جمعرات ‘ 29؍ ربیع الثانی‘ 1436ھ‘ 19 ؍ فروری 2015ء

جمعرات ‘ 29؍ ربیع الثانی‘ 1436ھ‘ 19  ؍ فروری 2015ء

کابل میں امریکی سفارتخانہ کی پھرتیاں، کرکٹ میچ ختم ہونے سے قبل بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کو جیت کی مبارکباد دے دی!
یہ تو ویسی ہی مبارکباد ہے جیسی امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان سے جاتے وقت اپنی فتح کے حوالے سے دنیا کو دیتے نظر آتے ہیں۔ اب کوئی ان سے بھلا پوچھ سکتا ہے کہ حضرت آپ آئے بھی اپنی مرضی سے تھے جا بھی اپنی مرضی سے رہے ہیں، حالات افغانستان کے اب بھی ویسے ہی ہیں جیسے پہلے تھے تو کون جیتا کون ہارا۔ چلیں اس بحث کو چھوڑیں اصل بات تو یہ ہے کہ امریکی  سفارتخانہ کے اس قبل از وقت بیان پر افغان حکومت بھڑک اٹھی اور وضاحت طلب کی کہ بھائی تم رہتے ہمارے ملک میں ہو اور جیت کی خبر دوسرے ملک کی دے کر پہلے سے ہی انہیں مبارکباد دے رہے ہو۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کابل میں تعینات ہیں ڈھاکہ میں نہیں۔
اس لئے کہتے ہیں کہ جلد بازی شیطان کا کام ہے اور شومئی قسمت سے یہ کام امریکہ عرصہ دراز سے کرتا چلا آ رہا ہے اور اس کے نتائج بھی اسے ہی بھگتنا پڑتے ہیں۔ یوں کبھی کبھار تو اچھی بھلی نیکی بھی گلے پڑ کر ’’نیکی برباد  گناہ لازم‘‘ والی بات بن جاتی ہے اور دنیا بھر سے کوسنے الگ سُننے کو ملتے ہیں۔ اب ہار جیت تو مقدر کی بات کہی جا سکتی ہے مگر قبل از وقت مبارک دینا یا افسوس کرنا تو حماقت ہی کہلائے گی جس پر امریکی سفارتخانے نے افغانیوں کا دل دُکھانے پر  فراخدلی سے معذرت کر کے معاملہ خوش اسلوبی سے طے کر دیا۔
٭…٭…٭…٭…٭
گلگت بلتستان کے نئے گورنر پر تنازعہ، مستعفی نہیں ہوا اب بھی گورنر ہوں : پیر کرم شاہ!
ہمارے حکمرانوں کو بھی گائوں کے بااثر چودھریوں کی طرح نت نئے پھڈے پالنے کا شوق ہے۔ ایک تنازعہ سے جان چھوٹتی ہے تو وہ کسی اور جھاڑی میں سینگ پھنسا لیتے ہیں۔ اس وقت ملک کے حالات جس نہج پر جا رہے ہیں، امن و امان کی حالت دہشت گردی کی وجہ سے ابتر ہے۔ سیاسی میدان میں بھی سب کچھ اچھا نہیں پھر بھی ایک ایسے صوبے میں جو ابھی نومولود ہے اور وہاں سیاسی و فرقہ وارانہ صورتحال بھی موافق نہیں، ذرا سی چنگاری آگ بھڑکا سکتی ہے تو ایسے صوبے میں معاملات افہام و تفہیم سے چلانے کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے مگر کیا مجال ہے جو ہمارے حکمرانوں کو آرام اور چین سے بیٹھنے کی عادت ہو۔ شاید وہ یہ سب کچھ اپنے ایڈونچر ازم کو تسکین پہنچانے کے لئے کرتے ہیں یا پھر ان کے طالع آزما بٹیرے لڑانے کے شوقین وزراء اور مشیران انہیں اس راہ پر لگا دیتے ہیں۔ اب یہ کوئی مغلیہ دور تو ہے نہیں کہ بادشاہ سلامت لائو لشکر لے کر بغاوت کی سرکوبی کے لئے نکل پڑیں۔
