بدھ ‘ 11 ذیقعد 1434ھ ‘ 18ستمبر2013 ئ

پہلے کٹہرے میں حاضر ہوا اب ہتھکڑی کیلئے بھی تیار ہوں۔ پرویز اشرف۔
سابق وزیراعظم کے ان ارشادات عالیہ کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ موصوف کسی نیک کام یا عوام کی خدمت کے جرم میں کٹہرے تک جا پہنچے تھے اور اب بھی ویسی ہی کسی نیکی کے عوض ہتھکڑیاں بھی لگوانے کو تیار بیٹھے ہیں۔ یادش بخیر یہ وہی ”راجہ رینٹل“ ہیں۔ جن کے دم قدم سے ہماری کرپشن کی تاریخ کو ایک نیا موڑ ملا اور اس میں اتنی تیزی آئی کہ یہ منظر سارے فسانے پر چھا گیا۔ اور خود راجہ صاحب بھی حیرت سے دیکھتے رہ گئے ہوں گے کیونکہ ....
کبھی کہا نہ کسی سے تیرے فسانے کو
نجانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو
دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے یہ عوامی وزیراعظم ملک بھر کے کرپٹ حلقوں کے ”راجہ“ بن گئے اور عالمی سطح پر انکے اس اعزاز کی دھوم سنائی دی گئی۔ یہ ہماری عدالتوں کو نجانے کیا جلدی پڑی تھی کہ ان کیخلاف حاسدین کے کہنے پر مقدمات کھول کر بیٹھ گئیں۔ بھلا ایسی بھی کیا جلدی تھی۔ ابھی تو راجہ صاحب پر رینٹل کے سودے کا سواد چڑھا تھا۔ ابھی تو اس سودے کے خمار سے اسکی بے خودی سے راجہ صاحب مخمور ہی ہو رہے تھے۔ ذرا کچھ دیر تو محفل جمنے دی جاتی۔ آخر یہ محفل عوام کے خون پسینے کی کمائی سے سجی تھی جمی تھی۔ وہ تو یہی سمجھ بیٹھے ہونگے کہ عوامی سرمائے کی لوٹ کھسوٹ کوئی ایسا بڑا جرم نہیں کہ اس پر شرمندہ ہوا جائے یا اس پر فوری عدالتی ایکشن لیاجائے۔ اس لئے آج بھی راجہ صاحب اس ترنگ میں یہ کچھ کہہ رہے ہیں۔ مزہ تو جب تھا کہ کٹہرے میں انہیں عوام کی خدمت کے جرم میں لایا جاتا۔ ہتھکڑی انہیں عوام سے محبت کے جرم میں لگتی....
بڑا مزہ ہے جو محشر میں ہم کریں شکوہ
وہ منتوں سے کہیں چپ رہو خدا کے لئے
٭....٭....٭....٭
پولیس کا قبلہ درست نہ ہوا تو بہت جلد اسلام آباد‘ کراچی کو پیچھے چھوڑ جائے گا۔
جسٹس شوکت صرف اسلام آباد ہی کیوں لاہور سمیت کئی چھوٹے بڑے شہر بھی کرائم کی اس دوڑ میں پوری تندہی سے شریک ہیں اور وہ اگر کراچی کو مات نہ دے سکے تو کم از کم اسکے برابر آنے کیلئے سر دھڑ کی بازی تو لگائے ہوئے ہیں۔جرائم کا گراف اٹھا کر دیکھیں پولیس کی مہربانیاں اور پھرتیاں دونوں سامنے آجائیں گی۔ ہر جرم کے پیچھے نہ سہی مگر ہر مجرم کے پیچھے پولیس کا ہاتھ صاف نظر آجائے گا۔ جو قانون کی وردی پہنے ہوئے ہوتا ہے اس لئے جزا و سزا کی گرفت سے محفوظ رہتا ہے اور بے چارے مظلوم دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ کہتے ہیں....ع
 ”پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی“
مگر جناب ہمارے ہاں الٹا حساب ہے۔ عوام کو پولیس کی مدد کرنا پڑتی ہے۔ مقدمہ درج کرانے سے لے کر انصاف کی دہلیز تک قدم قدم پر مدعی حسب توفیق پولیس کی مالی مدد کرنے پر مجبور ہے۔ جو ایسا نہیں کرتے وہ کف افسوس ملتے رہ جاتے ہیں....
