منگل ‘ 14 ؍محرم الحرام ‘ 1435ھ ‘ 19؍ نومبر2013ء

سیالکوٹ میں غربت سے تنگ محنت کش نے اپنی بیوی اور بیٹی 25 ہزار میں فروخت کر دی!
یہ کونسی قیامت ہے جو مسلسل ہم پر عذاب بن کر مسلط ہو چکی ہے۔ مائیں اپنے لختِ جگر، باپ اپنی بیٹیاں، شوہر اپنی بیویاں تک فروخت کر رہے ہیں۔ خرید و فروخت کی یہ کونسی منڈی لگی ہوئی ہے کہ رشتوں اور جذبوں کی محبت و خلوص کی کوئی قیمت نہیں رہی، ہر چیز متاع فروخت بن گئی ہے گویا ہر انسان برائے فروخت ہے اور اس بازار میں … ؎
ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح
اُٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح
انسانوں کی خریداری نے انسانیت کو شرمسار کر کے رکھ دیا ہے کہیں سے کوئی صدا نہیں آتی کہ خدارا یہ خرید و فروخت بند کی جائے۔ کہنے کو تو پوری حکومت اور حکومتی مشینری بلامبالغہ ہزاروں این جی اوز اور صوبائی حکومتیں غربت مکائو پروگراموں پر اربوں روپے لُٹا رہی ہیں مگر یہ اربوں روپے کہاں جا رہے ہیں، صرف چند افراد کی جیبوں میں یا ان کے حواریوں کی جیبوں میں جو ان حکومتوں اور این جی اوز کے کرتا دھرتائوں کے ساتھ ہیں۔
 ملک میں کروڑوں افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں، لاکھوں گھروں میں کھانے کیلئے غم اور پینے کیلئے آنسو ہیں مگر بھوک کہاں برداشت ہوتی ہے۔ یہی بھوک جب ناقابلِ برداشت ہو جائے تو پھر ایسے ہی خرید و فروخت کے مناظر ہمارے سامنے آ کر ہماری تہذیب، شرافت اور ترقی کے ساتھ ساتھ ہماری انسانیت کے ہی نہیں ہمارے منہ پر بھی زناٹے دار تھپڑ رسید کر دیتے ہیں … ع
دنیا ہے تیری منتظر اے روزِ مکافات
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
سوات میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کا پولیو کیخلاف مہم میں حصہ لینے سے انکار !
خیبر پی کے میں پولیو کے خلاف بچوں کو قطرے پلانے کی مہم میں پے در پے شرپسندوں کی مداخلت اور کئی پولیو ٹیم ممبران کی اندوہناک ہلاکتوں کے باوجود جو محکمہ صحت کے کارکن یہ نیک کام سرانجام دے رہے ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔
 اس بار تحریک انصاف کی نئی عوامی منتخب حکومت کی وجہ سے لوگوں کو امید تھی کہ اب بچوں کو اس خوفناک بیماری سے بچانے کیلئے صوبائی انتظامیہ مزید تندہی کے ساتھ سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ بچوں کو قطرے پلانے والی ٹیمیں ایسے علاقوں میں بھیجے گی جہاں شرپسندی کا خطرہ ہے مگر خاک میں مل گئیں یہ سب تدبیریں اور دھمکیوں سے خوفزدہ ہو کر خواتین ہیلتھ ورکروں نے سوات جیسے علاقے میں بھی جہاں خدا خدا کر کے امن بحال ہوا ہے، رونقیں لوٹ آئی ہیں ڈیوٹی انجام دینے سے انکار کر دیا ہے تو باقی دور دراز علاقوں کا تو خدا ہی حافظ ہے۔
پولیو کی وجہ سے ہماری عالمی سطح پر جو بدنامی ہو رہی ہے اس کا ذکر کر کے ہم لوگوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔
 پہلے ہم پر الزام تھا کہ ہم جہادی لوگوں کو دنیا بھر میں بھیج رہے ہیں۔ اب ہم پولیو کا مرض اور پولیو وائرس دوسرے ملکوں میں پھیلانے کے مرتکب قرار دئیے جا رہے ہیں اور عالمی ادارہ صحت نے بھی ہمیں خبردار کیا ہے مگر ہم ہیں کہ ابھی تک ’’مرغے کی ایک ٹانگ‘‘ والی کیفیت سے باہر نکلنے کو تیار نہیں اور اسی جاہلانہ رویے کی وجہ سے بہت جلد دنیا بھر میں پاکستانیوں کا دوسرے ممالک میں داخلہ بند ہو جائے گا شاید پھر ہماری آنکھیں کھلیں گی مگر اس وقت تک بہت دیر ہو جائے گی اور ہاں بیرونی ممالک میں محنت مزدوری کیلئے جانے والوں میں بڑی تعداد انہی علاقوں کے لوگوں کی ہے جہاں قطرے پلانے سے روکا جا رہا ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
موجودہ صورتحال میں نواز شریف واپس آئیں : بلاول زرداری !
اس صائب مشورے سے تو کوئی کم بخت ہی انکار کرے گا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس بار لگ رہا ہے میاں نواز شریف نے سابق وزیراعظم اور بلاول زرداری کے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ملکی حالات پر کم اور بین الاقوامی حالات پر زیادہ توجہ دینے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ عالمی سطح پر بھٹو صاحب کی پہچان بن گئی تھی مگر ملکی سطح پر حالات ان کے کنٹرول سے نکل گئے ہیں جس کا فائدہ اپوزیشن جماعتوں نے خوب اٹھایا ۔
اب خدا نہ کرے یہی حال نواز شریف کے ساتھ بھی ہو اور اپوزیشن والے فائدہ اٹھا کر ان کو تنگ کرنا شروع کر دیں۔ پہلے مرحلے میں ’’وزیراعظم واپس آئو‘‘ تحریک کا آغاز ہو اور اس کے بعد ’’وزیراعظم نیا الیکشن کرائو‘‘ جیسے جمہوریت دشمن نعرے نہ لگنے شروع ہو جائیں۔ اس لئے بہتر ہے کہ وزیراعظم نواز شریف عالمی دوروں کی شدت میں کمی لا کر ملک میں رہنے کی مدت طویل کریں۔
اس وقت جس طرح ملک میں اقتصادی سیاسی اور سماجی بحرانوں کے پے در پے جھٹکے لگ رہے ہیں اگر خدانخواستہ اس کے اثرات اسلام آباد تک پہنچنا شروع ہو گئے تو پھر ایوان صدر سے لیکر وزیراعظم ہائوس اور پارلیمنٹ تک کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ اس وقت یہ جو اناج کا بحران پیدا ہوا ہے یہ سب بحرانوں کی ماں ہے کیونکہ اس کا تعلق پیٹ سے ہے جو سب کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ اسی ’’دانہ گندم‘‘ کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے نکلنا پڑا، اسلام آباد تو کوئی بڑی چیز نہیں، اس لئے وزیراعظم صاحب واپس آئیں‘ ہم ایک بار پھر کہتے ہیں کہ آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