اتوار ‘ 26 ربیع الاوّل 1436ھ‘ 18 جنوری 2015ئ

اتوار ‘ 26 ربیع الاوّل 1436ھ‘ 18 جنوری 2015ئ

لیبیا میں ملیشیا اتحاد کا جنگ بندی کا اعلان!
اب باقی کچھ بچا نہیں تو ملیشیا کو جنگ بندی کا خیال آ ہی گیا ورنہ جب تک لیبیا میں لوٹ مار، خانہ جنگی اور بربادی کی داستان رقم کرنے کیلئے جو کچھ انکے بس میں تھا وہ انہوں نے کیا، ہزاروں افراد مارے گئے، کھربوں کی املاک تباہ ہوئیں، اربوں روپے ان جنگجو افراد نے لوٹے، جب ملک کاٹھ کباڑ میں تبدیل ہو گیا تو انہوں نے ازراہِ ہمدردی جنگ بندی کا اعلان کر کے اپنے امن پسند، صلح جو ہونے کا اعلان کر دیا۔ ایسے ہی موقعوں کیلئے چچا غالب کا یہ شعر بالکل فٹ آتا ہے ....
کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زودِ پشیماں کا پشیماں ہونا
یہ وہ طاقتیں اور قوتیں ہیں جو ہمیشہ ”برق گرتی ہے بے چارے مسلمانوں پر“ کے مصداق انہیں پر گرجتی اور برستی ہیں اگر یہ فتنہ و فساد کی بجائے اپنی قوت و طاقت مثبت مقاصد کیلئے استعمال کرتے تو دنیا دیکھتی کہ لیبیا کیسے ترقی کرتا ہے۔ مگر افسوس یہ لوگ جو جانتے ہیں کہ حکومت انہیں کسی اور طریقے سے مل نہیں سکتی تو چلو لوٹ مار کر کے کچھ نہ کچھ خزانہ جمع کرنے کی سوچتے ہیں۔ ایسے لوگ تقریباً تمام اسلامی ممالک میں پائے جاتے ہیں جو ہزار دو ہزار کا مجمع لگا کر حکومت سنبھالنے کیلئے چڑھ دوڑتے ہیں جسکے نتیجے میں پورے کا پورا سسٹم ہی بیٹھ جاتا ہے جیسے ہمارے ملک میں اوس پڑے تو بجلی کا سارا نظام ٹرپ کر جاتا ہے اور لوگ گھنٹوں اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتے پھرتے ہیں۔ چلیں دیر آید درست آید اگر ملیشیا اتحاد کو عقل آ گئی ہے تو خدا کرے باقی مسلح جنگجوﺅں کو بھی عقل آ جائے اور وہ ہتھیار چھوڑ کر اب تباہ شدہ ملک کو دوبارہ تعمیر کریں پھر کسی نئی جنگجوئی کیلئے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
چینی صدر آئندہ ماہ پاکستان آئیں گے : توانائی کے منصوبوں کا افتتاح کریں گے!
شاید اس لئے حکومت نے پیش بندی کے طور پر بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کےساتھ ساتھ پٹرول کی ”لوڈشیڈنگ شروع کر دی ہے تاکہ جب چینی صدر پاکستان کا دورہ کریں تو لائن میں لگے لوگوں کی طویل قطاریں دیکھ کر انہیں بتایا جا سکے کہ دیکھیں سر! ہماری قوم میں کتنا ڈسپلن ہے اور وہ قطار بندی کی اہمیت جانتی ہے۔ اس طرح دنیا بھر میں ہمارا بدنظمی کے حوالے سے اُبھرا امیج بھی بہتر ہو جائیگا۔ ابھی ایک ماہ پڑا ہے انکے دورے میں اس دوران حکومتی سطح پر ”اپنا روزگار“ اور ”اپنا گھر“ جیسے فلاحی منصوبوں کی طرح حکومت اب ”اپنی بائیسکل“ کے عنوان سے عوام میں سستی قیمت پر قسطوں میں چائنا کی سائیکلوں کی فراہمی کا کوئی منصوبہ شروع کر دے تو چائنا کے صدر بھی پاکستان آمد پر ہر طرف پرانے چین کی طرح سڑکوں پر سائیکلیں رواں دواں دیکھ کر خوش ہو جائینگے۔ بے شک اس منصوبے کا بعد ازاں افتتاح چین کے صدر سے ہی کروایا جائے۔ توانائی کے اتنے منصوبوں کا افتتاح ہماری موجودہ حکومت کے دور میں ہو چکا ہے کہ اب ہمیں آئندہ کئی برسوں تک کسی ہنگامی فوری منصوبے کی ضرورت نہیں ہے بشرطِ اول کہ یہ کاغذی منصوبے کام بھی شروع کر دیں جو ہنوز نندی پور کے ناکام پلانٹ کی طرح ٹھپ پڑے ہیں اور حکمران ایک بار پھر راجہ رینٹل کے مشہور و معروف بدنام زمانہ رینٹل پاور پلانٹ والوں سے رجوع کرنے پر مجبور ہو گئی ہے اسکے باوجود حکمران توانائی کے درجنوں منصوبوں کی جھوٹی آس دلاتے ہیں جبکہ ڈیڑھ برس ہونے کو ہیں فی الحال ایک یونٹ بھی بجلی یا گیس کی پیداوار میں اضافے کا تو پتہ نہیں البتہ لوڈشیڈنگ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ کاش عمران خان اس بار جوڈیشل کمیشن کے ساتھ ساتھ ان توانائی کے منصوبوں میں اربوں روپے کمیشن کھانے والوں کےخلاف بھی دھرنا دینے کے لئے باہر نکلیں تو پٹرول پمپوں پر لگی قطاروں میں کھڑے، بجلی اور گیس کی کمی سے متاثر لاکھوں افراد خود بخود اسکے پیچھے چل پڑیں گے مگر خان صاحب تو ....
