ہفتہ‘18 شوال المکرم 1432 ھ‘ 17 ستمبر2011

ذوالفقار مرزا کہتے ہیں‘ رحمان ملک نے جھوٹ بولا‘ مرتے وقت کلمہ نصیب نہیں ہو گا‘ گورنر سندھ کے کہنے پر 60 کلرز چھوڑے گئے‘ کمیشن بنا تو ثبوت پیش کرکے ننگا کردوں گا۔
رحمان ملک نے کہا تھا کہ میں نے کوئی کِلر نہیں چھوڑا‘ اگر ایسا کیا تو مرتے وقت کلمہ پڑھنا نصیب نہ ہو۔ کلمہ نہ پڑھنے کا جواب کلمہ نہ پڑھنے سے دینا‘ اپنی نوعیت کا پہلا سوال و جواب ہے جس کا جواب نہیں۔ بسااوقات جس نے جنت میں جانا ہو‘ اسے اللہ کلمہ پڑھنے کی توفیق بھی دے دیتا ہے۔ اس لئے مرزا صاحب کلمہ نصیب ہونے نہ ہونے کے معاملے کو اللہ پر چھوڑ دیں کیونکہ اللہ کی مرضی ہے کہ اپنی رحمت کے تحت کسی کو بھی کلمہ پڑھنا نصیب کر دے۔ البتہ اس وقت کراچی میں جو حالات ہیں اور جو گزر چکے ہیں‘ انکی ذمہ داری حکمرانوں کی گردن پر ہے۔ اگر ایک کتے کیلئے حکمران ذمہ دار ہو سکتا ہے‘ تو کہئے ایک انسان کی موت حکمرانوں کے تساہل کے باعث ان پر کیا عذاب لائے گی؟ اور انکی قبروں میں اور قیامت کے روز کیا حالت ہو گی‘ اس سے قرآن حکیم بھرا پڑا ہے۔
یہ ایک قرآنی جملہ کیا خبر دیتا ہے کہ ”ان بطش ربک لشدید (بلاشبہ تیرے رب کی پکڑ شدید ہے) اس دھرتی کا خدا سب کچھ مانیٹر کر رہا ہے‘ کیا پتہ مرزا صاحب بھی کوئی آسمانی مانیٹرنگ کا حصہ ہوں اور انکی ڈیوٹی بالخصوص رحمان ملک پر لگائی گئی ہو‘ اگر کمیشن کلرز کو بچانے والوں کو ننگا کر دے تو اس سے زیادہ اچھی بات کیا ہو گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کمیشن آخر بنے گا کب‘ جب مرزا کی آواز بھی دب جائیگی؟ مرزا صاحب کے پاس موجود ثبوتوں کا واسطہ ہے کہ کمیشن بنا دیا جائے تاکہ رحمان ملک کا کلمہ جو اٹکا ہوا ہے‘ وہ تو واگزار ہو۔ مرزا جی!
تو زندگی ہے پائندگی ہے
باقی ہے جو کچھ سب خاک بازی
٭....٭....٭....٭
پیناڈول‘ پیراسیٹامول گولیاں اور شربت نایاب ہیں‘ ڈی سی او کے چھاپے‘ 14 میڈیکل سٹور سربمہر کر دیئے گئے‘ کیونکہ وہ پیناڈول نہیں رکھتے اور دوسری ادویات مہنگے داموں بیچ رہے ہیں۔
جب بھی وطن عزیز پر کوئی آسمانی‘ زمینی آفت اور بحران آتا ہے تو انہیں اٹھارہ کروڑ افراد میں سے ”ڈینگی انسان“ اپنا کام دکھانا شروع کر دیتے ہیں اور قوم کے درد میں اضافے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی ناجائز کمائی میں اضافہ کرتے ہیں۔ سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک 63 برسوں میں کسی کو سرعام عبرتناک سزا نہیں دی‘ وگرنہ ایک ڈینگی تو کیا ڈِنگے لوگوں کے سارے ڈِنگ سیدھے ہو جاتے‘ مگر یہاں ایسا کبھی نہ ہو گا کیونکہ خدشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ”بات پہنچی تیری جوانی تک“ ملک اور بالخصوص پنجاب درد سے کراہ رہا ہے اور منافع خور ادویات فروش‘ درد فروشی کا دھندہ کر رہے ہیں۔
دنیا کی رہی سے رہی ہوئی قوم بھی ایسے مواقع پر اپنا مفاد قربان کر دیتی ہے‘ مگر حکمرانوں کی مثالی حکمرانی کے جرثومے شاید ہماری رگوں میں بھی رچ بس گئے ہیں۔ جس شعبے کو دیکھو‘ وہ بحران کا شکار ہے۔ اسکے ذمہ داران اسے اس طرح دیمک بن کر چاٹ گئے ہیں کہ جس شعبے کو بھی چیک کرو‘ حال یہ ہے کہ....