اب تو یہ حالت ہے کہ بادشاہوں کو خود اپنی جانوں کے لالے پڑے ہوتے ہیں۔ ان حالات میں گلگت بلتستان کے موجودہ گورنر پیر کرم شاہ کا یہ ارشاد کہ ’’نہ تو انہیں حکومت نے نئے گورنر کی تقرری کا بتایا ہے نہ انہوں نے استعفیٰ دیا ہے اس لئے ابھی تک آئینی گورنر وہی ہیں‘‘ گلگت بلتستان میں نئے ہنگامہ خیز حالات کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ صوبے میں مظاہرے ہو رہے ہیں کہ اگر گورنر بدلنا ہی تھا تو مقامی افراد کا کیا کال پڑ گیا تھا کہ غیر مقامی گورنر لا کر سر پر بٹھایا جا رہا ہے۔ اب بقول غالب ’’دیکھیں کیاگزرے ہے قطرے پہ گُہر ہونے تک‘‘ برجیس طاہر کس طرح پیر کرم شاہ کے خلاف یہ میچ جیتتے ہیں۔ حکمرانوں سے یہی کہنا ہے کہ وہ یہاں بھی آزاد کشمیر کی طرح بودی پالیسیاں نہ اپنائیں۔ حیرت ہے جو حکمران اپنے قلعہ لاہور میں آزاد کشمیر اسمبلی کی ویلی کی نشست پر 3 برس سے الیکشن نہ کرا سکے وہ گلگت بلتستان میں میچ کس طرح جیت پائیں گے۔
٭…٭…٭…٭…٭
پاکستان میں چار کروڑ افراد کو بیت الخلا کی سہولت میسر نہیں : رپورٹ!
اور باقی جو 12 کروڑ افراد کو یہ سہولت میسر ہے وہ اس سے درست طریقے سے استفادہ نہیں کر رہے۔ ذرا کسی سرکاری پبلک مقام پر بنے یا دفاتر اور ہسپتالوں میں بنے بیت الخلا ئوں کی حالت زار دیکھی جائے تو دن میں تارے نظر آنے لگتے ہیں۔ آج تک ہمارے ہاں بیت الخلا کے استعمال اور اسے صاف کرنے کا شعور پیدا نہیں کیا جا سکا حالانکہ ہمارا ایمان ہی ’’صفائی نصف ایمان‘‘ ہے اور ہم اس نصف ایمان کو بھی ضائع کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ رہی بات باقی حصے کی تو ہم کچھ کہہ نہیں سکتے کہ ہمارے پاس ہے بھی یا نہیں۔
صفائی سے تو ہم ویسے ہی الرجک ہیں ورنہ گھر کی صفائی کے بعد جمع ہونے والا کوڑا اٹھا کر ہم یوں دروازے کے باہر گلی میں نہ بکھیرتے ، کھا پی کر لفافے، شاپنگ بیگز اور باکس یونہی پارکوں اور سڑکوں پر نہ پھینکتے جو بعد میں ادھر ادھر اڑتے ہوئے ہمارے صفائی پسند ہونے کا پول کھولتے پھرتے ہیں۔ اس کے باجود مقام شکر ہے کہ بیت الخلائوں کی تعمیر کی حد تک ہمارا ریکارڈ برا نہیں ورنہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں تو حالت اس حد تک ابتر ہے کہ وہاں حکومتی سطح پر بیت الخلا تعمیر کرنے کی مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ جیسے پہلے ہمارے ہاں سسٹم تھا کہ محلوں یا دیہات میں ایک بیت الخلا ہوتا تھا جہاں لائن لگتی تھی اسی طرح یہ بھارت میں بھی ٹکٹ کٹائو لائن لگائو طرز پر وہاں کے لوگوں کو بیت الخلا کے استعمال کی عادت ڈالی جائے جو جانوروں کی طرح سرعام بول و براز کرتے ذرہ بھر بھی نہیں شرماتے۔
ہم ان کی نسبت سے تو صفائی پسند ہونے کے زیادہ دعویدار ہیں تو ہمیں چاہئے کہ کم از کم ہم سڑکوں کے کنارے سرعام ماحول کو آلودہ کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کریں اور پبلک مقامات پر سرکاری ٹائلٹس کا استعمال مفت کر دیں۔ ہمارے حکمران بھی پسماندہ علاقوں اور سرکاری سکولوں میں بیت الخلا کی صفائی و تعمیر کا خصوصی بندوبست کر کے باقی 4 کروڑ افراد کو بھی اس کے استعمال کی طرف راغب کریں۔
٭…٭…٭…٭…٭