عوام کش پالیسیاں

سکندر خان بلوچ( ملتان)
آج سے تقریباً تین ہزار سال پہلے عظیم ہندو فلاسفر چانکیہ کوٹیلیہ نے آداب شہنشاہت پر بحث کرتے ہوئے سرکش ماتحتوں کو قابو میں رکھنے کے بھی کچھ گر لکھے تھے۔ سب سے اہم گر یہ تھا کہ ایسے لوگوں کو ہمیشہ ایسے چکر میں رکھیں کہ وہ بادشاہ سلامت کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ ہی نہ سکیں۔معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے جمہوری حکمرانوں نے یہ اصول پڑھ لئے ہیں اور پوری یکسوئی سے اس پر عمل پیرا ہیں۔ وفاقی حکومت نے عوام کو بجلی ۔ گیس اور پیٹرول کے شکنجے میں کچھ اس طرح سے جکڑ رکھا ہے کہ اب وہ کسی اور بات کا سوچ ہی نہیں سکتے۔ معصوم بچوں سے لیکر بستر مرگ پر پڑے بوڑھوں تک بجلی کے انتظار میں تڑپ تڑپ کر وقت گزارنے پر مجبور ہیں اور حکومت کانوں میں روئی ٹھونسے اس طرح محو استراحت ہے کہ روز مرہ کی ہڑتالوں۔ مظاہروں اور توڑ پھوڑ کی آواز بھی وہاں تک نہیں پہنچ پاتی۱ور اگر پہنچتی بھی ہے تو اہل اقتدار کو پرواہ نہیں۔
وفاقی حکومت نے ظلم و ستم کے اپنے گر ایجاد کر لئے ہیں تو صوبائی حکومت نے عوام کو ہروقت پریشان رکھنے کے اپنے طریقے ایجاد کر لیے ہیں اور یہ طریقے وفاقی حکومت کے طریقوں کے علاوہ ہیں۔ بے بس عوام کو وفاقی حکومت کے ظلم توسہنے ہی پڑتے ہیں لیکن اسکے ساتھ صوبائی حکومت کے ظلم کے تازیانے بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ ہمارے حکمران اتنے ظالم ہیں کہ مارتے بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے۔ انگریز یہاں دو سو سال حکومت کرگئے اور سنتے ہیں کہ ”شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے تھے“ عوام کو کم از کم یہ اعتماد ضرورہوتا تھا کہ انہیں انصاف ملے گا۔انگریز اس ملک کے باسی نہ تھے نہ ہی اس کلچر کی پیداوار تھے ا ور نہ ہی انہیں عوام کاکوئی درد تھا لیکن ان کی پالیسیاں کبھی بھی غیر حقیقت پسندانہ نہ تھیں۔ یہی چیز ہمیں اپنے راہنماﺅںمیں نظر نہیں آتی۔اگرانگریز حکومت کی کامیابیوں کا تجزیہ کیا جائے تو واحد وجہ ہمارے اس وقت کے حکمرانوں کی ”عوام کش پالیسیاں “ہی تھیںجنہوں نے انگریزوں کی کامیابی کےلئے راہ ہموار کی۔بد قسمتی کہ یہ پالیسیاں آج بھی جاری ہیں۔
ہمارے اپنے جمہوری راہنما جو اسی مٹی اور اسی کلچر کی پیداوار ہیں۔ اسی سرزمین پر جنم لیا۔ اسی معاشرے میں پروان چڑھے۔ اللہ نے انہیں اپنے ہی لوگوں پر حکمرانی کا اعزاز بخشا تو وہ اقتدار میں پہنچ کر عوام کی ضروریات ۔ خواہشات اور حالات کے مطابق پالیسیاں کیوں نہیں بنا سکتے کہ جس سے خلقِ خدا کا بھلا ہو۔ لوگوں کو سکون نصیب ہو۔ لوگ اطمینان سے زندگی گزار سکیں اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ ہمارے پنجاب کے خادم اعلیٰ یقینا ایک محب وطن شخص ہیں۔خواہشات بھی نیک ہیں ۔ انکے دل میں عوام کا درد بھی ہے لیکن ان کی پالیسیاں بعض حالات میں عوام کش ثابت ہورہی ہیں جن پر بہت کچھ کہا جاسکتا ہے۔