نہ بادہ ہے نہ صراحی‘ نہ دورِ پیمانہ
فقط نگاہ سے رنگیں ہے بزمِ جانانہ
اور یہ جو ایک نگاہ ہے‘ وہ کس کی نگاہ میں نہیں‘ کوئی تجاہل سے کام لے تو اس کا علاج؟ آخری دلگداز بات یہ کہ جن پرائیویٹ ہسپتالوں نے ڈینگی کا مفت علاج کرنے کا علان کیا تھا‘ ان میں سے کئی بدستور دونوں ہاتھوں سے مرنے والوں کو لوٹ رہے ہیں۔
٭....٭....٭....٭
ریلوے کے پاس انجن آئل ختم‘ مزید انجن کھڑے کر دیئے گئے۔
520 انجنوں میں سے 370 خراب ہیں‘ ٹرینیں چلانے کیلئے ایک روز میں تیل کے 45 ڈرم درکار جبکہ ایک ڈرم بھی موجود نہیں۔ وزارت خزانہ نے ریلوے کو دو ارب روپے فنڈ جاری کر دیا۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی ریلوے ایاز صادق کا غلام احمد بلور سے استعفے کا مطالبہ۔
جو آخری بات ہے‘ وہی پہلی بات ہے‘ ایاز صادق کی رائے کو غلام احمد بلور مان لیں تو ان پر یہ روز روز کے اعتراضات ختم ہو جائینگے اور واقعتاً ذہنی طور پر بھی فارغ البال ہو جائینگے اور ریلوے کے بحران کو بھی افاقہ ہو گا۔ ریلوے کو تب سے ڈینگی ہے‘ جب سے بلور صاحب نے اس محکمے کو سنبھالا ہے۔ اگر 520 انجنوں میں سے 370 خراب ہیں تو باقی ڈیڑھ سو انجن کارآمد رہ جاتے ہیں۔ 370 انجنوں کی خرابی وزیر ریلوے کی کارکردگی میں خرابی کے باعث ہے اور یہ خرابی اتنا عرصہ رہنے کے باوصف لاعلاج ہو چکی ہے۔ وزارت خزانہ نے اس حکومتی پیدا کردہ کساد بازاری میں بھی اگر دو ارب روپے فنڈز جاری کر دیئے ہیں تو کوئی تو ہونا چاہیے جو انکے استعمال سے پہلے قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے سربراہ کی رائے کو استعمال کرا دے‘ ورنہ یہ دو ارب استعمال ہو جائینگے اور ریلوے ناقابل استعمال رہے گی۔ اس لئے یہ رسک نہ لیا جائے اور یہ دو ارب روپے کسی نئے فعال و دیانتدار وزیر ریلوے کے حوالے کئے جائیں اور اسکی بھی مانیٹرنگ خفیہ طور پر کی جائے۔
10 انجن کیا پوری ریلوے کھڑی ہے‘ اور وزیر ریلوے کسی اعلیٰ سنگھاسن پر کھڑے ہیں۔ وہ اپنی ناکامی بتا کر اپنی نااہلی کے ثبوت پیش کرتے جا رہے ہیں اور وزیراعظم شاید سیاسی حوالے سے ایک بہت بڑے ادارے تباہی کے دہانے سے نکالنے کیلئے کچھ نہیں کر رہے۔ قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کو شاید کسی خراب انجن نے یہ تجویز دی ہو گی کہ بلور کو چلتا کر‘ میں چل پڑوں گا۔