشن ہے کہ ابھی سے تاریکی چھا گئی ہے۔ منظور وٹو صاحب کا شجرہ نسب دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے....ع
خود بدلتے نہیں سیاسی عقیدہ بدل لیتے ہیں
اور اس بات میں پنجاب کے باشندوں کیلئے کئی نشانیاں ہیں ۔ دیکھیں اب چودھری برادران کیا کرتے ہیں جو زرداری صاحب کے ساتھ سیٹوں کا سودا کر رہے ہیں۔ میاں برادران کو پنجاب سے نکالنے کیلئے۔
٭....٭....٭....٭