جانتا ہوں ثواب زہد و اطاعت
پر طبیعت ادھر نہیں جاتی
والے شعر کی طرح اس طرف سے آنکھیں اور کان بند کئے ہوئے ہیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
21ویں ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کے قیام نے نظریہ ضرورت کو زندہ کر دیا : حفیظ پیرزادہ!
گڑھے مُردے اکھاڑنے میں ہماری قوم لاجواب ہے۔ بے شک مارشل لا یا اس سے ملتی جُلتی کوئی بھی چیز کبھی پاکستانیوں یا پاکستان کو مرغوب نہیں رہی مگر یہاں جمہوری حلوہ بھی اپنے بھاری پن کی وجہ سے ثقیل ہونے کے سبب عوام کے نازک معدوں میں جلد ہضم نہیں ہوتا اور یوں حکمرانوں سے لےکر عوام تک بدہضمی کا شکار ہو جاتے ہیں تو اس کا حل ہمارے طالع آزما جرنیلوں نے مارشل لا کی ”جادوئی پُڑی“ میں تلاش کر لیا ہے۔ باوردی جرنیلی حکومت پر نفرین کرنیوالے اکثر جمہوری زعما اسی مارشل لائی سیاست کے بطن سے ہی جنم لے کر سامنے آئے ہیں۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو تو پہلے سول و آرمی عہدوں کو ملا کر ملک کے پہلے چیف مارشل لائی وزیراعظم رہ چکے ہیں ان سے لے کر موجودہ وزیراعظم تک سب مارشل لا کے بطن سے جنم لینے والی جمہوریت کے پروردہ ہیں۔ گویا بزبان شاعر ....
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
ان کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
بےشک پوری قوم نے مارشل لا کیخلاف جدوجہد کی ہے مگر اس کا صلہ صرف سیاستدان، صنعتکار، جاگیر دار اور بیورو کریٹس ہی اٹھا سکے عوام ہنوز جمہوری ثمرات سے بہت دور ہیں، اوپر سے اس ایک آمر نے مذہب کے نام پر انتہا پسندی کو فروغ دیا اور دوسرے نے ملک کو انجانی جنگ میں جھونک دیا۔ تو اسی انتہا پسند سوچ رکھنے والوں نے جمہوریت ہو یا مارشل لا دونوں ادوار میں ملک اور قوم کو دہشت گردی کی لپیٹ میں لے لیا ہے تو اب اس کا تریاق بھی فوجی عدالتوں کی صورت میں تلاش کیا جا رہا ہے۔ مثل مشہور ہے ”زہر کو زہر ہی مارتا ہے“ ضیاالحق اور مشرف نے ہمیں جس جہنم میں دھکیلا تھا اب اس سے نکالنے کیلئے بھی انہی کے اوزار استعمال کرنے پڑ رہے ہیں تو مضائقہ کیا ہے۔ عوام بہرحال اس جہنم زار سے نکلنا چاہتے ہیں‘سیڑھی کوئی بھی بنے۔ رہی بات نظریہ ضرورت کی تو اسے ہماری سول عدالتوں نے ہی جائز قرار دیا تھا جسکے ثمرات ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ کیا یہ بھی کوئی بھولنے والی بات ہے۔