جمعة المبارک ‘ 8 جمادی الثانی 1434ھ ‘ 19 اپریل2013 ئ

 پی پی 148 :مسلم لیگ(ن) کا ٹکٹ اختر رسول کو ملنے پر لوگ حیران ،کمبوہ برادری کا جشن ٹکٹیں ملنے پر کہیں خوشیوں کے شادیانے بج رہے ہیں تو کہیں ماتم کی مجلسیں برپا ہیں۔حافظ میاں نعمان سابق ایم پی اے اور حافظ اسعد عبید نائب صدر مسلم لیگ(ن) لاہور بھی ٹکٹ کی دوڑ میں شامل تھے لیکن اختر رسول ان پر بازی لے گئے۔جناب بازی تو لینی تھی کیونکہ میاں نواز شریف کے ساتھ سپریم کورٹ حملے میں جوش و خروش سے شامل بھی ہوئے اور پھر وقت آنے پر لوٹا بننے میں بھی وہ بازی لے گئے۔ یعنی مشرف آمریت میں (ق) لیگ کی چھتری تلے پناہ لے لی اور پھر بعد میں آکر وہ آگے نکل گئے ہیں۔ واہ میاں صاحب واہ !آمریت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بننے والے کارکنوں کے ساتھ ایسا ہی کیا جا تا ہے۔ اختر رسول نواز شریف کے گلے لگ کر روئے تو ایسے تھے کہ ہر دیکھنے والی آنکھ بھی نم ہو گئی۔بس رو روکر میاں صاحب کو منا لیا۔ میاں صاحب اگر لوٹوں کو ہی ٹکٹ دینا صاف شفاف عمل ہے تو پھر ہمایوں اختر اور کشمالہ طارق کا کیا قصور تھا؟ انہیں میٹرو بس کا ٹکٹ تھما کر گھر کیوں بھیج دیا؟اختر رسول کی قسمت کا ستارہ پھر ایک دفعہ جگمگا اٹھا ہے۔ ایک زمانہ تھا اختر رسول کی کیفیت یوں ہوتی تھی.... روز جیتا ہوں روز مرتا ہوں جب” ترے شہر“ سے گزرتا ہوں پھر میاں نواز شریف نے پرانی یادیں سامنے رکھ کر اختر رسول کو گلے لگایا اور دونوں یار خوب دل بھر کر روئے اور رونے کے بعد ٹکٹ بھی مل گیا۔ ان کا رونا کام آگیا ہے ورنہ تو بڑے بڑوں کا رونا رائیگاں جاتا ہے۔٭....٭....٭....٭ سائیکل پاکستان کی ترقی اور منزل کا نشان ہے عام آدمی کی خدمت کی:پرویز الٰہی سائیکل پر بیٹھ کر گجرات بھی بروقت نہیں پہنچاجاسکتا،چوہدری صاحب آپ سائیکل پر کوئی برقی آلات نصب کریں تاکہ جلد از جلد منزل پر پہنچاجاسکے ، ذراتیر سے بچ کر سائیکل چلانا کیونکہ تیر لگنے سے سائیکل پنکچر بھی ہوسکتی ہے، اب چوہدری شجاعت حسین کو (ق) لیگ کا ترانہ ریکارڈ کرواناچاہئے....ع آجانی بہہ جا سائیکل تے او رکچھ ہویا نہ ہو ”خوبصورت“ آواز میں اس دل موہ لینے والے گانے کو سُن کر عوام اپنا دل ”پشوری“ تو ضرور کرلیں گے اور سائیکل پیچھے بھاگنے کی بجائے آگے دوڑے گا۔ ویسے سائیکل کے تار ٹوٹ کر اگر شیر کے حلق میں پھنس گئے تو یہ عمل جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے،شیر بھی جان نکال سکتا ہے جبکہ بلا بھی اگر لگ جائے تو سر پھوڑ سکتا ہے۔ ڈاکٹر اے کیو خان میزائل لیکر نکلے ہیں جو پورے ملک کو ہلاکر رکھ سکتا ہے اے این پی کی لالٹین میں سے اگر تیل گر گیا تو آگ لگ جائیگی جبکہ ایم کیو ایم کی پتنگ بُو کاٹا بھی ہوسکتی ہے۔ فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے،11مئی کو سوچ سمجھ کر ٹھپہ لگائیں تاکہ اپنے کیے پر پچھتانا نہ پڑے آج کل کی جان لیوا لوڈشیڈنگ کو بھی سامنے رکھیں اور مہنگائی کے جن کو بھی دیکھیں اس کے بعد مہر لگائیں.... بڑھ چکی ہیں ایک دم سے قیمتیں پٹرول کیاس لئے لوگوں کو اب ہوشیار رہناچاہئے٭....٭....٭....٭5 ہزار دلہنیں شادی کے بندھن سے آزادی کیلئے عدالت پہنچ گئیں۔ فرزندان و دختران کی نکاح خوانی پر شادیانے بجائے جاتے ہیں۔گھروں کو قمقموں سے سجایاجاتا ہے اور دخترانِ نیک اختر کو قرآن کے سائے میں پیا گھر رخصت کیاجاتا ہے۔ چار دن کی چاندنی کے بعد پھر یوں ہوتا ہے....ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونقنوحہ غم ہی سہی ،نغمہ شادی نہ سہی جہاں پہ خوشیاں بانٹی جارہی ہوتی ہیں وہاں پہ ماتم شروع ہوجائے تو کیا کیا جائے۔5ہزار دلہنوں کا انصاف کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا بڑے افسوس کا مقام ہے۔کل تک جو ایک دوسرے پر جان نچھاور کررہے تھے اب دشمن بن چکے ہیں۔پھول جیسے چہرے پتھروں کا روپ دھارنے میں زیادہ وقت نہیں لگاتے۔ یہ ساری خرابیاں تب پیدا ہوتی ہیں جب رشتہ طے کرتے وقت فریقین ایک دوسرے کو تعلیم اور کاروباری معلومات ٹھیک نہیں دیتے جب ایک دو بچے ہوجاتے ہیں تو میاں صاحب زوجہ کو پریشان کرنا بھی شروع کر دیتے ہیں۔ایسے مقامات پر والدین کو آگے بڑھ کر معاملات کو سلجھاناچاہئے تاکہ جھگڑے کی نوبت ہی نہ آئے۔ماں کیلئے اولاد کو چھوڑنا بڑا مشکل ہوتا ہے لیکن ظالم شوہر بچوں سمیت اسے عدالتوں میں گھسیٹتے رہتے ہیں یہ کام ختم ہوناچاہئے۔بنتِ حوا کو بلیک میل کرنیکا سلسلہ بھی ختم ہوناچاہئے سوچ سمجھ کر اور چھان پھٹک کر فیصلہ کرناچاہئے کیونکہ یہ کوئی گڈی گڈے کے ویاہ کی طرح کاکھیل نہیں بلکہ ایک سنجیدہ کام ہے دو ناکام منگنیوں پر ایک قطعہ پیش خدمت ہے.... اپنے بارے کیا بتلاﺅں کیا میں کروں کلامدو منگیاں میں نے کی تھیں دونوں ہی ناکام پہلی یوں ناکام ہوئی کہ لڑکی چھوڑ گئیدوسری یوں ناکام کہ لڑکی بن بیٹھی مادام٭....٭....٭....٭ حکمرانوں نے معیشت کا بیڑہ غرق کردیا: خورشید قصوریکون سے حکمران مشرف دور والے یا اس کے بعد والے۔ کچھ فرق تو کریں کیونکہ آپ بھی کبھی حکمران تھے معیشت تو تب بھی کھوکھلی تھی ،دودھ اور شہد کی نہریں پہلے بہہ رہی تھیں نہ ہی اب، غریب پیٹ بھرنے کیلئے پہلے بھی در در کی خاک چھان رہا تھا آج بھی اس کی وہی کیفیت ہے۔آپ کے اکاﺅنٹ پہلے بھی بھرے ہوئے تھے آج بھی بھرے ہوئے ہیں۔ خورشید قصوری جو پہلے انقلاب لائے تھے اب بھی ویسا ہی کوئی چَن چڑھائیں گے۔ خورشید قصوری بمقابلہ سردار آصف علی ۔دیکھیں کون کیا گُل کھلاتا ہے ویسے ہیں تو دونوں ہی چلے ہوئے کارتوس،آزمائے ہوﺅں کو آزمانا کوئی اچھی روایت نہیں ہے۔٭....٭....٭....٭