آتا ہے داغ حسرت دل کا شمار یاد
مجھ سے میرے گناہ کا حساب اے خدا نہ مانگ
اراضی پر ناجائز قبضہ‘ بھتہ خوری‘ ٹارگٹ کلنگ‘ اغوا برائے تاوان کے کیس اب چاروں صوبوں میں ”ذرائع آمدنی“ کے طور پر مشہور ہیں اور ان سے حاصل شدہ آمدنی کا ایک معقول حصہ ہماری اسی پولیس کی جیبوں میں جاتا ہے۔ جو ان ناجائز ذرائع آمدنی کو ختم کرنے پر مامور ہے۔ چھوٹی موٹی چوریاں‘ چھوٹے موٹے ڈاکے‘ معمولی مارپیٹ لڑائی جھگڑے کے واقعات میں تو کوئی بھی متاثرہ شخص پولیس کے ہتھے چڑھنا پسند نہیں کرتا کہ جتنا نقصان ہوا ہے اس سے زیادہ پولیس کو نذرانے کے طور پر دینا پڑتا ہے۔ کہتے ہیں کفر کا نظام تو قائم رہ سکتا ہے۔ مگر ظلم کا نظام مٹ جاتا ہے۔ ہم بھی منتظر ہیں کہ کب کون اس ظالمانہ تھا نہ کلچر کے نظام کو بدلتا ہے۔ کہتے ہیں امید پہ دنیا قائم ہے۔ بقول افتخار عارف....
اب اور کتنی دیر یہ وحشت یہ ڈر یہ خوف
گرد و غبار عہد ستم اور کتنی دیر
٭....٭....٭....٭
جونا گڑھ کو پاکستان میں ضم کرنے کیلئے بھارت سے مذاکرات شروع کئے جائیں۔ نواب آف جونا گڑھ
لگتا ہے ہمارے جہانگیر خانجی واقعی بھولے بادشاہ ہیں جو آج بھی اس امید پر زندہ ہیں کہ بھارت سے بات چیت کرکے اس سے مقبوضہ ریاستیں واپس حاصل کی جاسکتی ہیں۔اگر ایسا ممکن ہوتا تو کیا مسئلہ کشمیر ہنوز حل طلب ہوتا اور آئے روز کشمیری اس طرح مارے جارہے ہوتے ....
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
 جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
 بھارت سے مذاکرات کے ذریعہ کسی بھی مسئلے کو حل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔قیام پاکستان سے آج تک کی تاریخ گواہ ہے ۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی بھی مسئلہ بات چیت سے حل نہیں ہوا۔سوائے 1971 میں جب 90ہزار جنگی قیدیوں کا مسئلہ بھٹو صاحب نے نہایت دانشمندی سے حل کرایا اس میں انکی سیاست کے ساتھ انکی خوش قسمتی کا بھی عمل دخل تھا کیونکہ اندرا گاندھی فتح کے نشے میں سرشار تھیں اور اتنی بڑی تعداد میں قیدیوں کو سنبھالنا بھی ان کیلئے ایک بڑا مسئلہ تھا۔بہر کیف جو ہونا تھا ہوچکا۔اب کشمیر ہو ‘مناوادر یا جوناگڑھ‘ انکے حصول کیلئے ہمیں مذاکرات کی اہمیت سے انکار نہیں مگر اسکی کامیابی کیلئے ہمیں ہر طرح پہلے سے تیاری کرنا ہوگی اگر بھارت بات چیت سے قائل نہیں ہوتا تو پھر ہمیں اپنی طاقت سے اسکے کس بل نکالنا ہوں گے مگر اس آخری مرحلے سے پہلے ہمیں اپنے سیاسی پہلوانوں کو عالمی سیاسی و سفارتی میدان کے اکھاڑے میں اتارنا ہوگا جو سیاسی داﺅ پیچ کھیل کر ان مسائل کا تصفیہ کرائیں۔ آخر بابائے قوم نے بھی بنا جنگ لڑے پاکستان حاصل کیا تھا وہ اگرکچھ دیر اور زندہ رہتے تو یہ مسائل بھی حل کرچکے ہوتے آخر ہمارے یہ سیاستدان اور بیورو کریٹ جو خود کو سقراط، بقراط اور افلاطون سمجھتے ہیں یہ کس دن کام آئینگے کیا یہ صرف عوام پرحکمرانی کیلئے اور لوٹ مار کیلئے سیاست کرتے ہیں۔