وفاقی حکومت کے متعلق تو اس لیے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ عوام مریں یا جئیںاسے پرواہ نہیں لیکن صوبائی حکومت سے یہ شکوہ ضرور ہے۔ اس حکومت کی خوبی یہ ہے کہ بیک وقت کئی محاذ کھول رکھے ہیں اور حل کسی کا بھی نہیں نکلتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے مسائل حل کرنے کی بجائے مسائل پیدا کرنے اور انہیں الجھانے کےلئے کوئی خصوصی ٹیمیں بنا رکھی ہیں اور کچھ مسائل تو بلاوجہ پیدا کر دئیے گئے ہیں۔ اس وقت پنجاب میں دو اہم مسئلے ہیں جوغیر ضروری طور پر الجھا دئیے گئے ہیں۔ اول تو ڈاکٹروں کا مسئلہ ہے اور یہ اس حد تک سنگین ہو گیا کہ لوگ ہڑتال پر جانے کےلئے مجبور ہو گئے۔ ڈاکٹرز ہمارے معاشرے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔ اپنے حقوق سمجھتے ہیں۔ یہ کہنا بھی بجا نہیں کہ یہ سب حریص لوگ ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے بھی یہ لوگ ہڑتال پر گئے تھے ۔ مسائل حل کرنے کےلئے حکومت نے وعدے بھی کئے لیکن ان پر مکمل طور پر کسی نہ کسی وجہ سے عمل نہ ہوسکا۔ ڈاکٹروں کے بقول یہ مسئلہ افہام و تفہیم سے حل ہو سکتا تھا لیکن حکومت نے خوامخواہ الجھا دیا جس سے کئی بے گناہ انسانی جانیں موت کے منہ میں چلی گئیں۔پچھلے سال ڈینگی اور پھر جعلی ادویات سے بھی یہی کچھ ہوا۔ ذمہ داری کسی نے بھی قبول نہ کی۔ دوسرا مسئلہ آرٹس گریجوئیٹس کی ملازمت کا ہے۔ پہلے ڈاکٹر سڑکوں پر تھے اب آرٹس گریجویٹ بھی سڑکوں پر ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ کیا اپنے حقوق لینے کےلئے سڑکوں پر آنا۔ ہڑتالیں کرنا۔ ٹائر جلانا۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا ضروری ہے؟ آخرایسی پالیسی بنانے کی کیا مجبوری ہے جو70 ہزار نوجوانوں کے مستقبل کو بیٹھے بٹھائے تاریک کر دے۔ انکے مستقبل پر بے رحمی سے کلہاڑا چلا دے۔ پالیسی بھی بڑی حیران کن ہے کہ اس دفعہ صرف سائنس گریجوئیٹس ہی ایجوکیٹرز بنیں گے۔ یہ شاید کسی بھی مہذب ملک میں پہلی دفعہ ہو رہا ہے کہ آرٹس گریجوئیٹس کو یکسر ہی ملازمتوں کےلئے نظر انداز کر دیا جائے۔ شنید یہ ہے کہ آرٹس کی سیٹوں پر بھی سائنس گریجوئیٹس ہی کو رکھا جا رہا ہے۔ اسے کیا کہا جائے کہ ایک آرٹس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ MA.M.Edکے مقابلے میں صرف F.Scکو ترجیح دی جائے۔ اس سے زیادہ ظلم بھلا کیا ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ سڑکوں پر نہ آئیں تو کیا کریں؟
موضع پاتوالی تحصیل تلہ گنگ ضلع چکوال سے مجھے ریٹائرڈ صوبیدار مطلوب حسین ملک نے دکھ بھرے انداز میں لکھا کہ وہ کن اذیت ناک حالات سے گزر رہا ہے۔ مطلوب صاحب کے آباﺅ اجداد کا پیشہ سو سال سے سپہ گری ہے۔ پہلی جنگ عظیم سے لیکر اب تک ہونیوالی تمام جنگوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ سرحدوں کی حفاظت کے علاوہ کبھی کچھ سوچا ہی نہیں اور نہ ہی سوچنے کی خواہش پیدا ہوئی ۔ جو لوگ فوجی ماحول سے واقف ہیں انہیں اندازہ ہے کہ فوجی زندگی کتنی مشکل اور قربانی طلب ہے خاص کر لوئر رینکس کےلئے۔ دفاعی ضروریات اس نوعیت کی ہیں کہ آج سیاچن پر اور کل تھر میں۔ ایک دن چمن میں اور اگلے دن بھمبرمیں۔ دفاعی ضروریات کے پیش نظر فیملی لائف کا کوئی تصور نہیں اور نہ ہی ہر جگہ فیملی رہائش کی سہولت موجودہے۔ ایسے فوجیوں کےلئے اپنے بچوں کو تعلیم دلانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے لیکن اس عظیم سپاہی نے اپنے فرائض کےساتھ ساتھ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی اور انہیں فخر ہے کہ انکی اولاد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ بیٹے تو خاندانی پیشہ سپہ گری میں چلے گئے لیکن مسئلہ آگیا تین بیٹیوں کا جنہیں پنجاب یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ زندگی کا پوراسرمایہ انکی تعلیم پر خرچ کردیا۔ B.Ed, M.Ed جیسی تعلیمی ڈگریاں حاصل کیں اور حالات کی ستم ظریفی کہ تینوں بیٹیاں حکومتی پالیسیوں کا شکار ہوگئیں۔ پچھلے کئی سالوں سے صوبیدار صاحب نے ہر حکومتی ادارے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ سیاستدانوں کی قدم بوسی کی ۔ عدالتوں کے سامنے رویا۔ آرمی چیف اور وزیراعلیٰ کے سامنے فریاد کی لیکن بیٹیوں کےلئے ملازمت حاصل نہ کرسکا۔ ملازمت کے حصول کےلئے بھاگ بھاگ کر دل کا مریض ہو گیا لیکن کوئی سننے والا نہیں۔ F.Sc کو تو ملازمت مل سکتی ہے لیکن M.Ed کو نہیں۔ یہ ہے ہمارے ملک کا انصاف۔ بقول صوبیدار صاحب ”اس سے تو بہتر تھا کہ میں کسی جنگ میں شہید ہوجاتا۔ یہ ناانصافی کا ظلم تو برداشت نہ کرنا پڑتا“ افسوس کہ یہی حالت باقی گریجوئیٹس کی ہے۔ معلوم نہیں وزیراعلیٰ صاحب کیسے معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں؟ ایسا نظر آتا ہے کہ اب آئندہ ملک میں صرف سائنسدان ہی پیدا ہونگے۔ ججز‘ وکلائ‘ ماہرین تعلیم‘ فوجی‘ سیاستدان‘ تاجر‘ کسان‘ سب سائنسدان ہونگے۔ یہ ماہرین عمرانیات کےلئے ایک نیا تجربہ ہوگا۔ ویسے وزیراعلیٰ صاحب کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ پاکستان بنانے والے سائنسدان نہ تھے۔صوبیدار صاحب کو اعتماد ہے کہ نوائے وقت مظلوم آرٹس گریجوئیٹس کو انصاف دلا سکتا ہے۔ اسی لئے وہ ہر طرف سے مایوس ہوکر نوائے وقت کے درپر آیا ہے۔
جناب خادمِ اعلیٰ صاحب بہت ادب سے گذارش ہے کہ ایسی کوشش سراسر فطرت کےخلاف ہے۔ ہر انسان سائنسدان نہیں ہو سکتا نہ ہی ایسا معاشرہ ممکن ہے۔ آپکی اس پالیسی سے سائنسدان تو شاید پیدا نہ ہوسکیں لیکن 70ہزارنوجوانوں کا مستقبل تباہ ہوجائیگا۔ آخر ان کا قصور کیا ہے؟ یہ پاکستانی ہیں۔ تعلیم یافتہ ہیں۔ یہ اپنا حق مانگ رہے ہیں انہیں انکا حق دیں۔ آرٹس کے بغیر کوئی معاشرہ زندہ نہیں رہ سکتا نہ ہی ترقی کر سکتا ہے۔ بصد احترام گزارش ہے کہ ایسی پالیسیوں سے بچیں جو معاشرے میں تفرقہ پیدا کر یں۔ ان سے معاشرتی نقصان نا قابل برداشت ہوگا۔ ہمارا یہی تو قومی المیہ ہے کہ ہماری ریلوے پالیسی ایسے لوگ بناتے ہیں جو کبھی ریلوے میں سفر نہیں کرتے۔ میڈیکل پالیسیاں وہ لوگ بناتے ہیں جو سرکاری ہسپتالوں سے علاج نہیں کراتے اور تعلیمی پالیسیاں وہ لوگ بناتے ہیں جنہیں سرکاری سکولوں سے کوئی تعلق نہیں۔ خدا کےلئے نوجوانوں کا مستقبل ایسے پالیسی سازوں کے ہاتھ میں نہ دیں جنہیں نوجوانوں کی مشکلات کا اندازہ ہی نہ ہو۔